07:20 am
جرمِ ضعیفی کی سزا

جرمِ ضعیفی کی سزا

07:20 am

ہم اکثر یہ خوبصورت فقرہ سنتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی ۔ بالآخر جنگ لڑنے والے فریق مذاکرات کی میزپر ہی بیٹھ کے مسائل حل کرتے ہیں ۔ یہ جملہ بھی اکثر پڑھنے کو ملتا ہے کہ ترقی کے لیے قوموں کو ٹینکوں جنگی طیاروں اور ایٹمی ہتھیاروں کے بجائے تعلیم اور صحت سمیت دیگر ضروریات زندگی کی ضرورت ہے۔ ہمارے کرمفرما روس کی مثال پیش کرتے ہیں کہ دیکھو بھئی جدید ہتھیاروں کے ڈھیر بھی سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے سے نہیں بچا سکے ۔ اس قسم کی گفتگو اور دلائل دینے والے لکھاری ، تجزیہ کار اور بزعم خود دانشور گھما پھرا کے توپوں کا رخ پاکستان کی دفاعی استعداد پر اُٹھنے والے اخراجات کی جانب کرلیتے ہیں ۔ سادہ لوح لوگ ابہام کا شکار ہونے میں دیر نہیں لگاتے اور اس شبے میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ آج یہ بے جادفاعی خرچہ بند کردیا جائے تو یکا یک ملک میں دودھ شہد کی نہریں بہہ نکلیں گی ! تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر ہو جائیگی ! بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ ختم ہو جائیگی ۔ غرض یہ کہ ملک کا بگڑا نظام تیر کی طرح سیدھا ہو جائیگا ۔  غلط مبحث کی انتہا تب ہوتی ہے جب یہی کرمفرما ماضی کے مارشل لائوں ، سیاسی بحرانوں اور بعض حضرات کی انفرادی مہم جوئی کو اداروں کے سر تھوپ کے واویلا مچاتے رہتے ہیں ۔ حسن اتفاق تو نہیں کہ یہ واویلا بھی اکثر دفاعی اداروں کے خلاف ہی ہوتا ہے۔آج کل پاک بھارت جنگ کا تذکرہ زوروں پر ہے کیونکہ مودی سرکار کی جانب سے پاکستان کو سبق سکھانے کے عزم کا اظہار تسلسل سے کیا جا رہا ہے بھارتی معاشرے کے مختلف طبقوں کی جانب سے مطالبہ سامنے آرہا ہے کہ بھارتی سورما علی الاعلان یدھ کے میدان میں پاکستانی سینا کو دھول چٹا ہی دیں ۔ ایسی صورتحال میں کیوں نہ اس معنی خیز استدلال کا ہلکا پھلکا تجزیہ کر لیا جائے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہوتی اور بہر کیف معاملات مذاکرات کی میز پر طے پاتے ہیں۔ یہ کتابی بات ہے اور بظاہر ہمارے مخصوص زمینی حقائق سے قطعی مطابقت نہیں رکھتی ۔
 
 کیوں نہ اس بات پہ بھی غور کریں کہ آخر دو یا دو سے زیادہ ممالک میں جنگ کی نوبت آتی ہی کیوں ہے؟ جنگ چھڑنے کی صورت میں ایک ملک جارح قرار پائے گا اور دوسرا اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے جنگ کرنے پر مجبور ہوگا ۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں فریقین میں سے یہ مشورہ کس کو دیا جائے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہوتی ، جارح کو یا دفاعی جنگ لڑنے والے کو ؟ کمزور کو یا طاقتور کو ؟ ایک اور دلچسپ پہلو بھی قابل غور ہے ! اگر کمزور فریق طاقتور جارح ملک سے پٹتے ہوئے یہ کہے کہ جناب جنگ مسائل کا حل نہیں ہوتی لہٰذا آئیے بیٹھ کے مذاکرات کر لیں تو ایسے مشورے کا کیا انجام ہوگا؟ ہم خیالی گھوڑے نہیں دوڑا رہے ۔ ذرا پہلی جنگِ عظیم کا اختتام ذہن میں لائیے ! مذاکرات کی وسیع میز پہ ٹریٹی آف ورسیلز کی شکل میں جو دستاویز جرمنی پر مسلط کی گئی اس کے رد عمل میں ہٹلر کی زیر قیادت جرمن قوم دوبارہ اُٹھی اور بات دوسری جنگ عظیم تک جاپہنچی ۔ جنگ کی ہولناکیوں سے انکار نہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ اکثر جنگ کے بعد ہونے والے مذاکرات جنگ سے زیادہ تباہی کا باعث بنتے ہیں ۔ جنگ کسی خودکار عمل کا نام نہیں ۔ مخالف فریق یا قوم پر غلبہ پانے کی ہوس قوموں کو جنگ کے منہ میں دھکیلتی ہے ۔ جنگ کے بطن سے جنم لینے والے مذاکرات میں بھی فریقین ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ پلہ اُسی فریق کا بھاری پڑتا ہے جو میدان جنگ میں بھی غالب رہا ہو ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج دنیا اسرائیل کے بجائے فلسطینیوں کی آہ و بکا پر بھی کان دھرتی۔ امریکہ کا صدر کشمیریوں کو دہشت گرد نہ کہتا ۔ افغانستان میں بمباری کا نشانہ بننے والے نہتے شہریوں اور معصوم بچوں کے سوگ میں عالمی میڈیا اور اقوام متحدہ بھی اشک بہاتے۔
 قانون فطرت یہ ہے کہ کمزور کو نہ تو عزت کی زندگی نصیب ہوتی ہے اور نہ ہی عزت کی موت ۔ دنیا کا سب سے پرامن مذہب اسلام بھی دشمنوں کے مقابلے کے لیے ہر ممکن تیاری کا حکم دیتا ہے ۔ مقصد جارحیت کرنا نہیں بلکہ جارحیت کرنے والوں سے اپنا بچائو کرنا ہے ۔ مسلم ریاست موم کی ناک بن کر اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتی ۔ اتنی قوت و استعداد رکھنا لازم ہے کہ قرآنی حکم کی روشنی میں دشمنوں کے دلوں پر ہیبت طاری رہے ۔ یہ ہیبت کیا ہے ۔ اسے جدید اصطلاح میں ڈیٹیرینس کہہ لیا جائے تو مناسب ہوگا ۔ پاکستان کی جوہری استعداد بھارت کو برباد کرنے کے لیے نہیں بلکہ بھارت کو پاکستان کی تباہی سے باز رکھنے کے لیے ہے ۔ روایتی جنگ کی استعداد بھارت کی جارحیت کے خلاف دفاع کرنے کے لیے حاصل کی گئی ہے۔ مشرکین ہند پہ ہیبت طاری کیے بنا پاکستان اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا ۔ مانا جنگ مسائل کا حل نہیں لیکن جب جنگ سر پر مسلط کر دی جائے تو پھر مذکرات کی بھیک نہیں مانگی جاتی بلکہ دفاع کیا جاتا ہے ۔مذاکرات کی میز پر بھی غالب وہی آتا ہے جس کی استعداد مستحکم اور موثر ہو ۔ بلاشبہ معیشت اور عوام کی فلاح پر توجہ دینی چاہیے ۔ دفاع اور معاشی استحکام باہم جڑے ہیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ زیادہ تر جنگیں معاشی مقاصد کے پیش نظر ہی لڑی گئیں ۔ غور فرمائیں گجرات کے قصاب نریندر مودی نے بھی تازہ دھمکی یہی دی ہے کہ پاکستان کو معاشی اور تجارتی میدان میں جواب دیں گے ۔ دفاعی اخراجات کا رونا رونے والے معاشی ترقی پر توجہ دیں لیکن ساتھ ساتھ حضرت اقبالؒ کی مشہور نظم ابولعلا معریٰ بھی پڑھ لیں ۔  اختصار کے پیش نظر نظم کے آخری شعر پر ہی اکتفا کرتے ہیں !
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات