08:44 am
جذبہ خیر سگالی اور تحریک کشمیر

جذبہ خیر سگالی اور تحریک کشمیر

08:44 am

جذبہ خیر سگالی کے تحت پاکستان نے گرفتار بھارتی پائلٹ کو واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے تو کر دیا‘ لیکن پاکستان کے اس جذبہ خیر سگالی کا جواب بھارتی ہیجڑا ا ینکرز اور مرد مار اینکرنیوں نے ’’پاکستان نے گھٹنے ٹیک دیئے ‘‘کہہ کر دیا‘ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کے تنازعے کی اصل وجہ مسئلہ کشمیرہے۔ا
جذبہ خیر سگالی کے تحت پاکستان نے گرفتار بھارتی پائلٹ کو واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے تو کر دیا‘ لیکن پاکستان کے اس جذبہ خیر سگالی کا جواب بھارتی ہیجڑا ا ینکرز اور مرد مار اینکرنیوں نے ’’پاکستان نے گھٹنے ٹیک دیئے ‘‘کہہ کر دیا‘ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کے تنازعے کی اصل وجہ مسئلہ کشمیرہے۔امیر شریعت مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ نے جنوری1949  میں لاہور میں انسانوں کے سمندر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ فرنگی اور ہندو کسی صورت میں بھی آپ کو کشمیر نہیں دینا چاہتے، وہ کشمیر جو ذہنوں میں جنت کا نشان ہے جس کے متعلق میری رائے ہے کہ پروردگار عالم نے آسمانوں پر بھی اپنی موجودگی میں تیار کرا کے اسے زمین پر اتارا وہ جنت کا ایک ٹکڑا ہے اس جنت ارضی میں اب نہیں بلکہ1930 سے مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے، ہم نے ڈوگرہ شاہی اور ہندووں کے مظالم کے خلاف آواز بلند کی تھی مسلمانوں کو متوجہ کیا تھا کہ کشمیر تمہارا ہے اسے بچا لو اور اس کے مستقبل کو محفوظ کر لو! مگر اس وقت کے رئیس مسلمانوں نے جن کا فرنگی ایوانوں میں اٹھنا بیٹھنا تھا ہماری بات نہیں سنی، لیکن مجلس احرار اسلام کی اپیل پر آزادی کشمیر کیلئے چلائی جانے والی پہلی عوامی تحریک میں50ہزار مسلمان قید ہوئے اور ہمارے 22نوجوان شہید ہوئے تب ہماری بات مان لی ہوتی تو آج کشمیر کا نقشہ یوں نہ ہوتا۔
رئیسوں کو تو پہلے بھی کچھ نہ ہوا اور اب بھی کچھ نہ ہو گا، مگرجذبہ جہاد سے سرشار مسلمان روز اول سے اب تک قربانی دیتے آئے ہیں انہیں کی جانیں اس جنت نظیر کی آزادی کی جنگ میں کام آئی ہیں۔
رتبہ شہید ناز کا گر جان جائیے
قربان جانے والے کے قربان جائیے
حضرت امیر شریعت نے1949  میں اپنے خطاب میں جو کچھ فرمایا تھا وہ حرف بحرف سچ نکلا۔
آج بھی رئیس زادے، نواب زادے، دولتانے، مخدوم زادے، سیاست دان اور ایوانوں میں موجود کاٹھے انگریز اپنی جائیددایں بڑھا رہے ہیں ان کے سرے محلوں اور پانامہ کے قصے زبانِ زد عام ہیں، ہاں البتہ جذبہ جہاد سے سرشار مسلمان آج بھی جنت نظیر وادی کی آزادی کے لئے اپنی جانیں نچھاور کر رہے ہیں۔
بھارتی فوج نے  جنت نظیر وادی کو وہاں کے عوام کے لئے عملاً جہنم زار بنا ڈالا ہے … کون سا ظلم و جبر کا ہتھکنڈہ ہے جو بھارت نے کشمیریوں کے خلاف نہ آزمایا ہو؟ وہ کونسا ظلم ہے جو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر نہ ڈھایا ہو؟
ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی مسلسل ریاستی دہشت گردی کے باعث مقبوضہ کشمیر میں 1989 ء  سے لیکر اب تک بچوں اور عورتوں سمیت ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہوئے‘ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 8 ہزار سے زائدکشمیریوں کو حراست کے دوران  لاپتہ کیا گیا اور ان لاپتہ افراد میں سے اکثریت کی مائیں‘ بہنیں برس ہا برس سے اپنے جگر گوشوں کی راہ تک رہی ہیں ‘ مگر ان کاکوئی پرسان حال نہیں‘ کشمیر میں یونیورسٹیاں اور کالجز بند پڑے ہیں ‘ موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کی ہوئی ہے‘  حریت  قائدین یا تو جیلوں میں پڑے ہیں یا پھر انہیں گھروں میں نظر بند کر دیاگیاہے۔
مقبوضہ کشمیر ‘ انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا منہ بولتا ثبوت ہے‘ مگر عالمی ضمیر بھارت کے سامنے بھیگی بلی بنا ہوا ہے‘ بھارت اسلحے کے زور پر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو زبردستی کتنے عرصے تک غلام بناکر رکھ سکتا ہے؟ جبکہ کشمیر کا ایک ایک بچہ سروں پر کفن باندھے‘ سبز ہلالی پرچم ہاتھوں میں تھامے چلتی گولیوں میں بھی آزادی کے نعرے بلند کررہاہے۔
مقبوضہ کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کا مطالبہ کرتے ہیں تو بھارت ردعمل میں اسرائیل کی طرز پر وادی کے اندر کبھی فضائی بمباری‘ کبھی گھروں میں داخل ہوکر خواتین کی بے حرمتی‘ نوجوانوں کی گرفتاریوں‘ کمسن بچوں کے ساتھ مار پیٹ‘ یعنی ظلم کے نئے نئے ہتھکنڈے اختیار کرنے سے دریغ نہیں کرتا‘ لیکن ان سارے بھارتی استبداد کے ظالمانہ ہتھکنڈوں کے باوجود  وادی کشمیر کی عفت مآب مائوں، عصمت مآب بہنوں اور پاکباز بیٹیوں نے آزادی یا شہادت کا فیصلہ کر کے صرف بھارت ہی نہیں بلکہ تماش بین عالمی اوباشوں کو بھی یہ پیغام دے دیا ہے، کہ ہم خواتین ہونے کے ناطے کمزور سہی‘مگر بھارتی غلامی پر قناعت کرنے سے شہادتوں کے جام نوش کر لینا زیادہ بہتر ہے ۔جموں و کشمیر برائے شہری آزادی سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے معروف کارکن خرم پرویز کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہندو جنونیت کی لہرکشمیر میں رائے عامہ کو مزید خلاف کرر ہی ہے‘اب کشمیر میں کوئی اعتدال پسند نہیں بچا جو امن کا پرچار کرے ذہنی طور پر ہم سب عسکریت پسند بن چکے ہیں۔
را کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا  کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال 1990 کے حالات سے بھی بدتر ہو چکی ہے ،اس کا کہنا تھا کہ1990 کے مقابلے میں آج حالات اس لئے زیادہ خراب ہیں کیونکہ اس میں کشمیری نوجوان قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔ کشمیری نوجوان مرنے سے نہیں ڈرتے، شہر والے ہوں، دیہات والے ہوں، طلبا ء ہوں یہاں تک کہ لڑکیاں بھی سڑکوں پر آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے آرہی ہیں ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔ را کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ آج کشمیر کی صورت حال اس لئے بھی بہت خطرناک ہے کہ کشمیری نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھارتی فوج کی لاٹھیوں اور گولیوں کا مقابلہ پتھروں سے کرتے ہیں، اس سے بڑھ کر غیر معمولی صورت حال کیا ہو سکتی ہے۔ کشمیر کے نوجوانوں کو نہ تو بھارتی فوج سے ڈر لگتا ہے اور نہ وہ چھپتے ہیں بلکہ وہ بھارتی فوج پر پتھرائو کر کے فخر محسوس کرتے ہیں۔
را کے سابق سربراہ کا یہ انٹرویو مقبوضہ کشمیر کے نہتے مسلمانوں کی جرات و بہادری کو چیخ چیخ کر بیان کر رہاہے۔ کشمیر کی بیٹیوں کی جرات و بہادری کو میرا سلام پہنچے کہ جو دہشت گرد بھارتی فوجیوں کا مقابلہ چھوٹے چھوٹے پتھروں سے کر رہی ہیں کشمیرکی پاکباز شہزادیاں آزادی کے حصول کیلئے آنسو گیس کے شیل برداشت کر رہی ہیں، بھارتی فوج کے ہاتھوں دھکے اور لاٹھیاں اپنے ناتواں جسموں پر سہہ رہی ہیں انہیں پاکستان سے محبت ہے۔  پاکستان سے پیار ہے وہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ سمجھتی ہیں کشمیرکی وہ معصوم شہزادیاں کیا جانیں ’’شریف، جندال ‘‘ملاقاتوں کی باریکیوں کو ‘کشمیر کی وہ پاکباز بیٹیاں کیا جانیں شریفوں کے بھارتیوں سے کاروباری رشتوں کی نزاکتوں کو کشمیر کی بیٹیاں کیا جانیں میڈیائی امن کی آشائوں کو‘کشمیر کی بیٹیاں تو آزادی چاہتی ہیں، بھارتی غلامی کی زنجیریں کاٹنا چاہتی ہیں پاکستان کے ساتھ شامل ہو کر پاکستان کو مضبوط بنانا چاہتی ہیں۔

 

تازہ ترین خبریں