08:15 am
افغان امن اوربھارتی بنیا

افغان امن اوربھارتی بنیا

08:15 am

غیرملکی ایجنسی کے مطابق طالبان اورامریکہ کے درمیان امن مذاکرات کی شرائط پراتفاق ہوگیاہے جس کے تحت غیرملکی فوجیں 18مارچ تک افغانستان چھوڑدیں گی جبکہ طالبان نے واشنگٹن کااہم مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے افغان سرزمین امریکی مخالفت میں استعمال نہ  ہونے دینے اورواشنگٹن میں داخل ہونے سے روکنے کی بھی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔افغان میڈیاکے مطابق طالبان نے جنگ بندی کوامریکہ کے افغانستان چھوڑنے سے مشروط کردیاہے اورکہاہے کہ جنگ بندی کے بعدافغان حکومت سے بھی مذاکرات ہوسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ کچھ دن قبل ترجمان پاک فوج میجرجنرل آصف غفورنے غیرملکی میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کہاتھاکہ پاکستان نے افغان طالبان اورامریکی حکام سے دوبارہ  مذاکرات کی میز پرلاکر اپناسہولت کارکاہدف پوراکردیاہے۔پاک فوج کے ترجمان نے مزیدکہاکہ افغان طالبان دوحامیں حالیہ امریکی قیادت میں مذاکرات سے پاکستان کونکال نہیں رہے ۔اس عمل میں طالبان کے متعدد گروپس اوراسٹیک ہولڈرزہیں ،اس لئے رابطہ میں وقت درکارتھااورپاکستان کیلئے وقت اورجگہ کیلئے کوئی ترجیح نہیں تھی ،ایک گروپ یا پارٹی رابطے سے ہٹتی ہے نتیجتاً شیڈول یاجگہ میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔
 
امریکی مذاکرات کے نتیجے میں کتنے ہی پرامیدکیوں نہ ہوں لیکن پاکستان کویہ مؤقف کہ اس عمل میں طالبان کے متعددگروپس اوراسٹیک ہولڈرز ہیں۔سوفیصدحقائق پرمبنی ہے لہنداامریکی حکام طالبان کے ساتھ اپنے مذاکرات کے حوالے سے کتنے ہی پرامیدکیوں نہ ہوںلیکن ان خدشات سے آنکھیں چرائی نہیں جاسکتیں کہ آیاطالبان اپنی مرضی سے افغانستان میں امن کے قیام کی ضمانت دے سکیں ؟جب اس سوال پرغورکیاجائے توپھرافغانستان کے اندرونی حالات پر غورکرنا لازمی امرہے کہ وہاں جنگ میں کون کون فریق شامل تھے اورقیام امن کیلئے کن کن فریقین کامتفق ہوناضروری ہے۔جہاں تک جنگ میں شامل فریقین کاتعلق ہے تواس میں دوتوواضح فرق ہیں۔ایک طالبان اوردوسرافریق شمالی اتحادجبکہ ان کے علاوہ خودطالبان میں کئی دھڑے ہیں جواس جنگ میں مصروف تھے اورسب سے بڑھ کربھارت کی قیادت وہ داعش جس کوبھارت نے اپنے مفادمیں وہاں تیار اورپھراس کومضبوط کیا،اس سے بھارت کامقصدیہ تھاکہ جب بھی افغانستان میں امن کی فضاء قائم ہونے لگے توداعش کواستعمال کرکے امن کی فضاء سبوتاژکردے کیونکہ افغانستان میں امن بھارتی مفادکے حق میں نہیں  اوراس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی فضا برقرار رکھنا چاہتا ہے تاکہ دہشت گردی کے ذریعے سے پاکستان کی دفاعی قوت اس حدتک ضعیف کردے کہ ہم بھارت کامقابلہ کرنے کے قابل نہ رہیں اوراس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں۔
اس ضمن میں افغانستان میں بدامنی اس لئے بھارتی مفادمیں ہے کہ وہ پاک بھارت سرحدسے پاکستان میں اپناکوئی ایجنٹ داخل نہیں کرسکتاکیونکہ یہاں بہت سخت نگرانی ہے البتہ پاک افغان سرحداتنی سخت اوربعض جگہوں سے ناقابل عبورہے لیکن وہاں کے مقامی باشندے ان ناقابل عبورچٹانوں میں بھی سرحدآرپارآنے جانے کے راستے جانتے ہیں اوربھارت انہی راستوں کے ذریعے سے پاکستان میں اپنے ایجنٹ اوردہشتگردبھیجنے کی سازش میں ملوث ہے اورجب تک افغابستان میں بدامنی قائم رہے گی اس وقت تک بھارت آسانی سے افغان سرزمین کوپاکستان کے خلاف استعمال کرسکے گا۔اگروہاں امن قائم ہوگیاتوپھرافغان حکومت بھارت کویہ کام نہیں کرنے دے گا،اسی لے افغانستان میں شورش اوربدامنی بھارت کے مفادمیں ہے۔
اب اگرامریکہ کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں طالبان جنگ سے ہاتھ روک بھی لیں توبھی داعش کے گروپ بھارتی ایماء پرافغانستان میں حملے شروع کرسکتے ہیں جن میں زیادہ تر افغان حکومت کے ارکان ،سرکاری فوج  اوریہاں تک ممکن ہوگاکہ امریکی فوجیوں کونشانہ بنایاجائے تاکہ امریکہ پریہی تاثرقائم ہوکہ طالبان کئے گئے اپنے قول سے پھرگئے ہیں اس طرح امریکہ افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلاء کے پروگرام سے منحرف ہوجائے گابلکہ امکان یہ ہے کہ طالبان کے خلاف بھرپوراندازمیں کارروائی شروع کردے اورحالات میں بھارتی داعش کے ایجنٹ سے امریکہ اورطالبان کی لڑائی کاجائزہ لیں گے اورجہاں ضروری سمجھیں گے طالبان امریکی فوجوں کے خلاف کارروائی کریں گے اوریہ کارروائی طالبان کی محبت میں نہیں بلکہ امریکی فوجوں کومشتعل کرنے کیلئے ہوگی۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ طالبان کے ساتھ امریکی مذاکرات کامیاب ہوئے ہیں اورطالبان بھی مذاکرات میں کئے گئے اپنے وعدوں کے مطابق عمل کریں گے لیکن افغانستان کے اندرونی حالات کیاطالبان کے کئے گئے وعدوں ان کی روح کے مطابق عمل ہونے دیں گے؟ یقیناًنہیں، لہٰذااگرامریکہ افغانستان میں پوری طرح امن چاہتاہے تواسے بھارت پردباؤڈالناہوگاکہ وہ افغانستان کے راستے پاکستان کے خلاف اپنی کارروائیاں مکمل طورپربند کرے ،جب تک یہ کارووائیاں نہیں رکیں گی اس وقت تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوگااور دہشتگردانہ حملوں کاسلسلہ جاری رہے گا۔
اس ضمن میں پاک فوج کی قیادت کو چاہئے کہ وہ پاک افغان سرحد پر زیر تعمیر باڑ اورنگرانی کرنے والی چوکیوں کی تعمیرمیں تیزی لاتے ہوئے اس منصوبے کوجلدازجلد تکمیل کے مراحل تک پہنچائے تاکہ پاک افغان سرحدمحفوط بنائی جاسکے اوروہاں سے آرپار جانے والوں کو مکمل طورپرچیک کیاجاسکے اورکسی بھی ناپسندیدہ شخص کووطن عزیزمیں داخل نہ ہونے دیا جائے کیونکہ بھارت پاکستان دشنی کی تصدیق اس امرسے بھی ہوتی ہے کہ وہ صرف افغانستان کوہی بنیادبنائے نہیں بیٹھابلکہ پاکستان کے خلاف مختلف محاذوں پربرسرپیکارہے جن میں ثقافتی جنگ اورآبی جنگ بھی زورشورسے جاری ہے کہ بھارت پاکستان کاپانی بند کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے اورپاکستانی دریاؤں پربھی بند تعمیر کر رہا ہے،گوگزشتہ چندروزقبل پاکستانی وفداس سلسلے میں بھارت گیالیکن اس سے کسی مثبت نتیجے کی امیدنہیں کیونکہ پاکستانی دریاؤں پرڈیموںکی تعمیر بھارت کی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف سازش کاحصہ ہے لہٰذا وہ پرامن طریقے سے کئے جانے والے مذاکرات کے نتیجے میں کوئی ایسی بات نہیں کرے گاجس سے پاکستان دفاعی لحاظ سے یااپنی ضرورت پوری کرنے کے لحاظ سے مضبوط اورخودکفیل ہوسکے۔اب یہ امریکی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سازش سمجھے اور پھر افغانستان میں قیام امن کیلئے کوششیں روبۂ عمل میں لائے تاکہ افغان عوام کوجوکئی عشروں سے جنگ کے شعلوں میں گھرے ہوئے ہیں ،وہ بھی امن کے ماحول میں زندگی گزارسکیں اوروہ افغان جنہوں نے جنگ کے شعلوں اوردہماکوں میں آنکھ کھولی ہے وہ بھی اپنی آنکھوں سے امن کے پربہارچمن کی بہاردیکھ سکیں اوراورپرامن ماحول میں سانس لے سکیں۔