07:24 am
نریندرمودی کی سوچ کا تضاد

نریندرمودی کی سوچ کا تضاد

07:24 am

ایک طرف تو نریندرمودی پاکستان کے ساتھ امن کا بھاشن دیتے رہتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے عوام کو درپیش معاشی مسائل اور غربت کے خاتمے کے لئے مل جل کر کام کرنا چاہئے یہ ایک اچھی اور مثبت سوچ ہے، لیکن جب عملی طورپر ان کے کردار کا جائزہ لیا جاتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس میں گہرا تضاد پایا جاتاہے۔ ان کی سوچ میں پاکستان کے لئے خصوصی طورپر اور مسلمانوں کے لئے عمومی طورپر محبت کا کوئی عنصر نظر نہیں آتاہے، وہ پاکستان کو بھارت کی مخصوص حکمت عملی کے تحت ختم کرنا چاہتے ہیں۔
گزشتہ کئی سالوں سے بھارت نے افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف کرائے کے دہشت گردوں اور قاتلوں کے ذریعہ ایسی بھیانک کاروائیاں کروائی ہیں کہ اگر کوئی کمزور ملک ہوتا تو اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا، لیکن پاکستان کی فوج اور عوام کی تعریف کرنی چاہئے کہ انہوںنے فکری طور پر ہم آہنگ ہوکر بھارت اور افغانستان کی ریشہ دوانیوں کو نہ صرف ناکام بنایا ہے بلکہ اسکو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط اسلامی ملک ہے، بھارت اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتاہے۔ سوات اور فاٹا میں بھارت اور افغانستان کی جانب سے بھیجے گئے کرائے کے دہشت گردوں نے جس طرح اس مملکت خداداد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے، اسکے اثرات اب بھی موجود ہیں جسکی گواہی وہاں کے باسی بھی دیں گے۔ اگر افواج پاکستان ان دہشت گردوں کے خلاف بر وقت کاروائیاں نہ کرتی تو پاکستان کو غیر معمولی نقصان پہنچ سکتاتھا۔ تقریباً پاکستان نے90 فیصد دہشت گردوںکا صفایا کردیاہے، کچھ باقی افغانستان بھاگ گئے ہیں ، اور کچھ بھارت میں بیٹھ کر دہشت گردی کی تربیت حاصل کرکے مختلف راستوں سے پاکستان میں داخل ہوکر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، لیکن یہ عناصر بھی جلد ختم کردیئے جایں گے، کیونکہ ان کا نظریہ دہشت گردی ہے۔ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتاہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف پوری دنیا متحد ہوچکی ہے، نریندرمودی کی پاکستان کے خلاف ایک اور کھلا تضادکشمیر کا متنازعہ مسئلہ ہے۔ جس کو وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل نہیں کرنا چاہتاہے، پلوامہ میں بھارتی فوج کے خلاف جو حملہ ہواہے اسکے پیچھے مقبوضہ کشمیر میں عوام کا وہ دکھ اور کرب ہے جس سے یہ لوگ روزانہ کی بنیاد پر بھارتی فوج کے ظلم وبربریت کی صورت میں گذرتے ہیں ، اسوقت سات لاکھ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہے جو کشمیری عوام پر جدید اسلحہ کا استعمال کرکے انہیں آزادی کی تحریک کو ختم کرنے پر مجبور کررہی ہے، لیکن آزادی اور انسانی حقوق کے جذبوں کوبندوقوںکے ذریعے نہیں دبایا نہیں جاسکتاہے، اور نہ ہی ختم کیا جاسکتاہے، اس لئے اگر نریندرمودی جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لئے مخلص ہیں تو انہیں فی الفور کشمیر میں استصواب رائے کرانا چاہئے، جسکا وعدہ بھار نیتائوں مثلاً آہنجانی نہرو نے کیا تھا، جب تک اس مسئلہ پر نریندرمودی سنجیدگی سے غور کرکے اس دیرینہ مسئلہ کو پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت کے ساتھ ملکر حل نہیں کریں گے، اسوقت تک جنوبی ایشیا میں نہ تو امن قائم ہوسکتاہے اور نہ ہی انتہا پسندی جواب نریندرمودی کی قیادت میں بھارت کی شناخت بن چکے ہیں، کیا وزیراعظم کو یہ نظر نہیں آرہا ہے کہ کس طرح پلوامہ کے افسوسناک واقعہ کے بعد مقبوضہ کشمیر میں نہتے عوام کے گھروں پر فوج کشی کی جارہی ہے، محض شک و شبہ کی بنیاد پرسینکڑوں افراد کو گرفتار کیا جاچکاہے، یہ گرفتاریاں اب بھی جاری ہیں  نیز کشمیر کے طلبا جو بھارت کی مختلف یونی ورسیٹوں میں زیر تعلیم ہیں ، انہیں خوف زدہ کرکے مقبوضہ کشمیر کی طرف دھکیلا جارہاہے۔ مزید براں پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت کے بعض علاقوں میں مسلمانوں کے گھروں پرحملے کئے جارہے ہیں یعنی بقول محبوبہ مفتی پلوامہ کا بدلہ مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے اندر رہنے والے مسلمانوں سے لیا جارہاہے۔ بھارت کی انتہا پسند تنظیمیں بھارت کے مسلمانوں کی تضحیک کرنے سے نہیں چوکتی ہیں۔مسلمانوں کے کاروبار پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ بھارت کی موجودہ حکومت کے یہ تمام اقدامات نریندرمودی کے ’’امن کے جذبات‘‘ سے متعلق بھاشن کی کھلی خلاف ورزی نظر آرہی ہے، اسکے علاوہ یہ حقیقت بھی نا قابل تردید ہے کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے علاوہ پاکستان سے متعلق یعنی اپنی حکمت عملی تبدیل کرنی پڑیگی اور پاکستان کو جنوبی ایشیا کے ایک اہم ملک کی حیثیت سے تسلیم کرنا ہوگا، پاکستان کو چار ٹکڑوں میں توڑ نے کی سوچ کو ختم کرکے ہی جنوبی ایشیا میں امن قائم ہوسکتاہے، ورنہ جنگ وجدل کے بادل ہمیشہ چھائے رہیں گے۔  جس کی وجہ سے نہ تو عوام کے معاشی مسائل حل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی غربت جس کا پرچار نریندرمودی نے راجستھان کے ایک عوامی جلسے میں کیا ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ بی جے پی نے بھارت کا سیکولر چہرہ مسخ کردیاہے۔ بھارت کے دانشور نریندرمودی پر تنقید کرتے ہوئے انہیں مشورہ دے رہے ہیں کہ انتہا پسند تنظیموں کو لگام دو ورنہ بھارت میں اقلیتوں کا رہنا مشکل ہوجائے گا، جسکی بنا پر بھارت کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑیگا، اسکے علاوہ بھار ت کو پاکستان چین دوستی پر بھی ناراض نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی امریکہ کے ایما پر چین کے خلاف حصار قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ بھارت کی معیشت بھی ترقی کررہی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چین کی پاکستان کے ساتھ دوستی خصوصیت کے ساتھ سی پیک کو دہشت گردوں کے ذریعہ سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جائے، بھارتی وزیراعظم مریکہ کے ساتھ دوستی کی وجہ سے آپے سے باہر ہوگئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ امریکہ کے ساتھ ملکر وہ پاکستان اور چین کو زک پہنچا سکتے ہیں بلکہ ان دونوں کے گرد گھیرا تنگ کرسکتے ہیں۔، بھارتی وزیراعظم کو اس مائنڈسیٹ سے نکل کر نئی سوچ کے ساتھ جنوبی ایشیا میں حالات کو بہتر بنانے کے لئے پاکستان کے ساتھ دوستی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جیسا کہ ساری دنیا اس حقیقت سے واقف ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا ہے، وہ اس وقت سارا زور اپنی معیشت کی بحالی اور شرح نمو میں خاطر خواہ اضافے کی کوششوں میں لگا ہواہے، نیز ماضی میں جن حکومتوں نے بے پناہ کرپشن کا ارتکاب کیاہے۔  ان سے بھی پیسے نکلوانے کی کوشش کی جارہی ہے، چنانچہ بھارت کی جانب سے یہ الزام غلط ہے کہ پاکستان پلوامہ حملے میں ملوث تھا، اگر ایسا ہے تو ثبوت پیش کئے جائیں۔ پاکستان اس پر تحقیقات کرانے کے لئے تیار ہے، بھارت کے بعض سیاسی عناصر دبے دبے الفاظ میں یہ کہہ رہے ہیں کہ پلوامہ میں بھارت کی فوج نے خود حملہ کرایا ہے، تاکہ مودی کو آئندہ مئی میں ہونے والے عام انتخابات میں فتح سے ہمکنار کیا جاسکے نیز بارود سے بھری ہوئی گاڑی کس آسانی کے ساتھ اپنے ہدف پر پہنچ گئی، کیا یہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انٹیلی جنس کی ناکامی نہیں ہے؟ بھارت کو چاہئے کہ پاکستان پر الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکے تاکہ اصل حقائق سے آگاہی حاصل ہوسکے، یہی احسن راستہ ہے۔