11:01 am
امن پسندی کو پسپائی نہ سمجھا جائے

امن پسندی کو پسپائی نہ سمجھا جائے

11:01 am

زمانہ جنگ میں امن کی بات کرنا بہت مشکل کام ہے۔ میدان جنگ میں جب دونوں اطراف سے گولہ باری اور فائرنگ ہو رہی ہو، لفظی بمباری تیز ہو، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر لوگوں کے منہ سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہوں، جنگی جہاز مار گرائے جا رہے ہوں، افواج ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی ہوں، ایسے میں کوئی جنگ بندی کا نعرہ لگائے ، گھن گرج میںاس کی آواز کوئی نہیں سنتا۔ پاکستان اور بھارت کی بھی یہی صورت حال ہے۔ چوتھی جنگ کا بگل بج چکا ہے۔ دونوں ممالک نے میزائل اور سٹریٹجک ہتھیار بھی نصب کر لئے ہیں۔ ان کے نشانے پر بڑے شہر، فوجی تنصیبات ہوں گی۔ بھارتی وزیراعظم کی ضرورت بھی جنگ ہے کیوں کہ وہ جنگی ماحول کو اپنا ووٹ بینک بڑھانے کے لئے استعمال کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ ان کے دعوئوں کو اب کوئی نہیں سنتا۔ بھارت میں بھی کسی کو ان کی بڑھکوں پر اعتبار نہیں رہا۔ اب شاید لوگ جان چکے ہوں گے کہ پاکستان پر ماضی میں سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے بے بنیاد اور گمراہ کن تھے۔ اس لئے شر پسند اور جنونی جنگ جنگ پکار رہے ہیں۔ بدلہ اور انتقام لینے پر اکسا رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی بھارتی نسل کشی پالیسی اور قتل عام سے تنگ آمد بجنگ آمد ہیں۔ وہ بھی سمجھتے ہیں کہ انہیں بھارت سے جس آزادی دلانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اسے وفا کرنے کا یہی وقت ہے۔ 
 
ہر روز کے مرنے سے ایک ہی بار مرنا بہتر ہے۔ ٹیپو سلطان کا وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں ذکر کیا۔ بلا شبہ اس دھرتی کے مسلمان ٹیپو سلطان کو اپنا ہیرو مانتے ہیں۔ جنہوںنے شیر کی ایک دن کی زندگی کو گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے بہتر قراردیا۔ مسلمان صلاح الدین ایوبی، طارق بن زیاد، محمد بن قاسم جیسی عظیم ہستیوں کے جانشین ہیں۔ جو جب ایک بار آگے بڑھے تو پھر کشتیاں جلا کر پیچھے نہ مڑے اور پسپائی کے تمام راستے خود ہی بند کر دیئے۔ آگے پھر شہادت یا فتح تھی۔ دونوں صورتوں میں اسے کامیابی قرار دیا گیا۔ شہید اور غازی دونوں کامیاب ہوئے۔ 
اگر عمران خان اسلام کے اصولوں کے مطابق امن اور سلامتی کی بات کرتے ہیں اور بھارت کو بار بار بات چیت کی دعوت دے رہے ہیں تو یہ کمزوری نہیں بلکہ دشمن پر اخلاقی برتری ہو گی۔ مگر اس کے باوجود بھارتی حکمران للکار رہے ہیں۔ جارحیت کرنا چاہتے ہیں۔ اگر تمام امن پسندی کے باوجود جارحیت جاری رہی تو مسلمانوں کو پنجہ بازو آزمانے کی ہدایت ہے۔ ویسے بھی جب جہاد فرض ہو چکا ہو تو پسپائی کی کوئی گنجائش نہیںرہتی۔ اس میں کوئی فوجی قوت یا ٹیکنالوجی آڑے نہیں آتی۔
 افغانستان میں مسلمانوں نے اپنوں کی مزاحمت اور ایمان فروشی کے باوجود امریکہ سمیت پوری دنیا کی فوجی قوت اور ٹیکنالوجی کو بدترین شکست دی ہے۔ ایک بار نہیں ، کئی بار۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغان قوم پر جارحیت کی۔ اب فرار ہونے کے لئے بات چیت کر رہا ہے۔ محفوظ راہداری کا مطالبہ کر رہا ہے۔ افغانوں کے پاس کوئی فوجی طاقت، اسلحہ، ٹیکنالوجی بھی نہ تھی، افرادی قوت بھی محدود تھی۔ کہنے والے کہتے تھے کہ کوئی ایمانی قوت اور اللہ کی نصرت کی آس میں کیسے لڑ سکتا ہے۔ ایمان فروشوں کی موجودگی میں مگر آج یہ سب ڈرانے والے جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں۔ ساڑھے چودہ سو سال بعد بھی اللہ کی مدد اور فرشتوں کا اترنا کسی کو نظر نہیں آتا۔ دنیا حیران ہے کہ یہ سب کیسے ہو گیا۔ 
 بلا شبہ پاکستان کی معاشی حالت سدھارنے کا وقت ہے۔ قوم کو یک جا کرنے کی گھڑی ہے۔ وسائل بھی محدود ہوں گے۔ میزائل، ٹینک، آبدوزیں ، ایٹم بم یہ سب کامیابی کی علامت نہیں۔ یہ واضح ہو چکا ہے۔ عمران خان نے بھارتی پائلٹ کی غیر مشروط رہائی کاا علان کیا تو بھارت میں ایک نیا پروپیگنڈہ شروع ہو گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان ڈر گیا۔ اس پر امریکہ اور دیگر ملکوں کا دبائو ہے۔ پائلٹ کو چھوڑنا ہی تھا۔ اس وقت بھارتی جیلوں اور اذیت خانوں میں ہزاروں پاکستانی اور کشمیری جنگی قیدی سڑ رہے ہیں۔ انہیں رہائی دلانے کا کوئی مطالبہ سامنے نہیں آتا۔ آج جنگ بندی لائن پر بھارتی جارحیت تیز ہو رہی ہے۔ آزاد کشمیر اور سیالکوٹ سیکٹرز کے ہزاروں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ جنگ بندی لکیر کی دوسری جانب بھارت نے آبادی کے لئے مورچے تیار کئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت اس سب کے لئے تیاری کر رہا تھا۔ ان سب تیاریوں کے باوجود پہلی ہی وار میں بھارت کو شکست ہوئی ہے۔ جسے وہ تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔ ایسے میں وزیراعظم عمران خان کی عاجزی اور انکساری کسی کام کی نہیں۔ دشمن کے سامنے اکڑ جانے اور رعب ڈالنے کے بجائے مذاکرات کی بھیک مانگنا دلچسپ بات ہے۔ شاید بھارت امن کو موقع دینا نہیں چاہتا۔ ہم عالمی طاقتوں پر کیسے اعتماد کر سکتے ہیں جو ترک خلافت کی طرح پاکستان کو ہڑپ کرنے کے لئے آپس میں سازشیں کر رہی ہیں۔
 اگر حالات نے کوئی انگڑائی لی تو مشرق ہی نہیں بلکہ مغرب سے بھی خطرہ خارج از امکان نہ ہو گا۔ افغانستان، بنگلہ دیش کس کے اتحادی ہیں۔ یہ سب کس کے اشارے پر ناچ رہے ہیں۔ ایران کی طرف سے کیا اشارے مل رہے ہیں۔ یہ جنگ کسی علاقے، فرقے یا مسلک اور برادری کی نہیں۔ آزاد پاکستان کی ہے۔ بھارت ان کے اشارے پر چڑھ دوڑ رہا ہے جنہیں اپنا زنگ آلود اسلحہ مہنگے داموں فروخت کرنا ہے۔ بھارتی حکمران اسی اسلحہ کی کک بیکس اور کرپشن کے لئے شہرت رکھتے ہیں۔ وہ آج بھی یہی ذہنیت رکھتے ہوں گے۔ عالمی طاقتوں نے کبھی بھی پاکستان اور بھارت میں ثالثی یا دوستی اور تعلقات کی بہتری کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دینا۔ وہ چلتے ہی ہیں دنیا کے تنازعات اور جنگی حالات پر ۔ اس لئے کسی پر اندھا اعتماد کئے بغیر اپنی حکمت عملی سے ان حالات کا مقابلہ کرنے کی جس قدر ضرورت آج ہے، شاید پہلے نہ تھی۔ جب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بھارت مکار اور عیار پڑوسی ملک ہے جو جارحیت پر یقین رکھتا ہے اور جس کا رول ماڈل چانکیا ہے تو چانکیا کے پیروکاروںپر ٹیپوسلطان اور صلاح الدین ایوبی کے پیروکار کیسے اعتماد کر سکتے ہیں۔ جب پاکستان کی امن پسندی ، بات چیت کی دعوت، غیر سگالی ، اعتماد سازی کے سبھی اقدامات کو بزدلی اور پسپائی سمجھا جا رہا ہو۔تو وقت ایسی حکمت اور دانائی سے دشمن کو ہر میدان میں شکست دینے کا تقاضا کرتا ہے تا کہ اپنی لاٹھی بچاتے ہو ئے اس سانپ کو مار دیا جائے جو مختلف سوراخوں سے پھن پھیلائے باہر نکل آتا ہے۔ 


 

تازہ ترین خبریں