08:24 am
اسلامی کانفرنس کا بائیکاٹ، بھارتی پائلٹ واپس

اسلامی کانفرنس کا بائیکاٹ، بھارتی پائلٹ واپس

08:24 am

٭پاکستان نے اسلامی وزرائے خارجہ کانفرنس کا بائیکاٹ کردیا، بھارت کو کیوں بلایا؟O پارلیمنٹ : تمام پارٹیوں کی خو ش گوار یک جہتی !O..بھارتی پائلٹ واپس، بھارت میں خاموشی !O..جنگ کی باتیں رک گئیں !O ٹرانسپورٹروں کی 1000گاڑیاں فوج کے سپرد !O..دوستی بس چل پڑی !O..روس کی ثالثی کی پیش کش، پاکستان نے قبول کرلی !O..فوجیں ہائی الرٹ  !O..پاکستان کی سرحد پر 14000 بھارتی مورچے !O..
 
٭پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بلاتفریق حکومت اور اپوزیشن پارٹیوں میں نہایت خو ش گوار ہم آہنگی اوریک جہتی دیکھنے میں آئی۔ تمام مقررین نے صرف بھارت کی جارحیت اور قومی سلامتی کی باتیں کیں، اپنی افواج کی بہادری اورفرض شناسی کو خراج تحسین پیش کیا۔ میرے خیال میں سب سے زیادہ پر جوش اور توانا تقریر اپوزیشن لیڈر میاں شہبازشریف کی تھی۔ حقیقی جوش وجذبہ، بھارت اور مودی کو کھلے الفاظ میں کھری کھری سنائیں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے حکومت کو مکمل تعاون کایقین دلایا۔ شہبازشریف نے ایوان میں نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومتی ارکان سے بھی ہاتھ ملایا! راجہ ظفر الحق نے کہا کہ بھارت کبھی راہ راست پر نہیںآسکتا۔ مجھے ایک پرانی مثال یاد آرہی ہے کہ ایک ٹیڑھی دُم کو سیدھا کرنے کے لیے ایک بانسری میں ڈال دیاگیا ، 100 سال بعد باہر نکالی تو وہی ٹیڑھی! مشترکہ اجلاس میں پیپلز پارٹی سربراہ آصف زرداری، راجہ پرویز اشرف، سید خورشید شاہ ، مولا بخش چانڈیو نے بھی بھرپور تقریر یں کیں۔ آصف زرداری نے بھی بھارت کے جنگی جنون کی شدید مذمت کی۔مجھے اے این پی کے جناب غلام احمد بلور کے اس بیان نے بھی بہت متاثر کیا ہے کہ کوئی مشکل وقت آیا تو ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے اے این پی اگلی صف میں کھڑی ہوگی۔ زندہ باد خان صاحب! قارئین کرام آئیے دعا مانگیں کہ ہماری سیاسی پارٹیوں محض ہنگامی صورت حال کا ہی انتظار نہ رہا کرے، انہیں خدا تعالیٰ عام حالات میں بھی مل جل کر رہنے کی توفیق عطا فرمائے!
٭اوراب کچھ بھارتی پائلٹ کی باتیں! وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ میں اسے واپس بھیجنے کا ڈرامائی اعلان کرکے سنسنی پھیلا دی۔ بھارتی پائلٹ ابھے نندن کو صرف دو روز اس کا مگ طیارہ تباہ ہونے پر آزاد کشمیر میں گرفتار کیاگیا تھا۔ بھارتی حکومت نے اسے فوراً رہا کرنے کا تحریری مطالبہ کیا تھا۔ عمران خان نے اسے رہا کرنے کااعلان کرتے وقت بھارتی حکومت کے مطالبے کا ذکر نہیں بلکہ پاکستان کی طرف سے امن کے قیام کی طرف ایک قدم قرار دیا۔ اس اعلان کا پارلیمنٹ کے اندر، باہر اور بیرون ملک خیر مقدم کیا جارہاہے اور اسے پاکستان کی طرف سے اہم مثبت قدم قرار دیاجا رہاہے تاہم ملک کے اندر بعض حلقوں نے اس اقدام کی مخالفت بھی کی ہے، بلکہ ہائی کورٹ میں پائلٹ کی واپسی روکنے کے لیے رٹ درخواست بھی دائر کردی گئی۔ پائلٹ کوتین بجے سہ پہر واہگہ بارڈر کے راستے سے واپس جانا تھا۔ ہائی کورٹ نے رٹ درخواست پر وفاقی حکومت کورسمی نوٹس بھیج دیا ہے مگر اس کا جواب آنے تک پائلٹ انڈیا پہنچ چکا ہوگا۔ اس کی واپسی کے مخالف حلقوں کامؤقف ہے کہ پائلٹ کو قید میں رکھ کر بعض اہم مطالبات منوائے جاسکتے تھے، بھارت میں قید کسی پاکستانی قیدی کو رہا کرایاجاسکتا تھا۔ اس بارے میں چند حقائق کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ ایک تو یہ کہ جنگی مجرم اور عام جاسوس اوردہشت گرد میں بہت فرق ہے۔ دہشت گرد اور جاسوس پر عالمی قوانین اورضابطے لاگو نہیں ہوتے اس پر اس ملک کے قوانین لاگو ہوتے ہیں جہاں وہ پکڑا جاتا ہے۔ جنگی مجرموں پر اقوام متحدہ کی 1960 کے عشرہ کے جنیوا کنونشن کے ضابطے لاگو ہوسکتے ہیں۔ گرفتار شدہ جنگی مجرم سے صرف اس کا نام، اس کی رجمنٹ کا نام اور سروس نمبر پوچھا جاسکتا ہے۔ کوئی دوسری بات نہیں پوچھی جا سکتی۔ اسے اچھا کھانااور ضروری علاج معالجہ کی فراہمی ضروری ہے۔ اس پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیاجاسکتا ، نہ ہی ہر اساں کیاجاسکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ کسی جنگی قیدی کو ہمیشہ کے لیے قید نہیں رکھاجاسکتا ہے۔ جنگ کی فضا ختم ہونے یامعاہدہ کے بعد اسے رہا کرناضروری ہوتا ہے، کوئی ملک کسی جنگی قیدی کوکوئی سزا نہیں دے سکتا۔ 1971 کی جنگ کے بعد پاکستان اوربھارت کو ایک دوسرے کے ہزاروں(90 ہزار پاکستانی قیدی) رہاکرناپڑے تھے۔ ویسے بھی بھارتی پائلٹ کو دیر تک قید رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتاتھا۔ وہ چاہے سال بھر پڑارہتاپھربھی واپس جانا تھااس دوران خواہ مخوااس کی سکیورٹی، کھانے پینے، علاج معالجہ کے بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑتے اور کشیدگی بڑھتی رہتی۔ اسکے برعکس اس کی محض تین دن میں رہائی سے نہ صرف بہت سے بیرونی ممالک بلکہ خودبھارت میں سنجیدہ بھارتی و سیاسی حلقوں پر اچھے اثراث پڑے ہیں ۔ متعدد سینئر بھارتی صحافیوں کی طرف سے ابھے نندن کی رہائی کے خیر مقدمی پیغامات آچکے ہیں۔
٭پاکستان نے ابو ظہبی میں اسلامی وزرائے خارجہ کی کانفرنس کا بائیکاٹ کردیا۔ کئی روز سے پاکستان کااعتراض چل رہاتھاکہ اس کانفرنس میں بھارت کی وزیر خارجہ کو کیوں بلایاگیا ہے جب کہ بھارت اسلامی تنظیم کا رکن ہی نہیں ہے؟ اسلامی کانفرنس کامؤقف ہے کہ پلوامہ کی صورت حال پر بھارت کا مؤقف جاننے کے لیے بھارتی وزیر خارجہ کو بلایاگیا ہے۔ یہ مؤقف ابوظہبی میں بھارتی سفارت خانہ تحریری طورپر بھی پہنچا سکتاتھا۔کانفرنس کی50 سالہ تاریخ میں پہلی بارپاکستان نے اس کے کسی اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ اس کےدوررس نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔
٭مقبوضہ کشمیر کے حالیہ واقعات پر مودی حکومت کو پے درپے ذلت اور شرمندگی کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔ اعلان کیا کہ بھارتی ایئر فورس کے 12 طیاروں نے آزاد کشمیر میں تین مقامات پر حملہ کرکے 350 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے۔ بھارتی صحافی ایک دو روز خاموش رہےپھر حکومتی نمائندوں کی پریس کانفرسوں میں سوالات شروع ہوگئے کہ ان350 افراد کی لاشیں کیوں نہیں دکھائیں؟1000 کلو بم گرائے توعمارتوں کاملبہ نہیں دکھایا؟ سادہ سی بات تھی کہ 350 افراد کے 350 جنازے لازمی تھے مگر ایک جنازہ بھی نہیں دکھایاگیا! یہ سوال بھی کہ دو طیارے تباہ ہونے اور دو پائلٹوں کی ہلاکت اورایک پائلٹ کی گرفتاری کے بعد پہلے سےزیادہ تیز ہونے کی بجائے مودی حکومت خاموش کیوں ہو گئی ہے؟ خبریں یہ ہیں کہ کوئی جواب نہ دے سکنے پر بھارتی نمائندے جواب دیئے بغیر پریس کانفرنسیں چھوڑ گئے۔
٭تادم تحریر پاکستان کے تمام ہوائی اڈے بند تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے طیارے گرنے والی رات کو پاکستان پر راکٹ برسانے کا فیصلہ کیا تھامگر پاکستان کی طرف سے کئی گنا زیادہ سخت کارروائی کے انتباہ پر بھارت پیچھے ہٹ گیا!اس کی طرف سے کسی بھی اشتعال انگیزی کے پیش نظر مسافر طیاروں کو بچانے کے لیے پاکستان کے ہوائی اڈوں کو بند کرناپڑا تاہم یہ اڈے اب تک کھل چکے ہوں گے۔

تازہ ترین خبریں