08:48 am
عساکرِ پاکستان کو خلائی مخلوق کہنے والی بدبخت قوتوںکے مُنہ پر طمانچہ

عساکرِ پاکستان کو خلائی مخلوق کہنے والی بدبخت قوتوںکے مُنہ پر طمانچہ

08:48 am

میرے دوست کہتے ہیں کہ روائتی کالم لکھو! تم روائت شکن مت بنا کرو۔اساتذہ میری تحریروں پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔ سینئرز مجھے ملامت کرتے ہیں۔ جونیئرناخوش دِکھائی دیتے ہیں۔ میں کوئی کرائے کا کالم نگار تو نہیں کہ کسی کی ڈکٹیشن پر اپنے ضمیر کو سولی پر چڑھا دوں
میرے دوست کہتے ہیں کہ روائتی کالم لکھو! تم روائت شکن مت بنا کرو۔اساتذہ میری تحریروں پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔ سینئرز مجھے ملامت کرتے ہیں۔ جونیئرناخوش دِکھائی دیتے ہیں۔ میں کوئی کرائے کا کالم نگار تو نہیں کہ کسی کی ڈکٹیشن پر اپنے ضمیر کو سولی پر چڑھا دوں، میں تو وہی لکھوں گا جو میرا ضمیر کہتا ہے۔ وہ کہوں گا جو میرے نزدیک سچ ہے اُسی بات کا ابلاغ کروں گا جو صحافتی اقدار کا تقاضا ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اپنے قلم کی نوک کسی اور کی سوچ دوات میں ڈبو دوں۔ میرے لئے یہ ممکن نہیں کہ میں اندھیروں کو بُقعہ نور لکھوں، صبح کو رات قرار دوں… نہیں نہیں میرے لئے یہ غیر ممکن ہے۔ میں روائتوں کا قیدی نہیں ہوں۔ مجھے روایات سے ہٹ کر ہی لکھنا ہے۔
آج کا کالم لکھنے لگا تو ایک سینئر دوست نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ جس موضوع پر تم لکھنا چاہتے ہو۔ وہ موضوع ضبط تحریر کرنے کا موقع نہیں۔ میں نے کہا کہ حضور! میں موقع پرست نہیں ہوں۔ میں مفاد پرست بھی نہیں ہوں۔ اُس دوست کے اصرار کے باوجود میں نے قرطاس ابیض کا سینہسیاہ کرنا شروع کر دیا۔ میرا قلم میرے ہاتھوں میں لرزہ براندام ہے۔ میں اپنے قارئین تک ہر بات پہنچانا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ دیکھو! فوجیں ملکوں، معاشروں اور ریاستوں کی شان ہوا کرتی ہیں، فوجیں قوم کے دفاع کی علامت ہوا کرتی ہیں۔ جو لوگ اِس بات پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ آج اُنہیں اپنی فوج کی شجاعت اور بہادری پر یقین کر لینا چاہئے۔ آج اُنہیں یہ بات اپنے دل میں بٹھا لینی چاہئے کہ اُن کی سوچ غلط تھی۔ آج پاکستان کی زمینی، فضائی اور سمندری حدود کی حفاظت میں عساکر پاکستان ایک لاثانی اور بے مثال کردار ادا کر رہی ہیں۔ آپ گزشتہ ہفتے میں ہونے والی پاک بھارت کشیدگی سے تو بخوبی واقف ہوں گے۔ کس طرح پاکستان فضائیہ نے اقوام عالم کی آنکھیں کھول کر رکھ دی ہیں۔ دشمن حیرت زدہ ہے اور انگشت بدنداں ہے۔ مودی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پاکستانی فضائیہ کے ساتھ چھیڑخانی اُسے کس قدر مہنگی پڑے گی۔ سکواڈرن لیڈر حسن صدیقی اِس وقت قوم کی آنکھوں کا تارا بن چکے ہیں۔ اُنہوں نے اسلامی جنگوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔ آج عساکر پاکستان کا ایک ایک جوان پاکستانی عوام کے دِلوں کی دھڑکن بن چکا ہے۔ پوری قوم افواجِ پاکستان پر تفاخر محسوس کر رہی ہے۔ بچہ بچہ دُعا گو ہے۔ جذبے جوان ہیں۔ ہمت ہے۔ جرأت ہے۔ شجاعت ہے اور شوق شہادت ہے۔ مجھے خود اندازہ نہیں تھا کہ عساکر پاکستان اتنی باصلاحیت ہیں اور اتنی تربیت یافتہ ہیں کہ اُن کے آگے بڑے سے بڑا دشمن اپنا سرنگوں کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
بدھ کے روز میرے جوانوں نے یہ ثابت کر دیا۔ قوم کا سر فخر سے بُلند کر دیا دُنیا محو حیرت ہو گئی۔ انٹرنیشنل طاقتیں ششدر رہ گئیں دشمن کا جگر چھلنی ہو گیا۔ ہیبت طاری ہو گئی۔ اور پاکستان کی سرزمین نعرۂ تکبیر سے گونج اُٹھی۔ مجھے فخر ہے کہ میں پاکستانی ہوں۔ میری دھرتی ماں کا نام پاکستان ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میری فوجیں افواج پاکستان کے نام سے جانی اور پہچانی جاتی ہیں۔ دنیا میں ان کی شجاعت کا ڈنکا بجتا ہے۔ اِس ڈنکے کی صدا وہ بھی سُن لیں جو کل تک اقتدار کے نشے میں چُور ہو کر میری اِسی فوج کو خلائی مخلوق کہتے تھے۔ وہ بھی سُن لیں جنہیں وردی اچھی نہیں لگتی تھی، وہ بھی سُن لیں جو میری فوج کی کردار کشی کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں چھوڑتے تھے۔ وہ بھی سُن لیں جو اقتدار کے حصول کے لئے میری فوج پر طعنوں کے نشتر چلاتے تھے۔ جنہیں اقتدار کے لئے کسی بھی حد کو عبور کرنے میں کوئی ندامت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ آج میری فوج نے وطن کا دفاع کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بدبخت قوتییں۔ جھوٹی اور مکار تھیں۔ وہ بدبخت قوتیں پاکستان اور سرزمین پاکستان سے مخلص نہیں تھیں۔ وہ بدبخت قوتیں کسی اور کی خواہشوں کی زبان بول رہی تھیں۔ آج میری فوج نے انہی قوتوں کے رُخسار پر طمانچہ رسید کر دیا ہے۔ اور اِس کی گونج مودی تک پہنچی ہے۔ انڈین زمین لرز اُٹھی ہے۔
اے پاکستان اور بیرون پاکستان بسنے والی بدبخت قوتو! ڈوب مرو! آج اپنے اپنے گریبان میں جھانکو! اپنے سینے ٹٹولو! اپنی سوچوں کو ترتیب دو۔ اپنے چہرے آئینوں میں دیکھواور خود اپنے منہ پر ندامت کے تھپڑ رسید کرو، آج اُسی خلائی مخلوق نے تمہاری حفاظت کا بار اپنے شانوں پر اُٹھایا ہے جسے طعنے دیتے ہوئے تم تھکتے نہیں تھے۔ آج اُسی خلائی مخلوق نے اپنے وطن کی سرحدوں کی حفاظت کی ہے۔ ورنہ دشمن تو تم سمیت تمہاری نسلوں کو بھی تباہ کرنے کے بدارادے رکھے ہوئے ہے۔ دشمن تو اِس دھرتی کو ہر لمحہ میلی آنکھ سے دیکھتا ہے مجھے افسوس ہے کہ ابھی چند ماہ قبل تک تمہاری آنکھوں میں بھی غرور کا موتیا اُترا ہوا تھی۔ اقتدار کے ہوس کی چربی چڑھی ہوئی تھی۔ طاقت کے نشے کا خُمار تھا۔ اور تمہاری آنکھیں بھی دشمن کی آنکھوں کی طرح میلی دِکھائی دیتی تھیں۔ آج تمہاری غلاظت تمہارے ہی گلے کا ہار بن چُکی ہے۔ کاش تم شرمندہ ہو سکتے۔ کاش تمہیں ندامت محسوس ہوتی اور تم برسرعام اِس بات کا اعتراف کرتے کہ تم نے کل غلطی کی تھی اور تم آج افواجِ پاکستان سے معافی مانگتے اور پوری قوم کو بتلاتے کہ ہم مودی سے یاری نبھانے کے لئے اپنی ہی فوج کو بُرا بھلا کہتے رہے۔
آج دیکھ لو وہی مودی تمہیں اور تمہاری سرزمین کو بربادکرنے کے لئے تُلا ہوا ہے اور وہی فوج جس پر تم دشنام طرازی کرتے نہیںتھکتے تھے، آج تمہاری اور تمہارے بچوں کی محافظ کر جان ہتھیلی پر رکھ کر شوق شہادت کندھوں پر اُٹھائے میدان عمل میں دشمن کے سامنے ایک سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہے۔ آج تم راتوں کو چین سے سوتے ہو اور تمہاری فوج راتوں کو جاگ کر اِس وطن کی حفاظت کر رہی ہوتی ہے۔ میں بصد احترام! اُن قوتوں سے التماس کرتا ہوں کہ خدارا! یہ اقتدار تو آنی جانی چیز ہوتی ہیں۔ خدا کے لئے اپنی سوچوں کوبدلیں اور توبہ کریں کہ آئندہ کبھی اپنی فوج کے بارے میں کوئی بدگمانی ذہن میں نہیں لائیں گے۔ کبھی دشمن کی زبان نہیں بولیں گے۔ کبھی میرے وردی میں ملبوس مجاہدوں اور غازیوں پر الفاظ کی سنگ باری نہیں کریں گے۔ خدا تمہیں ہدایت دے اور تم عساکر پاکستان کے لئے دُعائیں کرنے والے بن  جائو۔ تم اِس فوج کے ترانے گنگنانے والے بن جائو۔ تم اِس فوج کو سیلوٹ کرنے والے بن جائو کہ تمہاری فوج نے دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔ اور میرے نزدیک تو تمہارا غرور بھی خاک میںمل چکا ہے۔ اگر اب بھی تمہارے لبوں پر اپنی فوج کے لئے تحسین آفرین الفاظ نہیں مچلتے تو لعنت ہو تم پر اور تمہاری سوچوں پر تم پاکستان چھوڑ کر کہیں اور جا بسو! مگر خدارا میرے وطن کی فوج پر کبھی لفظوں کی سنگ باری مت کرنا اگر آپ نے دوبارہ ایسی سوچ کا ابلاغ کیا کہ تو ہم تم سے تمہاری سوچ نوچ لیں گے تمہاری زبانیں کاٹ ڈالیں گے۔

 

تازہ ترین خبریں