08:13 am
 ان شااللہ فتح حق سچ کی ہوگی

 ان شااللہ فتح حق سچ کی ہوگی

08:13 am

 بدھ27فروری کو صبح سویرے بھارتی جارحیت پسندوں نے ایک بار پھر پاک سرحد پار کرنے اور اپنے مذموم عزائم پورے کرنے کے خواب کو تعبیر دینے کی ناکام کوشش کی۔ نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ آئے تھے پاکستان کو ملیا میٹ کرنے‘ مٹی چٹانے خود ہی مٹی چاٹ کر رہ گئے۔ پاکستانی شیر جوانوں نے بھارت کے دو طیارں کو اپنی ہی سرزمین پر دھول چٹادی۔ دو پائلٹ گرفتار کرلیے گئے۔ اس کے باوجود بھارتی حکمران اور ان کا میڈیا اپنی ہٹ دھرمی میں ایک زبان ہوکر راکی پڑھائی پٹی پڑھ رہے ہیں۔ نہیں جانتے کہ پالا کن شیروں سے پڑا ہے۔ ماضی کی تین جنگوں سے بھارتی سینا نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ بھارت میں ہرنیا آنے والا سیناپتی اپنے سے پہلے رخصت ہونے والے سیناپتی کو کمزور بزدل سمجھتے ہوے ناصرف بڑے بول بولنے لگتاہے بلکہ اپنی عسکری قوت کی برتری کےزرعم  میں مبتلا ہوکر اپنی موت کوآواز دے بیٹھتاہے ۔
 
وہ سوچتے سمجھتے کم ہیں اور زبانی کلامی اچھل کود زیادہ کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں پاکستان ایک چھوٹا سا خطہ زمین ہے جسے سبق سکھانا ضروری ہے۔ ان عقل کے اندھوں کو روس جیسی سپر پاور کا حشر یاد نہیں کہ کس طرح افغانستان سے روسی افواج کو ہم نے بھاگنے پر مجبور کردیا تھا۔ اب بھی افغانستان میں امریکہ جیسی سپر پاور کو جو اپنی طاقت کے نشے میں چور تھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبورکر دیا۔ وہ پاکستانی افواج اور حکومت سے معاملات طے کرنے اور اپنی افواج کے انخلا کے لیے پاکستان کے آگے گھٹنے  ٹیکنے پر مجبور ہو گئی ہے۔
بھارتی فوج جانے کس نشے میں مخموررہتی ہے۔ اس کے لاکھوں فوجی جوان کشمیر پر قبضہ کرنے کی سر توڑ کوشش میں مصروف ہیں۔ تمام تر جدید اسلحہ کے باوجود نہتے کشمیریوں کو زیر کرنا تو دور کی بات اپنی حفاظت تک نہیں کر پا رہے۔ بھارتی حکمران جو پائی پائی کا حساب رکھنے میں ماہر ہیں۔ ایک کو ایک سے ضرب دے کر دو لکھنے کے عادی ہیں۔ وہ اپنے کثیر سرمائے سے کشمیر میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ اربوں کے ماہانہ نقصان کے علاوہ سینکڑوں عسکری جوانوں سے محروم ہو رہے ہیں۔
بھارتی جو گائے کو تو اپنی ماتا مانتے ہیں لیکن بیل کو باپو تسلیم نہیں کرتے۔ شاید اسی لیے انہوں نے ایل او سی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب یہ اور بات کہ ان کے مذہبی باپو نے ہی انہیں لات مار کر موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مودی سرکار کا یہ سارا ڈرامہ جلد ہونے والے انتخابات کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ اس طرح ہندو ووٹ جوکانگریس لے جاتی ہے اس طرح یقینی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ مودی نے ایسا ماضی میں بھی کیا تھا۔ جس کے نتائج انہیں مثبت ملے تھے۔ انہیں وزرات عظمیٰ نصیب ہوگئی تھی۔ اب کی بار انہوں نے ذرا بڑا قدم اٹھالیا ہے۔ پاکستانی سرحد پار کرنے اور مداخلت کرنے کی جرات کرلی ہے۔ مگر بھارت کو معلوم ہونا چاہیے کہ جنگ وہ بھی دنیا کی بہترین فوج سے کرنا کوئی ہنسی کھیل نہیں۔ افواج پاکستان کی مہارت کو روس جیسی سپر پاور نے بھی تسلیم کیا ہے۔ اور امریکہ بھی افواج پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کا معترف ہے۔ بھارت جو اگنی ماتا کی پوجا کرتا ہے اس بار شاید اس نے جانتے بوجھتے اگنی میں چھلانگ لگا دی ہے۔ اگر ہندوستان واقعی جنگ کے جنون میں مبتلا ہے تو یقینا اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہے۔ بقول علامہ اقبال  جس کا حامی ہو خدا اس کو مٹا سکتا ہے کون۔ یہ وطن جسے پاکستان کا نام دے کر قائم کیا گیا اللہ کی تائید و نصرت سے ہی قائم ہوا ہے۔ پاکستان ایسا تر نوالہ نہیں ہے کہ بھارت نشے میں چور ہوکر جسے نگل سکے۔ افواج پاکستان اور عوام سب مل کر بھارت کو ماضی کی مانند منہ توڑ جواب دے دیں گے کہ اسے چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا۔
بھارتی حکمران مشرقی پاکستان کو توڑ کر بنگلہ دیش بنانے میں مدد گار اور سہولت کار ہی نہیں تھے بلکہ وہ پوری طرح مشرقی پاکستان کو توڑنے میں مصروف عمل تھے جس کا اقرار اس وقت کی وزیر اعظم اندراگاندھی نے کیا تھا، لیکن اب پاکستان 71والا پاکستان نہیں رہا۔اب وطن عزیز کی اندرونی حالت پر سکون و پر امن ہے۔ بھارتی  خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘کو کوئی موقع نہیں مل رہا  کہ وہ کسی طرح اپنے ہرکارے ہماری سرحدوں میں داخل کرسکے۔ دوسرے یہ کہ بلوچستان کے معاملات بھی اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ وہ بھی اب قابو میں ہیں۔ وہاں بھارتی را کے نیٹ ورک کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا گیا ہے۔ بھارت اگر ہوش کے ناخن لے تو پہلے اپنے اندرونی معاملات کو درست کرے۔ خالصتان، اور دیگر علاقائی علیحدگی پسندوں سے نمٹے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بھارتی افواج کو پاکستان سے نبرد آزما ہونے سے ان قوتوں کو تقویت حاصل ہو اور وہ اندرونی طور پر اپنے مطالبات کے حق میں اٹھ کھڑے ہوں اور اپنی منزل پانے کی جدوجہد میں کامیاب ہوجائیں اور بھارتی نیتا نہ گھر کے رہیں نہ گھاٹ کے۔
خود بھارتی چینل سے ایک ہندو رپورٹر نے ہمارے ہی فوجی ترانے کا ایک نعرہ دہرایا  جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی ۔خود بھارت میں مودی سرکار کے کشمیر میں پلوامہ میں کیے گئے حادثے پر بھارتی حکمرانوں کوطرح طرح کے الزامات اور شبہات کا سامنا ہے۔ شاید وہاں سے عوام کی توجہ ہٹانے اور مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے بھارت نے پاکستان پر حملہ کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔ ان شااللہ فتح حق کی سچ کی ہوگی اور بھارتیوں کو منہ کی کھانا پڑے گی۔ اللہ ہمارا ہمارے وطن عزیز کا حامی و ناصر ہو آمین۔