10:59 am
جنگ جاری ہے !

جنگ جاری ہے !

10:59 am

  ایک بار پھر ثابت ہوا کہ بھارت ایک جارح ملک ہے اور پاکستان اپنے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار باش۔ مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت کے جنگی جنون نے مسئلہ کشمیر کو پوری قوت سے دنیا کے سامنے اجاگر کر ڈالا ہے۔ کیا عجب واقعہ ہے کہ عشروں سے جس مسئلہ کشمیر کو ماضی کی تمام بھارتی حکومتیں اپنا اندرونی معاملہ قرار دے کے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی حکمت عملی پر گامزن رہیں پلوامہ حملے کے تناظر میں مودی سرکار کی شدت پسندانہ روش نے اُسی کشمیر کی جانب بین الاقوامی برادری کی توجہ مبذول کروادی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا پر امریکی صدر ٹرمپ اور جنوبی کوریا کے صدر کم ال جونگ کی اہم ملاقات سے زیادہ چرچا پاک بھارت کشیدگی کا ہو رہا تھا ۔ پلوامہ حملے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرنے جیسے جھوٹے الزامات کے بعد بھارت سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ رچانے کے لیے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جرات کر بیٹھا ۔ فرضی کیمپ پر بمباری اوراکیس منٹ تک پاکستانی فضائی حدود میں بلا روک ٹوک اڑانیں بھرتے ہوئے حملہ کر کے ساڑھے تین سو آتنک وادیوں کو نشانہ بنانے کا مضحکہ خیز دعویٰ کر کے مودی سرکار نے بھارتی میڈیا پر بیٹھے بھانڈوں کے ذریعے چوبیس گھنٹے تک فتح کا جشن منایا ۔ اگرچہ صنوبر کے چند درخت ٹوٹنے اور زمین پر گڑھے پڑنے کے علاوہ کوئی نقصان نہیں ہوا لیکن ابتدائی مر حلے پر پاکستانی قوم دل گرفتہ تھی کہ آخر بھارتی طیارے پاکستان کی حدود میں آنے کے بعد واپس کیسے جا پائے ۔ گرچہ پاک فضائیہ کے شاہینوں کی بروقت کارروائی کی بدولت بھارتی طیارے بے نیل و مرام لوٹتے ہوئے عجلت میں اپنا بارودی مواد غیر آباد جگہ پر گرا کے فرار ہو گئے لیکن بھارتی میڈیا پر جاری جھوٹے جشن فتح اور مودی سرکار کے بلند بانگ دعووں کی بدولت پاکستانی عوام بے چینی کا شکار تھے ۔ اس پر مستزاد سوشل میڈیا کے بدبو دار چھپڑ میں پلنے والے وہ مینڈک کہ آج کل جن کا نصب العین ہی پاکستان کے دفاعی اداروں پر ٹرانا ہے۔ خدا کا شکر کہ اگلے روز ہی پاک فضائیہ نے دو بھارتی طیارے ڈھیر کر کے سارا منظر نامہ بدل ڈالا ۔ ایل او سی کے ہر دو جانب گرے بھارتی طیاروں کے ملبے ، مارے جانے والے پائلٹ کی لاش اور پاکستانی حراست میں بھارتی پائلٹ ابھی نندن کے ویڈیو کلپ نے ماحول بدل ڈالا ۔ صد شکر کہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کی تمام سیاسی قیادت یکساں موقف اپنائے ہوئے ہے۔ قوم متحد ہے ۔ تینوں افواج اور ان کے ماتحت ادارے دفاع وطن کے لیے ملک کی سرحدوں پر چوکس و بیدار ہیں۔ ریاست کے تما م ادارے اپنا کردار احسن طور پر ادا کر رہے ہیں ۔ پاکستان کے دفاعی اداروں کے خلاف زہر اگلنے اور دشمن کی زبان بولنے والے میڈیائی مینڈک بھی با دل نا خواستہ تعریف کرتے دکھائی دیئے۔ کیوں نہ بی جے پی اور جنونی مودی کا شکریہ بھی ادا کر دیا جائے کہ جن کی حماقتوں اور مجنونانہ حرکتوں کی بدولت آج پاکستان متحد ہوتا دکھائی دیا ! نئی نسل پر پھر ثابت ہوا کہ دو قومی نظریہ درست تھا ! پاکستان کا قیام بھی درست تھا اور نظریہ پاکستان بھی درست ہے۔ پاکستان جارح نہیں بلکہ بھارتی جارحیت کی زد میں ہے۔ پاکستان دہشت گرد نہیں بلکہ بھارتی دہشت گرد ی کا ہدف بنا ہوا ہے۔ پاکستان کے دفاعی ادارے سرحد پار دہشت گردی کے سرپرست نہیں بلکہ بھارت اور اس کے اتحادیوں کی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کا قلع قمع کرنے میں مصروف ہیں ۔ پاکستان جنگ نہیں امن کا داعی ہے ۔ پاکستان نہ تو بھارت کو تباہ کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی بھارت کے ہاتھوں اپنی تباہی چاہتا ہے ۔ بھارت کا وزیر اعظم جنگی جنون میں مبتلا ہے اور پاکستانی وزیر اعظم امن کی دعوت دے رہا ہے۔ رہی بات مسئلہ کشمیر کی تو اب اُس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔ مودی سرکار کی حماقت اور جنگی جنون کی بدولت آج بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر کی جانب متوجہ ہونے پر مجبور ہوئی ہے۔ پاکستان کو سفارتی محاذ پر اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے ۔ بھارت کے نام نہاد سرجیکل سٹرائیک اور پاکستان کے باوقار منہ توڑ جواب کے بعد بتدریج توجہ فتح کے دعووں کی جانب مبذول ہو رہی ہے۔ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی ڈرامائی گرفتاری اور عجلت میں رہائی کا ذکر جاری ہے ۔ راقم کی ناقص رائے میں پاکستان کو سفارتی محاذ پر کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کے معاملے کو حالیہ جنگی کشیدگی سے جوڑ کے بھر پور مہم کا آغاز کر دینا چاہیے ۔ یاد رکھیے ! بھارت پاکستان سے روایتی یا غیر روایتی جنگ چھیڑنے سے پرلے بین الاقوامی برادار ی خصوصاً امریکہ کی آشیرباد ضرور حاصل کرے گا ۔ بار بار سرحدپار دہشت گردی کے جھوٹے الزامات اسی منصوبے کی اہم کڑی ہیں ۔ اسرائیل سے بھارت کے دیرینہ عسکری اور سفارتی تعلقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ پاکستان کی جوہری استعداد بھارت اور اسرائیل کی آنکھ میں یکساں کھٹکتی ہے ۔ پلوامہ حملے کی مذمت اور بھارت سے اظہار یک جہتی کرنے والے سابقون الاولون میں اسرائیلی وزیر اعظم بھی شامل تھے۔ پلوامہ حملے کے بعد پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کو محض مودی کی انتخابی مہم کے تناظر میں دیکھنے کی حماقت نہ کی جائے ۔ معاملہ کہیں زیادہ سنگین ہے۔ بھارت نے یہ مجنونانہ جرات امریکہ و اسرائیل کی شہہ پر کی ہے۔ پاکستان کو اکسا کے جنگ کے میدان میں گھسیٹا جا رہا ہے تا کہ مناسب وقت پر جعلی ایٹمی حملے کا ڈرامہ رچا کر جوہری اثاثوں پر اپنے اتحادیوں کی مدد سے حملہ کرنے کے لیے جواز گھڑا جا سکے ۔ یاد رکھیے یہ جنگ ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک پیچیدہ رخ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے ۔ بھارت سفارتی محاذ پر یلغار تیز کر رہا ہے۔ ماضی میں ہم اس محاذ پر بھارتی مکاری اور عیاری سے مات کھاتے رہے ہیں ۔ اب مزید کوتاہی کی گنجائش نہیں۔ سیاسی قیادت متحد ہو کے سفارتی محاذ پر کشمیر کا مقدمہ اور بھارتی دہشت گردی کا معاملہ پوری قوت سے اجاگر کرے۔ یاد رکھیے پاکستان کو بھارت کی مسلط کردہ جنگ ابھی کئی محاذوں پر لڑنی ہے۔ 



 


 

تازہ ترین خبریں