08:14 am
اخروی زندگی کی فکر

اخروی زندگی کی فکر

08:14 am

(گزشتہ سےپیوستہ)
اگلی آیات میں قیامت کی ہولناکیوں کا تذکرہ ہے’آسمان اس سے پھٹ پڑنے والا ہے‘ اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔‘‘قرآن مجید کے کئی مقامات(مثلاً سورۃ الانفطار‘سورۃ الانشقاق‘وغیرہ) پر یہ بات آئی ہے کہ آسمان پھٹ جائے گا‘لیکن اس کی کیفیت کیا ہوگی اس کا ابھی ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔
 
    اگلی آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ درحقیت یہ ایک یاد دہانی اور وارننگ ہے کہ اگر تم اللہ کے پیغام کو قبول کرلو اور اس کے مطابق زندگی گزارو تو یہی چیزتمہارے لیے دنیا اور آخرت کی کامیابیوں کا ذریعہ بن سکتی ہے:’’یقینا یہ ایک یاددہانی ہے۔ توجو کوئی بھی چاہے وہ اپنے رب کی طرف راستہ اختیار کرلے۔‘‘
یہاں پرپہلا رکوع مکمل ہوا اور یہ رکوع مکی دور کے اوائل میں نازل ہوا ہے۔جبکہ اس سورۂ مبارکہ کا اگلا رکوع ایک ہی آیت پر مشتمل ہے اور یہ قرآن مجید کا واحد مقام ہے کہ پورا رکوع ایک آیت پر مشتمل ہے۔ اس رکوع کے حوالے سے قوی رائے یہ ہے کہ یہ مدنی ہے اور اس بارے میں ایک روایت بھی موجود ہے۔حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ یہ آیات مدنی دور میں نازل ہوئی ہیں۔اس آیت میں قیام اللیل کے حوالے سے مسلمانوں کو مزید رہنمائی دی گئی ہے۔ فرمایا: ’’(اے نبی !) یقیناآپ کا رب جانتا ہے کہ آپ قیام کرتے ہیں کبھی دو تہائی رات کے قریب‘ کبھی نصف رات اور کبھی ایک تہائی رات اور جو لوگ آپ ؐکے ساتھ ہیں ان میں سے بھی ایک جماعت آپ ؐکے ساتھ (کھڑی) ہوتی ہے۔‘‘
 اللہ جانتا ہے کہ آپؐکو قیام اللیل کا جیسے حکم دیا گیا تھا‘آپؐ نے بالکل ویسے ہی اس کا پورا اہتمام کیا ہے اور آپؐ کے ابتدائی دور کے ساتھی بھی آپؐ کے ساتھ اس قیام اللیل میں شریک ہوتے ہیں۔ 
’’اور اللہ ہی رات اور دن کا اندازہ کرتا ہے۔اللہ جانتا ہے کہ تم اس کی پابندی نہیں کر سکو گے‘‘۔یہاں سے مسلمانوں سے خطاب ہے ‘اس لیے اب جمع کے صیغے استعمال ہورہے ہیں۔یعنی آدھی آدھی رات جاگنا اتنا آسان نہیں ہے۔نبی اکرمﷺ کے لیے تو یہ لازم تھا‘تمہارے لیے نہیں ۔لیکن اگر تم نے بھی یہ کام کیا ہے تو یہ بہت اونچی بات ہے ۔یہاں یہ وضاحت اس لیے کردی گئی کہ اس کو مسلمانوں پر فرض نہ سمجھ لیا جائے۔
’’تو اُس نے تم پر مہربانی فرمائی ہے تو اب قرآن سے جتنا بآسانی پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو۔‘‘۔یہ اللہ کی شفقت ہے۔گویا تہجد کی نماز میں دو تہائی‘ایک تہائی یا نصف شب کی جو پابندیاں حضورﷺ پر تھیں‘یہ تمہارے لیے نہیں ہیں۔تم اپنی سہولت سے جتنا پڑھ سکو پڑھ لیا کرو۔
    آگے اس تخفیف کی وجوہات بھی بیان کردی گئیں۔ ’’اللہ کے علم میں ہے کہ تم میں کچھ لوگ مریض ہوں گے اور بعض دوسرے زمین میں سفر کریں گے ، اللہ کے فضل کو تلاش کرتے ہوں گے اور کچھ اللہ کی راہ میں قتال کر رہے ہوں گے۔چنانچہ جس قدر تمہارے لیے آسان ہو ‘اس میںسے پڑھ لیا کرو‘‘
مسلمانوں سے قیام اللیل کی پابندیاںختم کرنے کی تین وجوہات بیان کی گئی ہیں:(1)بعض لوگ بیمارہوتے ہیں اور بیماری کی حالت میں یوں آدھی آدھی رات جاگنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔(2)بعض لوگوں کو تجارت کے لیے دور دراز کے سفر کرنے پڑتے ہیں تو سفر کی حالت میں بھی قیام اللیل آسان نہیں ہے۔(3)مدنی دور میں آکر قتال کامرحلہ بھی شروع ہو گیا تھا جس کے لیے مدینہ سے باہر کے لمبے لمبے سفر کرنے پڑے۔آنحضورﷺ کا پہلا باقاعدہ غزوہ ’’غزوۂ بدر‘‘ ہے اور اس کے لیے آپؐ مدینہ سے نکل کربدر تک پہنچے ہیں۔ یہ بڑا لمبا سفر تھا اور کئی دنوں پر محیط تھا۔اسی طریقے سے غزوۂ حنین کے لیے بھی سفر کیا گیا۔پھر غزوۂ تبوک کے لیے کیا جانے والا سفر تین مہینے پر مشتمل تھا۔ایسے حالات میں رات بھر جاگتے رہنا کوئی آسان کام نہیں تھا تو ان وجوہات کی بنا پر تہجد اور قیام اللیل کو عام مسلمانوں کے لیے نفل قرار دیا گیا کہ جتنا آپ سہولت سے پڑھ سکو‘ پڑھ لیا کرو۔لیکن تشویق وترغیب ضرور ہے کہ سہولت کے ساتھ جتنا کر سکتے ہو‘ وہ ضرور کرو اس لیے کہ اس کے بہت سے فوائد ہیں اوریہ بہت اجروثواب کا باعث بھی ہے۔’’اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو‘‘
تہجد کی حیثیت تو نفل کی کردی گئی‘لیکن پنج وقتہ نماز فرض ہے تو اس میں کوئی تساہل اور کوئی کمی نہ ہو۔ پوری پابندی‘پورے آداب و شرائط کے ساتھ اس کی ادائیگی لازم ہے۔ 
 ’’اور اللہ کو قرضِ حسنہ دو۔‘‘ فرض زکوٰۃ کے علاوہ جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں دیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمے قرض ہے‘گویا وہ آپ نے اللہ کے بنک میں رکھوا دیا جہاں وہ مسلسل بڑھتا رہے گا۔ وہ اللہ نے تمہیں واپس کرنا ہے اوراللہ اتنے  زیادہ اضافے کے ساتھ واپس کرے گا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ 
اد رکھیے کہ انفاق فی سبیل اللہ کے لیے جہاں بھی قرض کا لفظ آیا ہے تو سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ انفاق ہے جو  اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے کیا جائے۔یہ گویا انفاق کی پہلی اور اہم ترین مد ہے۔ 
ہمارا رویہ یہ ہے کہ ہمارادلی رجحان اس مال کے ساتھ ہے جو ہمارے وارثین کے لیے رہ جائے گا۔یہ چیز انسانوں کو اور بدقسمتی سے مسلمانوں کو بھی سمجھ نہیں آئی۔ہماری ساری دوڑدھوپ اس دنیاکے لیے ہے اور  ہم نے آخرت کو بس سرسری اور کاغذی طور پر مانا ہے۔ اگرحقیقی اعتبار سے آخرت کو اپنا مستقبل مانا ہوتا تو پھر ہماری ساری کوشش آخرت کے لیے ہی ہوتی۔
سورت کے آخر میں فرمایا’’اور جو بھلائی بھی تم آگے بھیجو گے اپنی جانوں کے لیے‘ اسے موجود پائو گے اللہ کے پاس بہتر اور اجر میں بڑھ کراور اللہ سے مغفرت طلب کرتے رہو۔یقینا اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ‘رحمت فرمانے والا ہے۔‘‘
ایسا نہیں ہے کہ وہاں کوئی ریکارڈنہ ہو‘بلکہ وہاں تم ہر اس عمل کو دیکھ لو گے جو تم نے اس دنیا میں کیا تھا۔لہٰذا اگر کوئی کمی کوتاہی رہ گئی ہے تو اللہ سے معافی مانگو تو وہ غفور رحیم تمہیں معاف فرمادے گا اور تمہارا نامہ اعمال صاف کردے گا۔