08:18 am
 20برس پہلے کا حساب

20برس پہلے کا حساب

08:18 am

٭وزیراعظم عمران خا ن کی مختصر، جامع مدبرانہ تقریر، بھارت میں اظہار تحسین !O.. مودی اور سشما!100 جوتے بھی پیاز بھی ! پسپائی کا اعلان !O..پاکستان میں جشن، بھارت میں سوگ !O..ترکی : پاکستان کی غیر مشروط حمائت !O..پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور پارلیمانی لیڈروں کے اجلاس ، بھارت میں کوئی اجلاس نہیں، مودی پر سخت تنقید، گالیاں !O..پاکستان کی فضائیہ نے بھارت کا 20  برس پرانا قرضہ چکا دیا، ڈرامائی واقعات !O..
 
٭قارئین کرام! اوپر والی ساری باتوں پر تبصرے بعد میں پہلے ایک بہت اہم تاریخی واقعہ کا ذکر۔ گزشتہ روز پاک فضائیہ نے بھارت کے دو طیارے تباہ، دو پائلٹ ہلاک اور ایک پائلٹ گرفتار کرکے20 سال پرانا حساب چکا دیا ہے۔ قدرت کس طرح پانسہ پلٹتی ہے۔
٭’’19 سال سات ماہ پہلے ، کارگل کی جنگ کے ایک ماہ بعد، 10اگست1999 صبح10 بجے ، پاک بحریہ کا ایک عام پٹرولنگ طیار ہ’’ اٹلانٹا‘‘ ، سمندری ساحل کے ساتھ رن آف کچھ کے دلدلی علاقہ ’سرکریک‘ پر پہنچتا ہے۔ اس میں بحریہ کے پانچ بڑے افسر اورگیارہ جوان سوار ہیں۔ یہ طیارہ بھارتی سرحد سے کافی دور ہے۔ اس پر اچانک بھارتی ایئر فورس کے دو مِگ طیارے جھپٹتے ہیں اور راکٹ برسادیتے ہیں۔ اٹلانٹا گر کر تباہ ہو جاتاہے۔ تمام 16 افراد شہید ہو جاتے ہیں۔ طیارے کا ملبہ پاکستان کی سرزمین پر گرتاہے۔ اسے فوری طورپر بھارتی فوجی اٹھا کربھاگتے ہوئے اپنی طرف لے جاتے ہیں ۔ ایک بھارتی ہیلی کاپٹر بھی یہ کام کررہاہے۔دونوں مگ طیارے دو بھارتی پائلٹوں ونگ کمانڈر شرمااور سکواڈ رن لیڈر پی کے بندیلہ نے اڑائے ہیں۔ بھارتی حکومت اٹلانٹا طیارے کاملبہ دہلی کی ایک نمائش گاہ میں رکھ دیتی ہے ۔ پائلٹوں کو تمغے دیئے جاتے ہیں۔ پاکستان احتجاج کرتا ہے کہ طیارہ اس کی اپنی حدود میں تھا۔ بھارتی فوجیوں کی طیارے کا ملبہ اٹھائے بھاگنے کی تصویریں بھی دکھاتا ہے مگر بھارت اسے تسلیم نہیں کرتا۔ پاکستان کا وزیراعظم’ نوازشریف‘ بھارت سے کوئی رسمی احتجاج نہیں کرتا اس واقعہ پر صرف اتنا کہتا ہے کہ بھارت نے بربریت کا مظاہرہ کیا ہے۔ دوماہ پہلے بھارت کا وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اس سے گورنرہاؤس لاہور میں جھپیاں ڈال کر گیا ہے۔ ( پاک افواج کے سربراہ غیر حاضر رہے) مشاہدحسین وزیر اطلاعات بھی چپ ہے۔ عوام شور مچاتے ہیں، مسلح افواج ناراض ہوتی ہیں تو بھارت کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ دائر کیاجاتا ہے۔ وکیلوں کو کروڑوں روپے فیس ادا کی جاتی ہے۔ عدالت پہلی سماعت میں ہی یہ کہہ کر مقدمہ خارج کردیتی ہے کہ یہ عدالت اس مقدمہ کو سننے کی مجاز ہی نہیں۔ کروڑوں روپے ضائع ہو جاتے ہیں اور نوازشریف کی حکومت اس معاملہ کو ختم کردیتی ہے۔ نواز شریف کو بھارت نوازی بہت مہنگی پڑتی ہے۔ دو ماہ بعد فوج اسے برطرف کر دیتی ہے۔
Oدوسرا منظر: 27 فروری 2019:دُہی ’ سرکریک‘ والا وقت صبح10 بجے، بھارتی ایئرفورس کے2 مِگ طیارے آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ پاک فضائیہ کے پائلٹ ان پر جھپٹ پڑتے ہیں۔ ایک مگ طیارہ مقبوضہ علاقے میں گر کر جل جاتا ہے اس کےدونوں پائلٹ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ دوسرا طیارہ آزاد کشمیرمیں گر تا ہے ۔ اس کا پائلٹ ونگ کمانڈر’ابھے نندن‘ پیرا شوٹ سے نیچے آتا ہے۔ مقامی لوگ اس کی پٹائی کرتے ہیں۔ فوج فوراً پہنچ کر اسے اپنی تحویل میں لے لیتی ہے۔ بھارت کی وزارت دفاع اعلان کرتی ہے کہ اس کا ایک مگ طیارہ اوراس کا پائلٹ ’ابھےنندن‘ لاپتہ ہیں۔ پاکستان کی طرف سے اعلان آتا ہے کہ طیارہ تباہ کردیاگیا ہے۔ ’ابھے نندن‘ قید میں ہے۔ صرف ایک دن پہلے بھارت میں‘ آزاد کشمیرمیں تین مقامات پر بھارتی ایئر فورس کے سرجیکل سٹرائیکس کا جشن منایاجا رہا ہے۔ کوئی تصویری ثبوت پیش نہیں کیا جاتا۔ اب اچانک پانسہ پلٹ گیاہے۔ پاکستان میں جشن اور بھارت میں سوگ منایا جارہاہے۔ پاکستان کے وزیراعظم کی قوم کے نام مختصر، جامع مگر بہت مدبر انہ تقریر آتی ہے کہ ہم نے بھارت کو سخت جواب دے دیا ہے، آئندہ بھی دے سکتے ہیں مگر بہتر ہے کہ جنگ کی بجائے امن کی کوشش کی جائے۔ بھارت میں تقریر کی تعریف شروع ہو جاتی ہے۔ 
O تیسرا منظر: بھارت میں ایک روز پہلے مودی کی حکومت، انتہا پسند ہندوؤں اور میڈیا نے پاکستان کے خلاف طوفان اٹھارکھاہے۔ بھارت کے سرجیکل سٹرائیکس پر جشن ، گانے ، پاکستان کودھمکیاں گالیاں! اگلے روز27  فروری،10 بجے صبح، پاکستان کا اعلان آتا ہے کہ بھارت کے دو طیارے گرا دیئے گئے ہیں، دو پائلٹ ہلاک، ایک گرفتار ہو چکا ہے ۔  بھارتی حکومت اس اعلان کو درست تسلیم کرلیتی ہے ۔ جشن سوگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے امن کی تجویز آنے پر ہوا کارُخ بدل جاتا ہے۔ 21 اپوزیشن پارٹیاں مودی حکومت پر ’لاٹھی چارج‘کردیتی ہیں۔ ٹیلی ویژنوں پر پاکستان کے خلاف طوفان اٹھانے والے اینکر پرسن عام صحافی اور دوسرے لوگ پاکستان کے وزیراعظم کی مدبرانہ تقریر کی مداح سرائی کرنے لگتے ہیں۔ مودی پر سخت تنقید کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے کہ اس نے اپنی ذاتی سیاست اور مفادکی خاطر بھارت کو ذلیل کرادیا، اس کےطیارے تباہ اور پائلٹ ہلاک وگرفتار کرادیئے ہیں۔ بھارتی عوام سخت غم و غصے کے عالم میں ہیں۔ انکشاف ہوتا ہے کہ بھارت کے پاس وہی پرانے مگ طیارے ہیں جو 1960 میں روس سے خریدے گئے تھے۔ ان59 سالہ بوڑھے طیاروں کی صلاحیت بالکل ختم ہوچکی ہے۔ ایک مگ طیارہ صرف 2500 گھنٹے تک پرواز کا اہل ہوتاہے، ان طیارو ں کے بار بار پرزے تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ یہ 2500 گھنٹے سے کئی گنا پرواز کرتے رہے ہیں۔ اب بالکل ناکارہ ہو چکے ہیں۔ متعدد مگ طیارے ویسے ہی گر چکے ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان کی فضائیہ جدید ترین طیاروں سے لیس ہے۔ مودی حکومت سے سوال کیاجارہاہے کہ پاکستان میں پارلیمنٹ کمانڈ اینڈکنٹرول پارلیمانی لیڈر وں اور قومی سلامتی کونسل کے اجلاس ہورہے ہیں۔ بھارت میں ایسا کوئی اجلاس کیوںنہیں ہوا؟ اپوزیشن کو کسی موقع پر اعتماد میں نہیں لیا جارہا اور مودی خود یک طرفہ فیصلے کیے جارہے ہیں۔
٭قدرت کا نظام بھی عجیب ہے، پاکستان میں گرفتار بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ’’ابھے نندن‘‘ کا والد نندن کمار بھی انڈین ایئر فورس کا ایئر مارشل اور اس کی بیوی سکواڈرن لیڈر رہ چکے ہیں۔ نندن کمار جب ونگ کمانڈر تھا تو بھارت میں ایک فلم بنی، فلم میں اس کا ہیرو انڈین ایئر فورس کا پائلٹ بن کر پاکستان میں قید ہو جاتا ہے ۔ نندن کمار نے فلم ساز کی درخواست پر فلم کے ہیرو کو پائلٹ بننے کے سارے مرحلے اور جاسوسی کے طریقے سمجھائے اور پاکستان کی قید سے نکلنے کا گُربتایا۔ قدرت کے کھیل ! اسی نندن کمار کا بیٹا ابھے نندن اس وقت پاکستان کی قید میں ہے۔ رہائی کے لیے والد کا بتایا ہوا کوئی گُر اس کے کام نہیں آرہا! سشما سوراج بھی نڈھال ہوکر کہنے پر مجبور ہوگئی کہ ہم پاکستان کے ساتھ تنازعہ کو آگے نہیں بڑھانا چاہتے۔
٭ آزاد کشمیرمیں پُونا کے جس مقام پر بھارتی طیارہ گر کر تباہ ہوا، وہاں پر کھڑے سابق صوبیدار محمد رفیق نے دلچسپ بات بتائی ہے کہ اس نے طیارہ گرتے ہوئے خود دیکھا۔ بہت سے مقامی لوگ وہاں پہنچ گئے۔ تھوڑ ی دیر میں پائلٹ بھی پیراشوٹ سے اترآیا۔ کچھ افراد نے اسے پکڑ کر تھپڑ مارے تاہم پاک فوج نے اسے بچالیا۔ تھوڑی دور بچو ں کا سکول ہے۔سکول کے سارے بچے بھاگتے ہوئے آئے اور پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد کے نعرے شروع ہو گئے۔ وہ کہیں سے پھول لے آئے اور فوجی جیپوں پر برسانے لگے۔ یہ منظرآج بھی اسی طرح جاری ہے، لوگ نعرے لگارہے ہیں۔اس طرح کے اور بہت سے پیغامات آرہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں