08:27 am
عمران خان نےمودی کوکلین بولڈ کردیا

عمران خان نےمودی کوکلین بولڈ کردیا

08:27 am

پاکستان کےخلاف ناکام ائرسٹرائیک کی کوشش میں گرفتاربھارتی پائلٹ ابہی نندن کی رہائی اوربھارت کوواپسی کااعلان کرکےوزیراعظم عمران خان نےاپنے بھارتی ہم منصب کوسفارتی ،سیاسی ،عالمی اوراخلاقی میدان میں کلین بولڈ کرکےبڑی خاموشی کیساتھ پویلین بھیج دیا۔پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس سےخطاب کرتے ہوئےوزیراعظم نےایک بارپھر بھارت کو پیغام دیا کہ ہم امن چاہتے ہیں جنگ نہیں لیکن اگرہم پر جنگ مسلط کرنیکی کوشش کی گئی تو اس کابھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کا ہم حق بھی رکھتے ہیں اور صلاحیت بھی۔اس سے قبل بھارتی حملے کے فوری بعدمنعقدہ قومی سلامتی کونسل اجلاس کےبعد قوم سےخطاب میں وزیراعظم نےبھارت کو تمام متنازعہ مسائل پر ایک بار پھر مذاکرا ت کی دعوت دی تھی،عمران خان کی بار بار مذاکرات کی دعوت نےعالمی برادری کاضمیر پاکستان کے حق میں کردیا۔اقوام متحدہ،امریکہ یہاں تک کہ چین نےبھی دونوں ممالک کومعاملات،مذاکرات سےحل کرنےکامشورہ دیاتھاجواس بات کاثبوت تھا کہ دنیا جنگ نہیں چاہتی،اب بھارتی جنگی قیدی کی رہائی کےفیصلےنےمودی کوبھارت میں ہی خوفناک تنہائی کاشکارکردیاہے۔
 
بھارتی دانشوروں،ادیبوں،صحافیوں نےاپنے ٹویٹ پیغامات میں عمران خان کو ہیرو اورمودی کو زیرو قرار دیا ہے،ایک صحافی نے کہا’’کسی پاکستانی وزیراعظم نے کبھی بھارتی وزیراعظم کو اس انداز سے چت نہیں کیا جیسے عمران خان نے مودی کو کیا ہے‘‘ ایک اور صحافی نے کہا ’’عمران خان ہمارا ہیرو ہمیں واپس دیکر خود ہیرو بن گئے،شکریہ عمران خان شکریہ پاکستان‘‘۔ایک بھارتی ادیب نے کہا’’عمران خان نے اربوں انسانوں کے دل جیت لئے ہیں‘‘ایک دانشور نے کہا’’جنگ کی بھی کچھ اخلاقیات ہوتی  ہیں،عمران خان نےسٹیٹس مین شپ کا مظاہرہ کرتےہوئےان اخلاقیات کا خیال رکھا مگرمودی نےبھارت کانام ڈبو دیا‘‘امن پسند سیاستدانوں اور کشمیر کی حریت قیادت نےبھی عمران خان کےفیصلہ کو درست اور مودی کی جنونیت کوغیر دانشمندانہ قرار دیا،وزیر اعظم کے اس دانشمندانہ اور امن دوست پیغام کےبعدمودی گنگ ہوکربیٹھ رہے ہیں،ان کے حکام بھی ندامت سےسرجھکائےہوئےہیں۔
 بھارتی مسلح افواج کاحال یہ ہے کہ عبرت ناک نتائج کےبعدان کواپنے عوام کو مطمئن کرنا مشکل ہو رہا ہے،بھارتی افواج کےترجمان پریس بریفنگ میں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے دکھائی دئیے،ان کی باتوں سےپاکستان کےمبنی برحقائق موقف کی توثیق اور پاکستان کی عسکری بالادستی ثابت ہوئی،وہ پاکستان میں کالعدم تنظیم کے 350افراد مارنے اور پاکستان کاایف16طیارہ گرانے کے دعووں کا ثبوت نہ دے سکے،ٹال مٹول سےکام لینے پربھارتی صحافیوں نے سوالات کی بوچھاڑکردی’’بالا کوٹ حملوں میں کتنے  گرائے؟پاکستان کا کیا نقصان کیا؟جو پاکستانی طیارہ آپ نےگرایا اس کا ملبہ کہاں ہے؟پاکستان نےتواس حوالے سے تصاویر اور تفصیلات سےاپنےمیڈیاکوآگاہ کردیا،آپ کیوں نہیں بتاتے‘‘جس پر موصوف نے’’ابھی کچھ بتانا قبل ازوقت ہے،ہم نےجو کرناتھا کرلیا،ثبوت دینا نہ دیناحکومت کاکام ہے‘‘
عالمی میڈیابھی بھارت کی اس امن دشمنی کی مذمت کررہا ہے اور بھارت کو جارحیت کا ذمہ دار گردان رہاہے،ایک برطانوی صحافی کا دعویٰ ہے بھارت کی طرف سےپاکستان پر گرائےگئے بم اسرائیل ساختہ تھے،صحافی نےبھارتی دعویٰ کا مذاق اڑاتے ہوئےکہا کہ جن 300سے400افراد کو مارنے کابھارت نے دعویٰ  کیاوہ بعد میں درخت اور پتھر ثابت ہوئے‘‘ برطانوی میڈیا نے بھارت کوخطے میں امن کا دشمن قرار دیتے ہوئےلکھا ہے کہ’’بھارت گزشتہ 8 ماہ سے پاکستان کیخلاف جنگ کی منصوبہ بندی کررہا ہے،اس مقصد کیلئے پاکستان سےملحقہ سرحد پر کنکریٹ،سٹیل سے14ہزار پختہ بنکر تعمیر کر رہا ہے، ہزاروں بنکر تعمیر ہو چکے ہزاروں کی تعمیر جاری ہے۔
بھارتی رویہ کو ساری دنیانے دیکھ لیا اور پاکستان کا معاملہ بھی سب کے سامنے ہے،گرفتار بھارتی پائلٹ نےخوداعتراف کیا کہ اس کے ساتھ پاک فوج کے افسروں کارویہ بہت اچھا ہے،پاکستانی فوج نےنہ صرف اسے مشتعل عوام کےتشددسےبچایابلکہ خودبھی تشدد نہیں کیا،کھانے پینے کوبھی دیا،اس سلوک سے متاثر ہو کر اس نے اپنی حکومت کو مشورہ دیا کہ جیسا رویہ میرے ساتھ پاکستا نی  فوج کا ہے آپ بھی قیدیوں کیساتھ ایسا ہی سلوک کریں،واضح رہے کہ پاکستان پہلی بار بھارتی پائلٹ کو رہا نہیں کررہا بلکہ اس سے قبل 1999ء کارگل جنگ کے بعد بھی ایسا ہواتھا جب پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غاصبانہ قبضے میں کچھ پاکستانی چوکیوں کا کنٹرول واپس لیا توبھارت نے پاکستانی فوج پر ائر سٹرائیک کی مگرپاک فوج نےایک لڑاکا بھارتی طیارہ مار گرایا اور پائلٹ کو گرفتارکرلیا،پاکستان نےجنیوا کنونشن کےتحت قیدی کوواپس کردیا۔
جنگی قیدیوں کےحوالے سے بین الاقوامی قوانین میں سب سے معتبر دستاویز جنیوا میں طےپانے والا معاہدہ جو ’’جنیوا کنونشن‘‘ کہلاتا ہے اور 1929ء میں اس پر اتفاق کیاگیا تھا،دوسر ی جنگ عظیم کے بعد 1949ء میں اس معاہدے میں خاصی تبدیلیاں کی گئیں،جنگی قیدیوں سےسلوک کےحوالے سے کئی شقوں کااضافہ کیا گیا،اس معاہدے کو’’تھرڈجنیوا کنونشن‘‘ کہاجاتاہے اور اس پر پاکستان،بھارت سمیت 149ممالک دستخط کر چکے ہیں،اس معاہدے کے تحت تمام رکن ممالک  پابند ہیں کہ کسی جنگی قیدی پرتفتیش کے دوران جسمانی یا ذہنی تشدد نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی قسم کے دبائو سےگریز کیا جائےگا،جنگی قیدیوں سے کوئی ایسا کام یا مشقت بھی نہیں لی(باقی صفحہ نمبر6 بقیہ نمبر1)
 جاسکتی جو ان کےفوجی عہدے کے شایان شان نہ ہو،جنگی قیدی کےعہدے،عمر اور جنس کاخیال رکھنا اور احترام بھی اس معاہدے کے تحت ضروری ہے۔
        بھارتی گرفتار پائلٹ کو اس معاہدہ کے تحت ہر قسم کی سہولت دی گئی،رہائی کا فیصلہ بھی دنیا کو یہ پیغام تھا کہ ہم جنگ تو دور کی بات کشیدگی بھی نہیں چاہتے ،وزیر اعظم عمران خان کے اس تحمل اور امن کی خواہش نے پاکستان کا دنیا میں ایک سوفٹ امیج اجاگر کیا ہے،بھارت بھی منہ توڑ جواب ملنے کے بعد اب خاموش ہو گیا ہے اور جلد دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان رابطے کا بھی امکان ہے۔پاکستان کی پر امن رہنے مگر جارحیت کا مناسب جواب دینے کی پالیسی کامیاب رہی اور بھارت میں مودی کا سیاسی مستقبل عمران خان کے فل ٹاس بال پر چھکے نےدائو پر لگا دیا،اب بھارتیہ جنتا پارٹی کی اپریل میں ہونے والے الیکشن میں کامیابی شکوک وشبہات کاشکار ہےاور مودی اپنے گھمنڈ میں ہی زمین پر چت لیٹنےپرمجبور ہو گئے ہیں۔

 

تازہ ترین خبریں