07:29 am
محنت کش اور اسلامی نظام

محنت کش اور اسلامی نظام

07:29 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
الغرض آج جس طرح معاشرہ بڑے طبقے، متوسط طبقے اور چھوٹے طبقے میں تقسیم ہو چکا ہے اور اصحابِ ثروت نے دولت کے اظہار و تعیش کے لیے ہر شہر میں اپنے الگ الگ محلے بسا لیے ہیں، خلافتِ راشدہ کے دور میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ بلکہ اسلام نے پہلے سے موجود طبقاتی تقسیم کو ختم کر کے خلافتِ راشدہ کی صورت میں ایک خالصتا غیر طبقاتی معاشرہ پیش کیا۔ اور یہاں اس حقیقت کا اظہار شاید بے محل نہ ہو کہ آج کمیونزم کے جس خطرات کا اظہار کیا جا رہا ہے اس کی بنیادی وجہ معاشرہ کی طبقاتی تقسیم ہی ہے جس کے نتیجہ میں ایک طرف دولت سے کھیلنے والوں اور بات بات پر دولت کی نمائش کرنے والوں کا طبقہ بلند و بالا محلوں میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے اور دوسری طرف اسی معاشرہ میں آبادی کی اکثریت روز مرہ ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ کمیونزم ہمیشہ معاشرہ کی طبقاتی تقسیم سے جنم لیتا ہے اس لیے کمیونزم کا راستہ بھی صرف اسی صورت میں روکا جا سکتا ہے کہ معاشرہ میں معیار زندگی کی برابری کا اصول اپنا کر خلافتِ راشدہ کی طرز پر غیر طبقاتی معاشرہ کی
تشکیل کے لیے اجتماعی اور ہمہ گیر جدوجہد کا آغاز کیا جائے۔ ورنہ کمیونزم کا راستہ صرف نعروں اور جذباتی تقریروں سے نہیں روکا جا سکے گا۔
ہمارا آج کا موجودہ اقتصادی و معاشی نظام نوآبادیاتی دور کی یادگار ہے، اسلام کا اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس نظام کو تبدیل کر کے محنت کشوں کو معاشرہ میں دوسرے طبقوں کے برابر معیار زندگی کی سہولتیں فراہم کی جائیں اور حقِ ملکیت میں مساوات کا وہ واضح اور اٹل اصول اپنایا جائے جو اسلامی نظام کی اصل روح ہے۔ نامناسب نہ ہوگا اگر یہاں حقِ ملکیت میں مساوات کے اصول کی تھوڑی سی وضاحت کر دی جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اسلام معاشرہ کے مختلف طبقات اور افراد کے درمیان مساوات کا کیا اصول قائم کرتا ہے۔
اسلام نے فرد کی ملکیت کے حق کو تسلیم کیا ہے اور اسے یہ بھی اجازت دی ہے کہ وہ جائز اور حلال ذرائع سے اپنی ملکیت اور دولت میں جس قدر چاہے اضافہ کر لے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام یہ پابندی بھی لگاتا ہے کہ: دولت کی اجتماعی گردش صرف سرمایہ داروں میں محدود نہ رہے بلکہ معاشرہ کے تمام طبقے اس سے فیض یاب ہوں۔ لا یکون دول بین الاغنیا منکم  (سور الحشر)
 دولت کی ایسی نمائش اور عیش و عشرت کے ایسے مواقع جن سے محروم طبقے مایوسی کا شکار ہوں یا ان میں مسابقت اور معیار زندگی میں آگے بڑھنے کا جذبہ ناجائز ذرائع کو اختیار کرنے کی سوچ پیدا کر دے، قانونا ممنوع قرار دیے جائیں۔
 معیارِ زندگی مثلاً خوراک، لباس اور رہائش وغیرہ معاملات میں معاشرہ کے مختلف طبقات کے درمیان یکسانیت کا اصول کار فرما رہے اور اگر اس مقصد کے لیے کسی قانونی قدغن کی ضرورت ہو تو اس سے بھی گریز نہ کیا جائے۔ جیسا کہ حضرت عمرؓ نے بصرہ شہر کی تعمیر کے وقت پابندی لگا دی تھی کہ کوئی شخص تین کمروں سے زائد مکان نہ بنائے اور یہ بھی ہدایت فرما دی تھی کہ مکانوں کو بلند کرنے میں ایک دوسرے سے مقابلہ نہ کرو۔ (بحوالہ اسوہ صحابہ ص 25 ج 1)
 دولت اور اس کے جو ذرائع حکومت کی طرف سے تقسیم کیے جائیں ان میں بالکل برابری اور مساوات کا اصول اپنایا جائے جیسا کہ حضرت ابوبکرؓ نے بیان فرمایا۔ حضرت صدیق اکبرؓ کے خلیفہ بننے کے بعد جب بحرین وغیرہ سے مال آیا تو آپ نے اسے مدینہ کے شہریوں میں برابر تقسیم کر دیا۔ کچھ لوگوں نے اعتراض کیا کہ حضرت لوگوں میں کچھ فضیلت اور مرتبہ والے بھی ہیں لیکن آپ نے سب کو برابر حصہ دیا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ جہاں تک فضیلت اور درجہ کا تعلق ہے اس کا ثواب اللہ تعالیٰ ددے گا۔ وھذا معاش فالاسو فیہ خیر من الاثرہ (کتاب الخراج ص 50 )اور یہ معیشت ہے اس میں برابری اور مساوات کا اصول ترجیح سے بہتر ہے۔
جیسا کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دولت کی مساوی تقسیم کو ہی اسلامی معیشت کا صحیح اصول قرار دیا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ جناب نبی اکرمﷺ نے امام مہدی کے ظہور کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب امام مہدی آئیں گے تو زمین ظلم و جور سے پر ہوگی اور امام مہدی ظلم و جبر کا خاتمہ کر کے دنیا بھر میں عدل و انصاف کو غالب کر دیں گے۔ پھر فرمایا ویقسم المال صحاحا قال لہ رجل ما صحاحا قال بالسوی بین الناس، رواہ احمد و ابو یعلی و رجالہما ثقات (مجمع الزوائد ص  ج )کہ امام مہدی لوگوں میں صحیح طریقہ سے تقسیم کریں گے، ایک شخص نے پوچھا کہ صحیح طریقہ کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ لوگوں میں برابری اور مساوات کی بنیاد پر۔
الغرض اسلام نے جائز ذرائع سے دولت کمانے کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ معیارِ زندگی کی برابری اور قومی سطح پر دولت اور اس کے ذرائع کی تقسیم میں مساوات کو اصول قرار دیا ہے۔ اور مساوات کے اس اصول کو قائم کرنے کے لیے بوقت ضرورت اصحابِ ثروت سے ان کا زائد مال حاصل کر کے دوسرے لوگوں میں تقسیم کرنے کا تصور بھی موجود ہے، جیسا کہ حضرت ابو عبیدہؓ بن الجراح نے ایک سفر کے دوران جب آپ کے ہمراہ تین سو صحابہ تھے، زادِ راہ ختم ہونے پر سب لوگوں کے زادِ راہ ان سے حاصل کر لیے اور برابری کی بنیاد پر اس میں سے ان کو خوراک دیتے رہے۔ (محلی ص 158 ج )
 اسی طرح حضرت عمرؓ نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ جو بات میں نے اب محسوس کی ہے اگر اسے پہلے محسوس کر لیتا تو مالداروں کے زائد اموال ان سے چھین کر مہاجر فقرا میں تقسیم کر دیتا۔(محلی ص 158 ج 6)
اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اگر معاشرہ کسی وقت اس نوعیت کی صورتِ حال سے دوچار ہو جائے تو معیارِ زندگی میں برابری اور دولت و ذرائع دولت کی تقسیم میں مساوات کے اصول کو دائرہ عمل میں لانے کے لیے اصحابِ ثروت کے زائد اموال کو ضبط کیا جا سکتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محنت اور محنت کش کی عظمت کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ معاشرہ میں محنت کشوں کو تمام طبقوں کے برابر معیارِ زندگی کی ضمانت دی، اور دولت کے قومی ذرائع سے ہر شہری کے برابر مستفید ہونے کے حق کو اصول قرار دیا۔ یہ انسانی معاشرت کے ایسے فطری اور محکم اصول ہیں جن سے بہتر اصول اور کوئی نظام پیش نہیں کر سکتا۔
آخر میں ہم اپنی گزارشات کا اختتام امیر المومنین حضرت علیؓ کے اس ارشاد گرامی پر کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اغنیا کے مالوں میں فقرا کا اتنا حق رکھا ہے جس سے ان کی ضروریات کی کفایت ہو سکے۔ پس اگر فقرا بھوکے رہیں یا ننگے ہوں یا اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مشقت کا شکار ہوں تو یہ اغنیا کی بے پرواہی اور ان کی طرف سے فقرا کے حقوق میں کوتاہی کے باعث ہوگا۔ اور ایسے اغنیا اللہ تعالیٰ سے محاسبہ اور عذاب کے مستحق ہیں۔(المحلی لابن حزم ص 156 ج 1)