07:31 am
نقارے پر چوٹ پڑ گئی.. پہلا سرپرائز

نقارے پر چوٹ پڑ گئی.. پہلا سرپرائز

07:31 am

٭نقارے پر چوٹ پڑ گئی، ایک ہی دن میں سرپرائز! دو بھارتی مگ طیارے تباہ، دو پائلٹ گرفتار! متعدد بھارتی چوکیاں تباہ، بھارت کہتا ہے کہ پاکستانی طیاروں نے مقبوضہ کشمیر کے علاقہ بڈگام میں کارروائی کی۔ پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا بیان ہے کہ دونوں طیارے آزاد کشمیر کی حدود میں آئے تھے، دونوں کوگرادیا گیا۔ ایک جلتا ہوا طیارہ کنٹرول لائن کے پار بڈ گام ضلع میں گرا ، دونوں پائلٹ ہلاک ہوگئے، دوسرا طیارہ آزاد کشمیر کی حدود میں گرا، پائلٹ گرفتار، بھارتی طیارے رات کے اندھیرے میں چھپ کر آئے تھے، پاکستانی طیاروں نے دن کے اُجالے میں کام دکھا دیا۔ بھارت کا میڈیا آئیں بائیں شائیں کرتا رہا کہ پاکستان کے دو طیارے بھارت کی فضا میں گھس آئے تھے، انہیں پسپا کردیاگیا ہے، تھوڑ ی دیر بعد اسی میڈیانے روتے پیٹتے خبردی کہ بھارتی ایئر فورس کا ایک مگ طیارہ بڈ گام کے علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا ہے، اس کے دونوں پائلٹ ہلاک ہوگئے ہیں۔ انڈین ایئر فورس کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ حادثہ تکنیکی وجوہ کی بنا پر پیش آیا ہے اور یہ کہ طیارہ کے دو ٹکڑے ہوگئے اور وہ پوری طرح جل گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی خبر کہ بھارتی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر بھی گر گیا ہے۔ یہ نہیں بتایا کہ کہاں گرا ہے اور کیوں گراہے۔ یہ ابتدائی خبریں ہیں۔ کالم کی اشاعت تک صورت حال میں بہت اضافہ ہو چکا ہوگا۔
 
٭اس نئی صورت حال پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بیان دیا ہے کہ ہم نے جوا ب دینے کا اعلان کیا تھا، آج سر پرائز دے دیا ہے مگر یہ بھارت کے جنگی جنون کا جواب نہیں بلکہ دفاعی اقدام تھا۔ بھارتی طیارے پاکستان کی فضا میں گھس آئے تھے، انہیں نشانہ بنایاگیا ہے۔ وزیر خارجہ کا یہ بیان اس لحاظ سے درست ہے کہ ایک بھارتی طیارہ آزاد کشمیر کے اندر کیسے آگرا؟ دوسرا طیارہ بھی کنٹرول لائن سے محض چند کلو میٹر دور گرا! پاکستانی طیارے مقبوضہ علاقے کی فضا میں گئے ہوتے تو بھارتی طیارے اُدھرہی گرتے، آزاد کشمیر میں کیسے گر سکتے تھے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے بھارت کو تنبیہ کی ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لے، معاملہ آگے نہ بڑھائے، ورنہ ہم جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اس واقعہ کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
٭اس نئی صورت حال سے دونوں ملکوں کے عوام فکر مند ہو رہے ہیں کہ اب کیا ہوگا؟ ایک روز بھارت میں جشن منایاگیا، اگلے روز پاکستان کے عوام سڑکوں پر نکل آئے ۔ مجھے بھمبر (آزاد کشمیر) سے ایک نوجوان عامر رحما ن نے فون کیا ہے کہ ہر طرف جشن کا ساسماں ہے۔ لوگ باہر نکلنا شروع ہوگئے ہیں، گاڑیوں پرترانے بج رہے ہیں، پاک افواج زندہ باد، مبارک بادکے نعرے لگ رہے ہیں۔ یہی صورت حال ملک بھر کی ہے۔ دودن پہلے بھارتی کارروائی اور بھارتی میڈیا اور وزارت خارجہ کے پاکستان پر حملے کی خبروں سے جو افسردگی طاری ہوئی تھی وہ اک دم جوشیلے نعروں اور مسرت کے اظہار میں تبدیل ہوگئی ہے۔ تقریباً تمام اپوزیشن لیڈروں نے پاک فضائیہ کی اس کارروائی پر پرجوش مبارکباددی ہے۔ سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ بھارت کو اپنے کیے کا جواب مل گیا۔ میاں شہبازشریف نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے عزت جسے چاہے ذلت دیتاہے۔ بھارت کو سبق مل گیا ہے۔
٭پاکستان کے فوجی ترجمان جنرل آصف غفور نے ہنگامی پریس کانفرنس میں اس واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے بھارت کے ایک مضحکہ خیز دعوے کا ذکر کیا ہے۔ یہ دعویٰ بھارت کی ایک خبررساں ایجنسی کا ہے کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کا ایک ایف 16طیارہ گرالیا ہے۔ جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ہم نے ایف 16 طیارے استعمال ہی نہیں کیے۔ انہوں نے کہاں سے گرالیا؟ انہوں نے مزید بتایا کہ بھارت کے خلاف کارروائی سے پہلے ہم نے کنٹرول لائن کے پار 6 مقامات کو ٹارگٹ بنایا اور بھمبر ناریاں سیکٹر میں بھارت کے اسلحہ ڈپو کو ناکارہ بنادیا، جہاں سے پاکستان کے خلاف اسلحہ سپلائی اورفائر ہوتاتھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کھلی فضاؤں میں پاک ایئر فورس کے 13 سکویڈرن محو پرواز ہیں( ہر سکویڈرن میں کم ازکم چار طیارے ہوتے ہیں)۔ پریس کانفرنس کی تفصیل خبروں کے صفحے پر موجود ہے۔ کالم لکھتے ہوئے مشکل پیش آرہی ہے، چند سطریں لکھتا ہوں تو صورت حال بدل جاتی ہے، نئی خبر آ جاتی ہے۔جنرل آصف غفور نے ایک اہم بات یہ کہی ہے کہ ہم نے معاملات کو بڑھنے سے روکنے کے لیے فیصلہ کیا کہ دشمن کی فوجی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا ، فی الحال صرف دفاعی اقدامات کیے جائیں گے، لیکن بھارت نے جنگ شروع کی تو پھر اس کا سخت جوا ب دیاجائے گا۔
٭مجھے ایک بہت پراناواقعہ یاد آگیا ہے ۔1951 کی بات ہے۔ پاکستان میں عیدالفطر منائی جارہی تھی۔ ملک بھر میں عید کی نماز کے خطبے شروع ہو چکے تھے۔ اچانک لاہور کی فضا میں بھارت کا ایک جنگی کینبرا طیارہ نمودار ہوا اور راولپنڈی کی طرف رخ کرلیا۔ غالباً فوج کے ہیڈ کوارٹر جی ایچ کیوکے اوپر جانا چاہتاتھا۔ پاک فضائیہ ہمیشہ کی طرح انتہائی مستعد تھی۔ بھارتی طیارہ فضا میں داخل ہوتے ہی پاک فضائیہ کا ایک سیبر طیارہ سرگودھا( پشاور) سے اڑا اور فوراً بھارتی طیارہ کے گرد پہنچ گیا اور اسے نیچے اتر نے کا حکم دیا۔ کینبرا طیارہ سیبر طیارے سے زیادہ جدید اور بہتر فضائی اہلیت رکھتا تھا۔ سیبر طیارہ سے زیادہ بلندی پر اور زیادہ تیز اڑ سکتا تھا۔ وہ جہلم اور دینہ کے اوپر سیبر طیارے سے بہت اوپر بلندی پر پہنچ چکا تھا۔ اس کے پائلٹ نے نیچے اترنے کے انتباہ کو نظرانداز کردیا۔ سیبر طیارے کے پائلٹ نے اسےخبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’سنو! میں مذاق نہیں کررہا، فوراً نیچے اتر و ورنہ میں کارروائی کردوںگا۔ بھارتی طیارے نے موڑ کاٹ کر واپس جانے کی کوشش کی اور بہت نیچے سے سیبر طیارے کے پائلٹ نے اس پرفائر کردیا۔ پہلی گولی ہی ٹھیک نشانے پر لگی اور چند سکینڈ میں کینبرا طیارہ نیچے زمین پر جاگرا۔ اس کے پائلٹ کو گرفتار کرلیاگیا ۔ اس نے جان بچانے کے لیے کہا کہ وہ غلطی سے سر حد پار کرگیا تھا۔ بھارت کی حکومت نے احتجاج کیا کہ طیارے کو واپسی کا موقع دیا جانا چاہیےتھا۔ پاکستانی پائلٹ نے کمال مہارت کا مظاہرہ کیا تھا۔ فضائی جنگوں میں ہمیشہ اوپر یا برابر سے فائر کیے جاتے ہیں۔ بہت نیچے سے اوپر والے طیارے کو نشانہ بنانا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے مگر پاکستانی پائلٹ نے یہ کارنامہ انجام دے دیا تھا۔ دنیا بھر کے فضائی ماہرین نے اس کی اس مہارت کو سراہا۔ بھارتی پائلٹ کو بعد میں رہا کردیاگیا تھا۔ حالیہ گرفتار شدہ بھارتی پائلٹ بھی بالآخر گھروں کو اپس چلے جائیں گے۔ انہیں رکھ کر کیا کرناہے۔ قارئین کرام! اس بے ترتیب نامکمل کالم پر ہی گزارا کریں۔