08:10 am
ٓٓٓٓامریکی انخلاء ۔۔۔۔پاک افغان اسٹرٹیجی

ٓٓٓٓامریکی انخلاء ۔۔۔۔پاک افغان اسٹرٹیجی

08:10 am

آج سے ٹھیک تین دہائی قبل غیورافغانوں نے اپنے ملک پردنیاکی سپرطاقت اورپڑوسی ملک کی بے پناہ یلغار کوروکنےکیلئےتوڑےداربندوقوںسےجہادکا آغازکر کے بالآخرآنجہانی سوویت یونین کوجنیوا معاہدے کی آڑمیںاپنے ماتھے پر شکست  وپسپائی کاذلت آمیزداغ اپنے ماتھے پر سجا کر نہ صرف ناکام ونامرادلوٹناپڑابلکہ 78سال قبل جن مسلمان ریاستوں پرجبری قبضہ کرکے خودمیں شامل کرلیاتھا،ان سے بھی دستبردار ہونا پڑ ااور اپنی جارحیت جیسے جرم عظیم کی اس طرح بھاری قیمت چکائی کہ یہی افغانستان، سوویت یونین کا قبرستان  بن گیااوراب یہ دوبارہ ’’روس‘‘کے نام پراپنی باقی ماندہ سرزمین کوبچاسکااوراس طرح اس جارح سپرطاقت کاعالمی وقاربھی خاک میں مل گیا اوراب یہی حال دنیاکی اکلوتی سپرپاور امریکہ کا ہونے جارہاہے جس کیلئے وہی فرعونی تکبر چکناچورہوکرآج انہیں افغانوں سے پرامن انخلاء کی بھیک مانگ رہاہے اورجاری تصویرمیں ان امریکیوں کے سامنے وہی افغان مجاہدملاضعیف اپنے وفدکی قیادت کررہاہے جس کوصرف چندبرس قبل اسلام آبادکے ہوائی اڈے پرننگاگھسیٹ کرگوانتاناموبے کے عقوبت خانے میں پھینک کرتشددکاہر حربہ آزمایاگیاــ۔۔۔۔۔اللہ اکبر‘بے شک میرارب بہت ہی بڑاہے اورتکبرکرنے والوں کو انتہائی ناپسندکرتاہے۔ جہالت کے زمانے میں بھی دشمن ممالک کے سفارت کاروں کے ساتھ بھی ایسانارواسلوک نہیں کیاگیاجواس بدنماتہذیب یافتہ ٹولے نے پاکستان میںافغانستان کے سفیرملاضعیف سے کیاگیااورامریکہ کے تمام اتحادی اورکٹھ پتلی حکمران احتجاج کی بجائے ایک کورس کی شکل میں قصرسفیدکے فرعون کی تعریف وتوصیف میں مگن تھے۔
 
لگاکرآگ شہرکویہ بادشاہ نے کہا   
اٹھاہے دل میں تماشے کاآج شوق بہت!
جھکاکرسرکوسبھی شاہ پرست بول اٹھے 
حضورکاشوق سلامت رہے،شہراوربہت! 
سوویت یونین کی مسلط کردہ جنگ کے ہولناک اثرات سے ابھی افغانستان گزررہاتھاکہ امریکہ نے دنیابھرسے اپنے یورپی اورغیریورپی اتحادیوں کے ہمراہ اٹھارہ سال توپ وتفنگ آزمائے،بدترین ڈیزی کٹربم استعمال کیے ،ٹرمپ نے توتمام غیرجوہری بموں کی ’’ماں‘‘جیسا ہولناک بم برساکربھی اپنے ظلم کی انتہاء کردی اوریہ سلسلہ باوجود مذاکرات کی میزپرامن کی بھیک مانگنے تک جاری وساری ہے لیکن یہ ضرورہواہے کہ ویتنام سے رسواہوکرواپسی اور پسپائی پرمجبورہونے والے امریکہ نے اب آنجہانی سوویت یونین کے نقشِ پاپربوسے دینے شروع کردیئے ہیں۔اس سلسلے میں امریکہ کافی عرصے سے طالبان کے ساتھ مذاکرات ممکن بنانے کیلئے پاکستان سے مددمانگتارہااوراب بالآخررواں ماہ کے دوران طالبان کے ساتھ امریکہ کے مذاکرات کااب تک اہم ترین ردّ ِ عمل ہوا،اورقطرمیں چھ روزتک جاری رہنے والے طویل ترین مذاکرات میں امریکاکے گیارہ رکنی وفدنے شرکت کی،اس امریکی وفدکی قیادت زلمے خلیل زادنے کی جنہیں افغان نژادامریکی ہونے کے ساتھ ساتھ افغان امورکے ماہرین میں شمارکیاجاتاہے۔
ان طویل مذاکرات کے ذریعے امریکہ ایک بارپھرایک ایسے معاہدے کیلئے سرگرم ہے جوجنیوامعاہدے کے بہت ہی قریب ہو اور امریکہ کواس سے محفوظ پسپائی کاموقع بھی میسرآ جائے ،نیزافغانستان میں 18برس تک ہونے والی امریکی رسوائیوں کانکتہ عروج بھی ظاہرنہ ہو۔ اگر رسوائی اورپسپائی کے باوجودامریکہ یہ ثابت کرنے کیلئے جھوٹے سچے دلائل جمع کر سکے کہ افغانستان میں بھی ویتنام کی طرح امریکہ رسوانہیں ہوا لیکن 18برس تک نیٹوممالک کی پوری مددوحمائت کے باوجود طالبان کوشکست نہ دے سکنا‘بجائے خودامریکی شکست کاکھلااعلان ہے کہ دنیامیں امریکی ومغربی ممالک کی حکومتوں ،سفارتی مہارتوں ،شہری ابلاغی ومسائل اورغیرمعمولی مالی وسائل کے استعمال کے باوجودطالبان کوختم نہ کرسکنے میں امریکہ اوراس کے اتحادی بری طرح ناکام رہے۔اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ جن طالبان کوامریکہ اوراس کے چھوٹے بڑے سب اتحادیوں نے دہشت گردی کی علامت بناکرپیش کرنے کی کوشش سالہاسال تک کی،اب انہی طالبان کے ساتھ دنیاکی واحدسپرپاوررہنے والے امریکااوراس کے نیٹوممالک ایسے اتحادی اور نان نیٹواتحادی طاقتوں کی درخواست اور اصرار پر طالبان ایک بڑی طاقت کے طورپرقطرمیں سجنے والی مذاکراتی میزپربراجمان ہوئے ، اس لئے یہ کہنے میں کوئی خوف نہیں ہے کہ قطرمیں طالبان کے ساتھ امریکی مذاکرات کامیابی کے اعلان پرمنتج نہیں ہوئے بلکہ ان مذاکرات کے بعدعالمی مؤرخ آج بھی یاکچھ عرصے کے بعدامریکی پسپائی کواس کے مقدرکے طورپردیکھاجائے گا۔    (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں