08:21 am
پاکستان میں اسلام کیوں نہیں آسکا؟

پاکستان میں اسلام کیوں نہیں آسکا؟

08:21 am

مملکت خدادادپاکستان کو قائم ہوئے سات عشرے گزرچکے ہیں ۔غور طلب بات یہ ہے کہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والی اس خداداد ریاست میں آج بھی اسلام سرنگوں اور پامال کیوں ہے؟پاکستان بنانے والے بھی مسلمان تھے اور پاکستان میں بسنے والی غالب اکثریت بھی مسلمانوں پر مشتمل ہے پھر کیا وجہ ہے کہ اکہتر سال گزرنے کے بعد بھی یہاں اسلام نہ آسکا؟ظاہر بات ہے کہ اس کاالزام چند افراد پر عائد کردینا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔یہ پوری قوم کی غفلت کا مجرمانہ نتیجہ ہے اور اس جرم میں قوم کے تمام افراد اور طبقات اپنے اپنے مقام و مرتبے کے اعتبار سے شریک ہیں۔قوم کی قیادت پر فائز لوگ ، خواہ وہ سیاسی قیادت ہو یا مذہبی، یقینا زیادہ قصوروار ٹھہریں گے اور عوام الناس کم درجے کے مجرم شمار ہوں گے ،لیکن کوئی بھی اس جرم سے بر ی الذمہ قرارنہیں دیا جاسکتا کیونکہ    
 
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر   
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
پاکستان کا قیام عالم اسباب میں مسلم لیگ کی جدوجہد کا مرہون منت تھا۔لیکن مسلم لیگ کو سیاسی جماعت کی بجائے ایک تحریک کہنا زیادہ درست ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی پاکستان قائم ہوا ، تحریک کا جوش سرد پڑگیا اور مسلم لیگ پر اضمحلال طاری ہوگیا۔اس کی تلافی کی یہ مصنوعی صورت اختیار کی گئی کہ مسلم لیگ کی صدارت اور ملک کی وزارت عظمیٰ ایک ہی شخص میں جمع کرکے قومی جماعت کو حکومت کا سہارا دیا گیا لیکن    ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ کے مصداق مسلم لیگ کی جڑیں عوام میں کمزور پڑتی چلی گئیں ،یہاں تک کہ جلد ہی وہ صرف سرکار و دربار کی زیبائش اور آرائش کا ذریعہ بن کر رہ گئی۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کی ملکی سیاست صرف وڈیروں، جاگیرداروں ، نوابوں اور قبائلی سرداروں کی ذاتی مفادات کا کھیل بن کر رہ گئی جس میں جلد ہی انگریزسے ورثے میں ملنے والی سول اور فوجی بیوروکریسی بھی شامل ہوگئی۔وہ دن اور آج کاد ن ، پاکستان میں ان تینوں کو اقتدار کے مستقل ستونوں کی حیثیت حاصل ہے اگر چہ بعد میں سرمایہ دار اور صنعتکارطبقے کو بھی اس میں شرکت حاصل ہوگئی ہے‘چنانچہ ایک مخصوص حکمراں طبقہ وجود میں آگیا جو لیبل بدل بدل کر اقتدار میں آتا رہتا ہے اور جس کا سوائے اپنے مفادات کے تحفظ اور مراعات کے حصول کے، کوئی منشور ہے اور نہ نظریہ۔
اس ضمن میں یہ اہم حقیقت پیش نظر رہنی چاہئے کہ وہ مذہبی جذبہ جو کہ پاکستان کے قیام کا موجب بنا تھا وہ اب یہاں نفاذ اسلام اور اس کے بقاء  اور استحکام کا ضامن نہیں بن سکتا۔اس لئے کہ اس وقت مقابلہ غیر مسلموں سے تھا‘۔لہٰذا ہر وہ شخص جومسلمان کے گھر میں پیدا ہوا اور مسلمانوں کا سانام رکھتا تھا ،نہ صرف شامل اور شریک ہوسکتا تھا بلکہ اس کے قائدین تک کی صفوں میں بار پاسکتا تھا۔ قطع نظر اس کے کہ اس کے اسلام ، اخلاق اور کردار کاعالم کیا تھا۔اس وقت تو نعرہ یہ تھا کہ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ۔مگر قیام پاکستان کے بعد یہاں اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے وہ حقیقی اسلامی جذبہ درکار تھا جو انسان کے کردار و اخلاق کو صحیح اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا۔
عوام کا اسلام کے ساتھ عملی تعلق پہلے بھی بالعموم قابل رشک نہیں تھا لیکن پاکستان بننے کے بعد تو رہا سہا بھرم بھی اٹھ گیا۔جس کی ایک وجہ تو قیام پاکستان کے دوران نقل آبادی کے نتیجے میں شروع ہونے والا جعلی کلیموں اور الاٹمنٹوں کا چکر تھا جس نے دیانت و امانت کے تصور کی بیخ کنی میں اہم کردار ادا کیا۔دوسرے ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے پھیلانے جانے والے افکار و نظریات اور مادہ پرستانہ طرز عمل کے اثرات تھے جنہوں نے پورے معاشرے کو پراگندہ کردیا۔چنانچہ اس وقت اگر اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو نظر آئے گا کہ اس کی غالب اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہے جن کا دین و مذہب کے ساتھ سرے سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا ماسوائے چند ناگزیر تمدنی اورسماجی امور کے مثلاً شادی بیاہ، تکفین و تدفین سے متعلق رسومات اور کچھ مذہبی تہوار وغیرہ ۔البتہ ایک قلیل تعداد ان لوگوں کی ضرور ہے جو دین و مذہب سے عملی دلچسپی رکھتے ہیں لیکن ان کی اکثریت کا تصور دین بھی اکثر و بیشتر نہ صرف محدود بلکہ مسخ شدہ بھی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مذہب کے نام پر نت نئی رسومات ایجاد ہوتی رہتی ہیں اور بدعات و رسومات کا بازار گرم ہوتا چلا جاتا ہے۔اگرچہ ان لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو دین کا ہمہ گیر تصور رکھتے ہیں اور وہ اسلام کو مذہب نہیں بلکہ دین سمجھتے ہیں اور ان کے دل میں احیاء اسلام کی آرزو اور اقامت دین کی تمنا بھی موجود ہیں لیکن ان کی اکثریت کابھی یہ حال ہے کہ وہ خود کچھ کرنے کے لئے تیار نہیں۔
اب آخر میں اس طبقے کی طرف آئیں جس کی طرف اسلام کا نام آتے ہی ذہن فوراً منتقل ہوجاتا ہے۔اس طبقے میں ہماری آبادی کی بمشکل ایک فیصد بلکہ شائداس سے بھی کم تعداد ہے۔یہ دینی طور پر متحرک لوگوں کا وہ طبقہ ہے جو بہت سی مذہبی یا نیم دینی یا نیم سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہے۔ان میں سے دو تو جماعتیں ہیں اور کم ونصف درجن جمعیتیں ہیں جن کا تقسیم در تقسیم کا سلسلہ کچھ ایساپیچ در پیچ ہے کہ عام آدمی کی سمجھ میں آنے والا نہیں۔مذہب کی نام لیوا بلکہ علمبردار جماعتوں اور جمیعتوں کے ضمن میں سب سے بڑا المیہ ان کا باہمی اختلاف بلکہ مخالفت ہے جو حد درجہ مکروہ الزام تراشی بلکہ دشنام طرازی کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔جس نے نوجوان نسل کو اس طبقے سے ہی نہیں دین و مذہب سے بھی متنفر اور بدظن کردیا ہے۔بالخصوص جب سے ہماری دینی جماعتوں نے انتخابی سیاست میں قدم رکھا ہے، فرقہ وارانہ اختلافات کی شدت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ان میں سے ہر پارٹی اسلام کے نام پر ووٹ مانگتی ہے اور ہر ایک کو اپنا اسلام دوسروں سے الگ دکھانا پڑتا ہے جس کا سارا فائدہ سیکولر جماعتوں کو پہنچتا ہے۔چنانچہ جس مایوس کن شکست کا سامنا مذہب کے نام لیوائوں کو ملک کے عام انتخابات میں کرنا پڑتا ہے اس میں بہت حد تک دخل اس باہمی تفرقہ بازی اور سر پھٹول کو حاصل ہے۔یہ وہ چند نمایاں عوامل ہیں جو پاکستان میں اسلامی نظام کے قیا م کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
پاکستان کی بقا اور استحکام صرف اور صرف اسلام کے ساتھ وابستہ ہے ۔نظام خلافت یعنی اسلامی نظام کا قیام و نفاذ ہی ہمارے استحکام اور ترقی کا ضامن بن سکتا ہے لیکن افسوس کہ اسلام کی جانب پیشرفت کی کوئی بھرپور اور موثر کوشش تا حال دکھائی نہیں دیتی۔یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ صرف اورصرف اسلام کا نظام زندگی ہی عدل اجتماعی کا ضامن ہے ۔آج بھی نوع انسانی ایک صحیح معنوں میںعادلانہ نظام کی پیاس شدت سے محسوس کرتی ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان کسی خطہ  زمین میں اس نظام کوبالفعل قائم و غالب کرکے اس کا ایک نمونہ دنیا کے سامنے پیش کردیں۔کاش یہ سعادت مملکت خداداد پاکستان کے حصے میں آئے۔لیکن اگر ہم ایسا نہ کرسکے تو دنیا کی نگاہ میں مجرم ٹھہریں گے اور آخرت میں بھی سخت ترین بازپرس ہم ہی سے ہوگی۔

تازہ ترین خبریں