08:17 am
ا مام العاشقین سیدنا ابوبکرصدیقؓ نے فرمایا

ا مام العاشقین سیدنا ابوبکرصدیقؓ نے فرمایا

08:17 am

ان دو کپڑوں کو دھو کر انہیں میں مجھے کفن دے دینا‘ کیونکہ فوت شدہ کے مقابلے میں زندہ آدمی نئے کپڑوں کا زیادہ حقدار ہوتا ہے‘ آپؓ کی لخت جگر ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے سرور دو عالمﷺ کے خلیفہ اول اور اپنے سربلند بابا کو نمناک آنکھوں کے ساتھ دیکھا اور گردن جھکا دی۔
یہ الفاظ اس جلیل القدر شخصیت کے ہیں کہ جس سے اللہ کے محبوبﷺ سے پوچھا تھا کہ ابوبکرؓ! گھر والوں کے لئے کیا چھوڑ آئے ہو‘ تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے عرض کیا تھا
کہ یا رسول اللہﷺ گھر والوں کیلئے اللہ اور اس کے رسولﷺ ہی کافی ہیں۔
آقاﷺ نے فرمایا تھا کہ جتنا مجھے سیدنا ابوبکرصدیقؓ کے مال سے فائدہ پہنچا ہے اتنا کسی کے مال سے نہیں پہنچا... یہ سن کر حضرت امام صدیقؓ رو پڑے اور عرض کیا کہ ’’میں اور میرا مال کیا چیز ہے جو کچھ ہے سب آپ ہی کے طفیل ہے۔حضرت سیدنا صدیق  اکبرؓ نے فرمایا...تاریکیاں پانچ ہیں اور ان کے چراغ بھی پانچ ہیں‘ حب دنیا تاریکی ہے اور اس کا چراغ تقویٰ ہے‘ گناہ تاریکی ہے اور اس کا چراغ توبہ ہے‘ قبر تاریکی ہے‘ اس کا چراغ لاالہ الااللہ محمد الرسول اللہ ہے آخرت تاریکی ہے اور اس کا چراغ نیک عمل ہے‘ پل صراط تاریکی ہے اور اس کا چراغ یقین ہے۔
حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ ایک اور موقع پر ارشاد فرماتے ہیں کہ آٹھ چیزیں آٹھ چیزوں کی زینت ہیں...پرہیز گاری زینت ہے فقر کی‘ شکر زینت ہے دولت مندی کی‘ صبر زینت ہے مصیبت کی‘ تواضع اور عاجزی زینت ہے شرف و بزرگی کی‘ حلم زینت ہے عالم کی‘ فروتنی اور عاجزی زینت ہے طالب علم کی‘  احسان نہ جتانا زینت ہے احسان کی‘ اور خشوع و خضوع زینت ہے نماز کی۔
حضرت عمرو بن العاص ؓ فرماتے ہیں  ’’ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ ؐ کو تمام انسانوں  میں سب سے زیادہ کون محبوب ہے ؟فرمایا عائشہ ؓ میں نے عرض کیا اور مردوں میں سے ؟ فرمایا ان کے والد ، میں نے عرض کیا پھر کون فرمایا عمر بن خطابؓ( بخاری و مسلم) 
حضرت ابو بکر صدیقؓ کے اس اعتماد  اور محبت کی بنا پر حضور ﷺنے فرمایا ’’ ابو بکر ؓ کی فضیلت نماز ، تلاوت اور روزوں کی کثرت  کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے دل میں قرار پانے والی ایک اعلیٰ چیز کی وجہ سے ہے جو کہ میری محبت ہے۔
9 ھ  میں غزوہ تبوک کے موقع پر حضور نبی اکرم ﷺنے مسلمانوں سے کہاکہ وہ راہ خدا میں اپنا اپنا مال لائیں تاکہ مسلمانوں اور مدینہ کے تحفظ اور دفاع کے انتظامات  کئے جاسکیں۔اس وقت حضرت عمر فاروق ؓ مدینہ کے لوگوں میںزیادہ متمول نظر آتے تھے لہٰذا اس وقت حضرت عمرؓ نے خیال کیا کہ وہ اس بار حضرت ابو بکر ؓ سے سبقت لے جائیں گے‘ اس لئے حضرت عمرؓ بڑی جلدی  میں اپنے گھر گئے اور بہت سامال و متاع  لے کر حضورنبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے ... اس قدر قربانی  اور جانثاری دیکھ کر نبی رحمتﷺنے بے حد خوش ہو کر استفسار فرمایا ’’اے عمر ؓکیا اپنے گھر والوں کے لئے بھی کچھ چھوڑ آئے ہو کہ نہیں ؟ اس پر حضرت عمرؓنے جواب دیا کہ’’ ہاں آدھا حصہ اپنے بال بچوں کے لئے چھوڑ آیا ہوں۔ ‘‘اسی اثنا میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ ایک کمبل اوڑھے بہت سا سامان  لے کر حاضر خدمت ہوئے آپؐ نے ان سے بھی  یہی سوال دہرایا ؟ حضرت ابو بکر صدیق ؓ جوسب کچھ  بارگاہ نبوت ﷺ میں پیش کر چکے تھے  ، نے انکساری اور عقیدت سے جواب دیا ’’میں اپنے اہل خانہ  کے لئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت چھوڑ کر آیا ہوں ‘‘یہی فقر کی انتہاء ہے کہ نہ ظاہر میں محبوب  کے سوا کسی شے کی طلب  نہ باطن میں محبوب کے سوا کسی کی محبت حضرت ابو بکر صدیقؓ کے اسی ایثار و قربانی  پر اللہ تعالیٰ نے راضی ہو کر یہ آیات نازل کیں ۔
ترجمہ ۔ اور آگ سے بچے گا وہ بہت متقی جو اپنا مال خرچ کرتا ہے اور کسی کا اس پر احسان نہیں  ہے جس کا بدلہ دیا جائے گا مگر رب اعلیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اور وہ عنقریب راضی ہو جائے گا۔‘‘
ایک اور موقع پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ’’جن لوگوں کا میرے اوپر محبت اور مال میں سب سے زیادہ احسان ہے ان میں ابو بکر ؓ ہیں اور اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابو بکر ؓ کو بناتا ، لیکن  اسلامی اخوت  و محبت کا رشتہ کافی ہے ۔‘‘
 رسول اکرمﷺ نے حضرت ابوبکرصدیقؓ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا ۔اے ابوبکرؓ بارگاہ الٰہی سے تم کو سب سے بڑی خوشنودی عطا ہوئی، دریافت کیا سب سے بڑی خوشنودی کیا ہے؟ فرمایا اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے لئے تجلی عام فرمائے گااور تمہارے لئے تجلی خاص۔
حضرت عمر بن یاسرؓ فرماتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ’’میرے پاس ابھی  حضرت جبرائیل امین علیہ السلام تشریف لایء تو میں نے کہا جبرائیل علیہ السلام مجھے عمر بن خطابؓ کے فضائل بیان کرو ‘ انہوں نے کہا یارسول اللہؐ اگر میں آپؐ کو اتنا عرصہ عمر فاروقؓ کے فضائل بیان کروں جتنا عرصہ حضرت نوح نے اپنی قوم میں قیام فرمایا یعنی ساڑھے نو سو سال تو عمرؓ کے فضائل ختم نہیں ہوں گے ۔ایک بار رسول اللہﷺ نے فرمایا میں جب معراج پر گیا تو آسمانوں کی سیر کے دوران مجھے ہر آسمان پر اپنا نام محمد رسول اللہﷺ اور اس کے بعد ابوبکر صدیقؓ لکھا ہوا دکھائی دیا۔
ایک اور بیان میں موجود ہے کہ ایک بار رسول اکرمﷺ نے بتایا کہ دنیا میں تین سو ساٹھ اچھے خصائل ہیں اس پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے حوالے سے دریافت  فرمایا’’یا حبیب اللہ ﷺ کیا ان خصائل میں سے کوئی مجھ میں بھی ہے؟‘‘ تو حضور ﷺ نے فرمایا ’’ابوبکرؓ یہ تمام اچھے خصائل تجھ میں ہی تو ہیں۔‘‘یہ حضورﷺ کا حضرت ابوبکر صدیقؓ پر اعتماد ہی تھا کہ آپؐ نے اپنے آخری ایام میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کو نماز کی امامت کا حکم دے کر امت کو ایک واضح اشارہ دے دیا کہ آپؐ کے ظاہری وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ کو خلیفہ منتخب کیا جائے۔ 

تازہ ترین خبریں