08:38 am
کشمیری موت سے بے خوف کیوں؟

کشمیری موت سے بے خوف کیوں؟

08:38 am

پلوامہ خودکش حملے کے بعدبھارتی حکمرانوں اوران کی پروردہ جماعت کے سکہ بندحواریوں نے بھارتی اوربالخصوص کشمیری مسلمانوں کے خلاف نفرت کاجوالاؤدہکایاہے ۔اسے کوئی ذی شعوردرست تسلیم نہیں کرسکتا۔جس حملے کے تناظرمیں بھارتی وزیراعظم سے لیکر ان کی جماعت کاعام رکن تک واویلامچارہاہے اورپاکستان پراس کاالزام لگایاجارہاہے ۔ پاکستان اسے پہلے ہی قابل صدافسوس قراردیکر اس پراپنی مثبت رائے کااظہارکرچکاہے مگرمودی نے  آپے سے باہرہوکر معاملے  کوسلجھانے کی بجائے
پلوامہ خودکش حملے کے بعدبھارتی حکمرانوں اوران کی پروردہ جماعت کے سکہ بندحواریوں نے بھارتی اوربالخصوص کشمیری مسلمانوں کے خلاف نفرت کاجوالاؤدہکایاہے ۔اسے کوئی ذی شعوردرست تسلیم نہیں کرسکتا۔جس حملے کے تناظرمیں بھارتی وزیراعظم سے لیکر ان کی جماعت کاعام رکن تک واویلامچارہاہے اورپاکستان پراس کاالزام لگایاجارہاہے ۔ پاکستان اسے پہلے ہی قابل صدافسوس قراردیکر اس پراپنی مثبت رائے کااظہارکرچکاہے مگرمودی نے  آپے سے باہرہوکر معاملے  کوسلجھانے کی بجائے اسے بدلہ لینے اورجنگ کے میدان بدلنے کی بات کرکے معاملے کومزیدالجھادیاہے جس کاایک پس منظرہے۔پلوامہ حملے کے کئی روزگزرجانے کے بعدجب معاملات بھارت کی جانب سے جنگی مشقوں تک جا پہنچے تووزیراعظم پاکستان عمران خان نے قوم سے مختصرخطاب میں جنگی جنون میں مبتلابھارت کوبراہِ راست مخاطب کرتے ہوئے ممکنہ حملے کاجواب حملے سے دینے کاواضح پیغام دیتے ہوئے کہاکہ اگرنئی دہلی نے ایسی کوئی غلطی کی توپاکستان سوچے گانہیں بلکہ فوری طورپرمنہ توڑجواب دے گا۔
عمران خان نے پلوامہ کانام لئے بغیرکہاکہ بھارت کویہ بات سوچنی چاہئے کہ کشمیری آخرموت سے اتنے بے خوف کیوں ہوگئے ہیں؟ وزیراعظم کاکہناتھاکہ پڑوسی ملک کشمیرکے مسئلے کومذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بجائے الزام تراشیاں کرتاہے۔ 14فروری کوجب پلوامہ کاواقعہ ہوا،تواس پرہمیں فوری ردّ ِ عمل دیناتھاکیونکہ اس کاالزام پاکستان پر لگایا گیاتھالیکن اس وقت پاکستان میں سعودی ولی عہدکابہت ہی اہم دورہ اورسرمایہ کانفرنس جاری تھی، اس لئے پلوامہ واقعہ پرحکومتی ردّ ِ عمل سامنے نہ آسکالیکن جونہی دورہ ختم ہواتو عمران خان نے فوری طورپراپنے ردّ ِ عمل میں بھارت کوتحقیقات کیلئے مکمل تعاون کانہ صرف یقین دلایابلکہ اس معاملے پرہمدردی کااظہارکرتے ہوئے اس واقعے کوپاکستان کیلئے بھی ایک سازش اور شدیدنقصان دہ قراردیا۔عمران نے اپنے بیان میں مودی کے جنگی جنون کے جواب میں اس ہولناک قدم سے بازرہنے کی جہاں تلقین کی وہاں بازنہ آنے کی صورت میں کسی بھی بھارتی جنگی جنون کے جواب میں منہ توڑجواب دینے کابھی اعلان کیا۔
عمران خان نے کہاکہ نئی دہلی نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پرالزام لگادیااورسوچاتک نہیں کہ اس سے پاکستان کوکیافائدہ ہوگا؟وہ بھی ایسے موقع پرجب ہم استحکام کی طرف گامزن ہیں اورپاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سعودی ولی عہداپنے ساتھ سرمایہ کاروں کے ایک بڑے گروپ کے ساتھ سرمایہ کاری کے معاہدوں میں مصروف ہیں ۔اس حال میں کوئی احمق ہی ہوگاجواتنے اہم موقع کوایسے بیجااورخطرناک کارروائیوں میں ضائع کرے۔ہم نے 15سال دہشتگردی کی جنگ لڑی ہے اور70ہزارجانوں کی قربانیوں کے ساتھ 115بلین ڈالرزکاخطیرنقصان برداشت کیاہے۔پچھلے چندسالوں میں ضرب عضب اورردّالفسادآپریشنزکے ذریعے ہماری افواج نے بے پناہ جانی قربانیاں دے کردہشت گردی کی اپنے ملک سے بیخ کنی کی ہے اور مسلسل اس جنگ میں مصروف ہے جس کے بعددہشت گردی کاگراف نہ ہونے کے برابررہ گیاہے۔
عمران خان نے بھارتی حکومت سے سوال کیاکہ آپ ماضی میں پھنسے رہناچاہتے ہیں؟اورہرمرتبہ کشمیرمیں کسی بھی سانحہ کاذمہ دارپاکستان کوٹھہراناچاہتے ہیں؟دنیاکاکون سا قانون کسی شخص یاملک کومدعی بھی  اور منصف بھی بننے کی اجازت دیتاہے ۔موجودہ سال بھارت میں الیکشن کاسال ہے اوروہ سمجھتے ہیں پاکستان کوسبق سکھانے سے انتخاب میں فائدہ ہو گا۔اگربھارت نے حملہ کیاتوپاکستان سوچے گانہیں بلکہ بھرپورجواب دے گاکیونکہ اس کے بغیرکوئی دوسراراستہ نہیں ہوگااوریہ بات کدھرجائے گی ،اللہ بہترجانتاہے۔انہوں نے کہاکہ جنگ شروع کرناآسان ہے اوراسے شروع کرنابھی انسان کے ہاتھ میں ہوتاہے لیکن ختم کرناانسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا،اس لئے میں امیدرکھتاہوں کہ اس میں ذمہ داری اورحکمت سے کام لیں گے اوریہ مسئلہ بھی مذاکرات سے حل کرلیاجائے گا۔وزیراعظم نے بھارتی حکومت کوپیشکش کی کہ اگروہ پلوامہ حملے میں کسی بھی قسم کی تحقیقات کرانا چاہتے ہیں توپاکستان تیار ہے۔ اگرآپ کے پاس پاکستان کے ملوث ہونے سے متعلق کوئی قابل عمل اورٹھوس شواہد ہیں توپاکستان کوفراہم کئے جائیں ،میںیقین دلاتاہوں کہ ہم کارروائی کریں گے اورہم یہ کسی دباؤ پرنہیں بلکہ اس لئے کریں گے کہ یہ پاکستان سے بھی دشمنی ہے کہ کوئی دہشت گردی کیلئے ان کی سرزمین استعمال کررہاہے۔انہوں نے یہ واضح کیاکہ یہ نیاپاکستان،نئی ذہنیت اورنئی سوچ ہے،ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نہ کوئی پاکستان سے جاکرباہردہشت گردی کرے اورنہ باہرسے ہمارے ہاں دہشت گردی ہوکیونکہ یہ ہمارے مفادمیں ہے۔ہم استحکام چاہتے ہیں ،ہم دہشت گردی کے مسئلے پربھی بات چیت کرنے کیلئے تیارہیں ،اس لئے کہ دہشت گردی پورے خطے کیلئے ایک ناسوربن چکی ہے اورہم اس کے مکمل خاتمہ کاتہیہ کرچکے ہیں۔عمران خان نے کہاکہ اب بھارت میں بھی نئی سوچ آنی چاہئے ،کشمیرکے نوجوان اس انتہاء تک پہنچ گئے ہیں کہ انہیں موت کابھی خوف بھی نہیں رہا۔کیاآپ سمجھتے ہیں ،فوج کے ذریعے بہیمانہ ظلم کرکے کسی مسئلے کوحل کرسکتے ہیں؟جب یہ آج کامیاب نہیں ہواتوکیاآگے کامیاب ہوجائے گا؟اپنے خطاب میں انہوں نے مزیدکہا کہ اگرآج افغانستان میں 17برس بعددنیایہ تسلیم کررہی ہے کہ فوجی آپریشن مسئلے کاحل نہیں توپھربھارت میں اس پربات چیت نہیں ہونی چاہئے؟
وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے حالیہ خطاب میں مودی کوآئینہ بھی دکھایااوریہ بھی بتادیاکہ اگر بھارت نے کسی حملے کی کوشش کی تواس پرخاموش نہیں رہاجائے گابلکہ چنگاری شعلہ بنے گی۔ دیکھا جائے تویہ بات بھی شعوروفکررکھنے والوں کیلئے ناقابل فہم ہے کہ پلوامہ حملہ ایک ایسے وقت میں رونماہواجب ایک طرف عالمی عدالت انصاف میں بھارتی دہشتگرد کلبھوشن یادیوکے کیس کی سماعت تیارتھی ،دوسری جانب سعودی ولی عہدشہزادہ محمدبن سلمان پاکستان آکرسرمایہ کاری کے معاہدات پردستخط کرنے آرہے تھے ۔
(جاری ہے)

 

تازہ ترین خبریں