08:20 am
ڈاووس تا کراچی

ڈاووس تا کراچی

08:20 am

کراچی کونسل آن فارن ریلیشنز(KCFR) نے 24 فروری 2019 ء کو شہر قائد اعظم میں ایک تقریب منعقد کی، جس کے مہمان خصوصی سابق چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس (ر) ثاقب نثار تھے۔ تقریب کا موضوع گلوبل ڈیویلپمنٹ کے تناظر میں پاکستان کے مسائل اور ان کے متوقع حل کی نشان دہی اور بین الاقوامی اور مقامی افکار میں ربط پیدا کرناتھا۔   
 
اس مباحثے میں پاتھ فائنڈرگروپ اور  مارٹن ڈوئو  گروپ سہولت کار تھے۔ کے سی ایف  آر  ریاست اور سماجی اداروں میں موثر اصلاحات کے ذریعے پاکستانی عوام کی زندگی میں تبدیلی لانے کے لیے کوشاں ہے۔اتوار کے روزمنعقدہ کے سی ایف  آر  کا سیشن   پاتھ فائنڈراور   مارٹن ڈوئو  کی کوششوں کا تسلسل ہے، جنھوں نے قبل ازیں ڈاووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم میں پاکستان کی پریزنٹیشن تیار کی تھی۔ اس طرح ڈاووس کے عالمی مباحثے کو نہ صرف پاکستانی عوام تک پہنچایا گیا، بلکہ عالمی فورم پر ہونے والے غور و فکر کے نتائج سے پاکستان کے موجودہ حالات میں استفادہ کا مقصد بھی حاصل کیا گیا۔ اس ایونٹ کے انعقاد کے ذریعے کے سی ایف  آر  نے کامیابی سے عالمی افکار کو مقامی سوچ سے ہم آہنگ کیا۔ امید کی جاسکتی ہے کہ اس نوع کی سرگرمیوں کے ذریعے مسائل کے سدباب میں عوامی دلچسپیوں کو مہمیز کیا جائے گا۔
ڈاکٹر ہما بقائی نے، جو کے سی ایف  آر کی سیکرٹری جنرل اور پرائم منسٹر کی خارجہ امور کی ایڈوائزی کونسل کی رکن ہیں، اپنے افتتاحی کلمات میں اس سرگرمی کے ورلڈ اکنامک فورم میں گذشتہ ماہ ہونے والی سرگرمی سے ربط پر روشنی ڈالی، جہاں سیارہ زمین کے ماحول میں آنے والی گرواٹ سے جنم لیتی ان سماجی وماحولیاتی مشکلات پر بات کی گئی تھی، جن کے نتیجے میں دنیا بھر میں غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ ڈاووس میں ہونے والی تقریب کا پیغام یہ تھا کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام، جو منافع میں مسلسل اضافے پر انحصار کرتا ہے، اسے بہ ہر صورت تبدیل ہونا ہوگا، اور آج کا وقت ایسے سرمایہ دارانہ نظام کا متقاضی ہے، جس میں سرمایہ دار کا ضمیر بھی شامل ہو۔
 میاں ثاقب نثار نے ڈاکٹر ہما بقائی کے خیالات کے تسلسل میں پاکستان کے سلگتے ہوئے مسائل پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے سورہ رحمان کی اِس آیت کے ساتھ ’’اور تم اللہ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے‘‘ سے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ یہ قرآن پاک کی پر اثر ترین آیات میں سے ایک ہے،جس میں خدا ہمیں اپنی بیش قیمت نعمتوں کی سمت متوجہ کرتا ہے۔اس نے ہمیں نعمتیں عطا کیں اور لازم کیا کہ ہم ان کا شکر کریں، جن میں پانی اور پھل شامل ہیں۔
میاں ثاقب نثار نے یاددہانی کروائی کہ پاکستان ہمیں بیٹھے بٹھائے حاصل نہیں ہوا، اس کے لیے بے پناہ افراد نے جدوجہد کی۔انہوں نے کہا کہ یہ ریاست اللہ کا تحفہ ہے اور قوم کے لیے رحمت ہے۔بہ قول ان کے،’’ہم نے اسے مفت میں حاصل نہیں کیا، نہ ہی یہ ہمیں خیرات میں ملا ، یہ قائد اعظم کی جدوجہد، علامہ اقبال کے خواب اور بابا بلے شاہ کے ویژن کا نتیجہ ہے، اس کے علاوہ اس میں بے شمار افراد کی قربانیاں شامل ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ ہجرت کے بعد جو افراد پاکستان پہنچتے تھے، وہ ایسی خوشی اور طمانیت محسوس کرتے کہ فرط جذبات سے ان کی آنکھیں چھلک پڑتیں۔البتہ اب جذبہ حب الوطنی ماند پڑ رہا ہے، جو پریشان کن ہے۔  انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان اپنے قیام کے ستر برس بعد بھی کمزور ریاست ہے، اس کے ادارے اپنے بنیادی وظیفے کی ادائیگی میں ناکام نظر آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ریاست اپنے عوام کے بغیر مستحکم نہیں ہوسکتی۔البتہ پاکستان میں ایسا نہیں ہوسکا۔ یہاں اشرافیہ کے مختصر سے ٹولے نے اِسے اپنے مفادات اور اقتدار کے حصول کا ذریعہ بنا لیا۔جب کہ اصل کام عوام کواپنے ساتھ شامل کرکے ملک کو مضبوط اور مستحکم بنانا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے تعلیم لازمی ہے۔
اس موقع پر میاں ثاقب نثار نے عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ہمارے ہاں قانون کا یکساں طور پر احترام نہیں کیا جاتا، انصاف کے اطلاق کے لیے بلا تفریق احتساب ضروری ہے،اِس کے حصول کے بعد ہی انصاف کی فراہمی ممکن ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ان کے جانشین اور موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان عدالتوں میں جھوٹی گواہی کے خلاف کارروائی سے اِس ضمن میں اہم اقدام کر چکے ہیں۔
سابق چیف جسٹس نے دو مزید اہم مسائل کی نشان دہی کی۔ پہلا پانی کا مسئلہ اور دوسرابڑھتی آبادی کا معاملہ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پانی کو ذخیرہ کرنے، تقسیم اور اس کے انتظام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرناضروری ہے۔ غیرمحفوظ پانی کے باعث عوام کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیںاور طبی ماہرین یہ کہتے ہیں کہ پاکستانیوں کولاحق ہونے والی نصف بیماروں سے فقط صاف پانی کی فراہمی سے بچا جاسکتا ہے۔تیزی سے بڑھتی آبادی کی وجہ سے قدرتی وسائل، جیسے پانی کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے حاضرین پر واضح کیا کہ ملک کے خوش حال مستقبل کے لیے اس مرحلے پر آبادی کے کنٹرول اور وسائل کی تقسیم سے متعلق موثر اور جامع منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آبادی کنٹرول کرنے کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے گئے، تو اگلے تیس برس میں ہماری آبادی 220 ملین سے 390ملین تک جا پہنچے گی۔
سوال و جواب کے سیشن میں میاں ثاقب نثار نے بڑی فصاحت سے ان سوالوں کے جواب دیے، جوذاتی طور پر ان کے دل کے بے حد قریب ہیں، یعنی صاف پانی کی فراہمی اور اُسے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مشن کا بنیادی محور گورننس کے نظام میں بنیادی انسانی حقوق کی قدر کی شمولیت ہے۔ اس موقع پر انہوں نے عدالتی نظام، اٹھارویں ترمیم، صوبائی خود مختاری کی اہمیت، وسائل کا ضایع اور آبادی میں اضافے جیسے موضوعات پر مفصل روشنی ڈالی۔ سیاست کی سمت آنے کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ وسائل سے محروم افراد کے لیے بلامعاوضہ قانونی مشاورت کے سلسلے میںاقدامات ان کے پیش نظر ہیں۔یہ تھے ایک سچے پاکستانی کے خیالات و افکار، جو انسانیت کی خدمت کے لیے کوشاں ہے۔

تازہ ترین خبریں