07:26 am
 مودی اور اس کاجھوٹا میڈیا

 مودی اور اس کاجھوٹا میڈیا

07:26 am

نریندر مودی اور بھارتی میڈیا لمبی لمبی چھوڑنے  اور جھوٹ بولنے میں ایک دوسرے کے باپ نکلے… منگل کا پورا دن بھارت میں جشن مناکر یہ اعلان کیا جاتا رہا کہ ’’ہندوستانی ائیر فورس نے پاکستانی بالاکوٹ میںگھس کر زبردست  بمباری کرکے جیش محمد کا سب سے بڑا کیمپ تباہ کر دیا‘ اس کارروائی میں مولانا محمد مسعود ازہر کے رشتہ دار یوسف ازہر‘ بھائی اور بھتیجے محمد عثمان سمیت ساڑھے تین سو دہشت گرد مارے گئے۔‘‘ ممبئی سے شائع ہونے والے اردو نیوز کے مطابق انڈین ائیرفورس کی اس سرجیکل سٹرائیک پر پورے بھارت میں جشن کا سماں رہا‘ تمام سیاسی جماعتوں نے انڈین فوج کو جیش محمد کا کیمپ تباہ کرنے پر مبارکباد پیش کیں‘ انڈین چینل پر مرد مار قسم کی اینکرنیاں اور ہجڑا  نما اینکر بار بار یہ دعوے کرتے رہے کہ بھارت نے ائیر اٹیک کے ذریعے مولانا محمد مسعود ازہر کے بھائی طلحہ سیف‘ دوسرے بھائی مولانا عمار اورتیسرے بھائی محمد ابراہیم کو بھی مار کر ’’جہنم‘‘ میں بھیج دیا ہے۔
 
سچی بات ہے انڈین اینکرنی کی زبان سے ’’جہنم‘‘ کا لفظ سن کر میں چونک گیا اور مولانا طلحہ کو فوراً مسیج کیا کہ ’’جہنم‘‘ میں کیسا مزہ ہے؟ کیا ’’جہنم‘‘ میں کترینہ‘ مادھوری سری دیوی‘ تبو وغیرہ سے ملاقات ہوئی یا نہیں؟ وہ بھلا پیچھے رہنے والے کہاں تھے؟  ان کی طرف سے فوراً وائس مسیج پر جواب آیا کہ ’’نہیں وہاں ملاقات تو کسی سے نہیں ہوئی ہاں البتہ وہاں ایک گہرا کنوااں دیکھا کہ جس پر لکھا ہوا تھا نوید مسعود ہاشمی اور ٹائم بھی لکھا ہوا تھا کہ کب اس میں آنے والے ہیں‘‘؟ جس پر اس خاکسار کو یہ جواب دینا پڑا کہ ’’اسکا مطلب ہے کہ انڈین اینکرنی جھوٹ بول رہی تھی آپ جہنم میں نہیں ‘ جنت میں ہیں‘‘ مطلب یہ کہ نریندر مودی بھارتی فوج اور بھارتی میڈیا جن کی ہلاکتوں کے دعوے کرکے بھارتی قوم کو ’’ماموں‘‘ بنا رہا تھا وہ نہ صرف یہ کہ زندہ سلامت تھے بلکہ اپنی معمول کی دینی سرگرمیوں میں بھی مصروف تھے اورانتہائی باخبر ذرائع یہ بتا رہے تھے کہ انڈین ائیر اٹیک میں مولانا محمد مسعود ازہر کے خاندان یا ان کی طر ف منسوب کسی فرد کا کوئی بال بھی بیکا  نہ ہوا۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی طیارے جہاں بم گرا کر فرار ہوئے وہاں نہ تو جیش محمد کا کوئی ٹریننگ کیمپ تھا اور نہ ہی وہاں سینکڑوں شہادتیں ہوئیں … مگر کم ظرف نریندر مودی اور بھارتی میڈیا نے جھوٹ بولنے کے سابق سارے ریکارڈ توڑ کر نئے ریکارڈ قائم کر ڈالے۔
ہندو شدت پسندی کی آگ میں جلنے والانریندر مودی مقبوضہ کشمیر میں جیش محمد کے فدائیوں سے تو خوفزدہ ہے مگر اس نے پاکستان کو ترنوالہ سمجھا ہوا ہے ‘شاید اس کی ایک وجہ یہاں کے  سینمائوں اور گھروں میں چلنے والی انڈین فلموں‘ انڈین ڈراموں اور پاکستانی میڈیا پر چلنے والے انڈین اشتہارت ہی ہوں اور اندرا گاندھی کی طرح نریندر مودی بھی یہ سمجھ رہا ہو کہ انڈین فلموں‘ انڈین ڈراموں‘ بسنت‘ ویلنٹائن ڈے جیسے واہیات اور بے حیائی کے نشے میں مبتلا ہوکر پاکستانی قوم کے جوان جذبہ جہاد کے گوہر سے محروم ہوگئے ہیں لیکن اس بڈھے کھوسٹ  ! کی یہ خام خیالی ہے…  فلموںثقافت اور انڈین لابی کی خرمستیوں میں پڑے ہوئے نوجوان ایسے ہی ہیں کہ جیسے گوبر میں کوئی ’’ہیرا‘‘ پڑا ہوا ہو؟ لیکن جب  ہیرے کو دھویا جائے تو لش پش کرتا  ہیرا اپنی اصل حالت میں لوٹ آتا ہے۔
گمراہ حکمرانوں‘ سیاستدانوں‘ ڈالر خور این جی اوز اور میڈیا نے اس قوم کے جوانوں کو فنکار‘ گلوکار اور اداکار بنانے کی بہت کوششیں کی تھیں اب جب بھارت نے پاکستان کو چھیڑنے کی کوشش کی ہے تو اسے عنقریب اندازہ ہو جائے گا کہ پاکستانی قوم کے پیر و جوان ہیروں سے بھی کہیں زیادہ بڑھ کر ہیںاورجو بھارت کی جھوٹی خوشیوں کو ماتم میں تبدیل کرنے کے ہنر سے بھی خوب واقف ہیں۔
یقیناً بھارتی میراج طیاروں نے اگر پاکستانی سرحد عبور کرلی تھی تو انہیں بچ کر واپس نہیں جانا چاہیے تھا … لیکن کوئی بات نہیں پاک فوج نے توبدھ کی صبح بھارت کو حیران کن جواب دے دیا ہے اور بھارت کے دو طیارے تباہ اور  پائلٹس کو گرفتار کرلیا ہے‘ مقبوضہ کشمیر میں موجود کشمیری مجاہدین بھی بھارتی مفادات پر ایسی کاری ضربیں لگائیں گے کہ جشن منانے والا بھارت خون تھوکنے پر مجبور ہو جائے گا۔
جس وقت میڈیا کا ایک گروپ ’’امن کی آشا‘‘ کے نام پر نوٹ سمیٹنے کے چکر میں پاکستانی قوم کو بیوقوف بنانے کی کوششیں کررہا تھا … جب آنجہانی عاصمہ جہانگیر واہگہ بارڈر پر انڈین فوجیوں کی بانہوں  میں بانہیں ڈال  کر رقص کر رہی تھی ‘ جب بعض دانشور ٹی وی چینلز کے سٹوڈیوز میں بیٹھ کر دو قومی نظریہ کو دفن کرکے بھارت کی محبت کو پروان چڑھانے کی کوششیں کررہے تھے‘ جس وقت بھارتی آلو  اور ٹماٹروں کی خاطر مقبوضہ کشمیر کے شہداء کے خون کو بھلانے کی کوششیں کی جارہی تھیں‘ جب انڈین پٹھان کوٹ چھائونی پر ہونے والے حملے کی ایف آئی آر گوجرانوالہ میں درج کرکے لاہور ‘ سیالکوٹ ‘ ساہیوال‘ ملتان‘ بہاولپور وغیرہ سے کشمیر کے جہاد سے محبت کرنے والے پاکستانیوں کو شہباز شریف کی سی ٹی ڈی کے ’’بہادر‘‘ گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے‘ جب بدمعاش قاتل نریندر مودی اور ’’را‘‘ کے بدنام زمانہ چیف کو لاہور ائیرپورٹ سے وصول کرکے پورے پروٹوکول کے ساتھ جاتی امراء محل میں پہنچا کر ان کی آئو بھگت کی جارہی تھی‘ نواز شریف کے سر پر نریندر مودی اور نریندر مودی کے سر پر نواز شریف پگڑیاں سجا رہے تھے … ہم نے تب بھی لکھا تھا کہ اس خطے میں پائیدار امن کا ہر راستہ مقبوضہ کشمیر سے گزرتا ہے‘ بھارت پاکستان کا ایک ایسا دشمن ہے کہ جو کم ظرفی اور چھوٹے پن کی انتہا پر پہنچا ہوا ہے۔ایسے کم ظرف اور بونے دشمن کے ساتھ ’’امن کی آشا‘‘ کے چکر چلانے والے بھارت کی خصلت کو تبدیل نہیں کرسکیں گے‘ سانپ کو دودھ نہیں پلایا جاتا بلکہ سانپ کا سر کچلا جاتا ہے‘ پس وقت نے ثابت کر دیا کہ ہم جیسوں کاموقف درست تھا‘ پاک فوج نے اب جو بھارت کو سبق سکھانے کا نعرہ مستانہ بلند کیا ہے‘ دنیا دیکھے گی کہ ان شاء اللہ اس کے نہایت مثبت نتائج نکلیں گے۔ (وما توفیقی الا باللہ)