10:57 am
مودی کاجنگی جنون ورسوائی

مودی کاجنگی جنون ورسوائی

10:57 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
عمران خان نے مودی دھمکیوں کے جواب میںبڑے مؤثراورحکیمانہ اندازمیںیہ کہا کہ انڈیا کو اب تسلیم کر لینا چاییے کہ کشمیر کا مسئلہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا میں نئی سوچ آنی چاہیے اور انڈیا کو سوچنا ہو گا کہ کیا وجہ ہے کہ کشمیری نوجوان اس حد پر پہنچ چکے ہیں کہ انہیں اب موت کا بھی خوف نہیں رہا۔ انڈین حکام کی جانب سے نہ صرف پاکستان کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے بلکہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ اس حملے کے ساتھ بات چیت کا وقت ختم ہو گیا اور اب دہشت گردی کے خلاف ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے اور کارروائی سے ہچکچانا بھی دہشت گردی کو فروغ دینے کے برابر ہے اور اب کارروائی سے گریز نہیں کیا جا سکتا۔ ان دھمکیوں کے بعدباقاعدہ 26فروری کی نصف شب کوبھارتی ایئرفورس نے پاکستانی سرحدمیں داخل ہوکرفضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور پاکستانی طیاروں
کے فضا میں آنے کے بعد وہ جلدبازی میں اپنے بم گرا کر واپس چلے گئے۔
دوسری جانب انڈیا نے کہا کہ اس نے اپنی ایک فضائی کارروائی میں بالاکوٹ کے علاقے میں کالعدم    تنظیم جیشِ محمد کے کیمپ کو نشانہ بنایا ہے۔ اِسی تناظر میں پاکستانی آئی ایس پی آرکے ترجمان میجرجنرل آصف غفورنے بریفنگ دیتے ہوئے بھارتی جھوٹ کابھانڈہ پھوڑتے ہوئے اس علاقے کوبھارتی میڈیا سمیت دنیابھرکے میڈیاکواس علاقے میں آنے کی دعوت دیتے ہوئے خودتحقیق کرنے کی دعوت دے ڈالی جوبعدازاں عالمی میڈیاسمیت مقامی میڈیاکے افرادنے وہاں پہنچ کربھارتی ذلت اورجھوٹ کاپردہ فاش کر دیا جہاں بھارتی نے جیش محمدکے کیمپ پرحملہ کرکے چار سودہشتگردمارنے کادعویٰ کیاتھا،وہاں ایک کوے کے مرنے کے علاوہ چنددرختوں کی تباہی کے سواکچھ نہ ملا۔
عقدہ یہ کھلاکہ بھارتی ہوابازوں نے عجلت میںاپنی جان بچانے کیلئے فرارمیں پناہ ڈھونڈنالازم سمجھااورپے لوڈ گرا کر پاکستانی طیاروں کے پہنچنے سے قبل دم دباکرواپس انڈیابھاگ گئے۔ طیارے کے پروں کے نیچے جو بھی چیز لگی ہوتی ہے وہ پے لوڈ کہلاتی ہے۔ مثلا ًمیزائل، بم اور راکٹ، یہ سب پے لوڈ میں شامل ہیں۔ طیارے کی رفتار بڑھانے کیلئے طیارے کو ہلکا کرنا پڑتا ہے تا کہ تیزی سے کسی جگہ سے نکلا جا سکے اور پیچھے سے آنے والے طیارے آپ کو مار نہ سکیں۔ حالیہ واقعے میں انڈین طیاروں نے اِسی لیے پے لوڈ کیا یعنی اپنا گولہ بارود گرا کر اپنا وزن کم کیا اور تیزی سے وہاں سے بھاگ گئے۔ انڈین ایئر فورس کی جانب سے پاکستانی حدود میں آ کر بم گرانے کے واقعے میں انڈیا کی جانب سے میراج طیارے استعمال کیے گئے جبکہ پاکستان کے پاس اپنے دفاع کیلئے ایف سولہ اور جے ایف سترہ لڑاکا طیارے تھے۔ ایف سولہ بلاک 52 میراج سے بہتر طیارہ ہے جبکہ جے ایف سترہ تھنڈر اور ایف سولہ کے بعض دوسرے ورژن میراج برابر ہیں۔ انڈیا نے اپنے میراج طیاروں کو فرانس سے اپ گریڈ کروایا ہے لیکن اس کے باوجود ایف سولہ کو ہتھیاروں اور ریڈار کے لحاظ سے میراج پر فوقیت حاصل ہے۔ جدید تھرڈ جنریشن طیاروں میں نائن جی کی صلاحیت ہوتی ہے۔نائن جی کا مطلب ہے کہ جب طیارہ موڑ کاٹتا ہے تو اس کا وزن نو گنا تک بڑھ سکتا ہے۔ دونوں طیاروں کے پاس نائن جی صلاحیت ہے اور بی وی آر یعنی بیونڈ ویژول رینج یعنی نظر سے دور ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائیل بھی دونوں کے پاس ایک طرح کے ہیں۔
پاکستان نے بدھ کی صبح یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کے طیاروں نے اپنی فضائی حدود میں رہتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے پار اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور بعدازاں لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان میں داخل ہونے والے دو انڈین طیاروں کو مار گرایا گیا ہے۔پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ بدھ کی صبح پاکستانی فضائیہ کی کارروائیوں کے بعد انڈین فضائیہ کے طیاروں نے ایک مرتبہ پھر ایل او سی عبور کی جس پر پاکستانی فضائیہ نے دو انڈین طیاروں کو پاکستانی فضائی حدود میں نشانہ بنایا ہے۔
یوں محسوس ہورہاہے کہ حالیہ واقعے میں دونوں طرف سے رولز آف انگیجمنٹ یہ ہیں کہ اگر مارنا پڑ جائے تو مار دو لیکن کوشش یہ ہوگی کہ جھڑپ سے بچنا ہے تاکہ جنگ بڑھ نہ جائے۔پاکستان کی جانب سے کوشش تھی کہ انڈین طیاروں کو روکا جائے اور دھمکایا جائے تاکہ وہ بھاگ جائیںاورشائد انڈین پائلٹوں کو بھی کہا گیا ہوگا کہ آپ نے دشمن طیارے کا سامنانہیں کرنااورنہ ہی تلاش کر کے لڑنا ہے اور جلدی نکلنا ہے۔اب تک کے حالات سے یوں معلوم ہوتاہے کہ دونوں جانب سے جنگ کو بڑھانا مقصد نہیں تھاکیونکہ جب زمینی سرحد پر سپاہی لڑتے ہیں تو اس سے ایک بڑی جنگ چھڑنے کا امکان کم ہوتا ہے لیکن اگر طیارہ کئی میل اندر گرا دیا جائے تو حالات کافی خراب ہو سکتے ہیں۔
عام حالات میں جنگ کے قوائد مختلف ہوتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر کسی غیرملکی طیارے کو گرانا ہے تو اِس طرح کے اس کا ملبہ اپنی سرحد کے 10کلومیٹر اندر گرے، اِس سے یہ ثابت ہوگا کہ دوسروں نے حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ اگر ملبہ پڑوسی ملک میں پایا گیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ نے اندر گھس کر کارروائی کی ہے۔دراصل مودی سرکارکامقصدیہ ہے کہ سرجیکل سٹرائیک کی جائے جوآئندہ انتخابات میں کامیابی کاسبب بن سکے لیکن مودی کی سازش اب خودان کے گلے پڑگئی ہے۔ تاہم بھارتی حملے کے فوری بعدپاکستان کی عسکری اورسیاسی قیادت نے یہ فیصلہ کیاکہ بھارت کواس کاجواب دینالازم ہوگیاہے۔ پاکستان کی عسکری قیدات کے ترجمان نے باقاعدہ ایک پریس کانفرنس میں بھارت کواس بزدلانہ حملے کے جواب کیلئے متنبہ کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اس کے جواب کیلئے اپنی مرضی کاوقت اورجگہ کاانتخاب خودکرے گااوربھارت کوایسا سرپرائز دے گاجووہ عمربھریاد رکھے گا اوراس سے اگلی صبح بھارتی بنئے نے اپنے تکبرمیں پاکستان کی فضاؤں کی دوبارہ خلاف ورزی کرتے ہوئے داخل ہوئے توہمارے شاہینوں نے موقع پرہی ان کوایسا بھرپور جواب دیاکہ بھارت نہ صرف اپنے دو جہازوں سے محروم ہوگیابلکہ اس کاایک پائلٹ اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھااوردوسراپاکستانی سپاہ کے ہاتھ زندہ گرفتارہو گیا اوریوں مودی کے نتھنوں سے نکلتاہوادھواں خوداسی کوبھسم کررہاہے۔پاکستان نے ایک مرتبہ پھراس ساری کارروائی کے بعدبڑے پن کامظاہرہ کرتے ہوئے مودی سرکارکوبات چیت کی دعوت دیتے ہوئے اسے جنگی جنون سے بازرہنے کاپیغام دیا اوراس کے ساتھ یہ بھی باورکروایاگیاکہ ایٹمی جنگ کی ہولناکیوں سے نہ صرف اس خطے کوبلکہ دنیاکوبچانے کی فکرکی جائے۔ 
 

تازہ ترین خبریں