08:11 am
یہ جنگ کس کے مفاد میں؟

یہ جنگ کس کے مفاد میں؟

08:11 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
عمران خان کی پیش کش کی اَن سنی کر کے پلوامہ حملے کے بارہ دن بعد26 فروری کو جب برصغیر محوآرام تھا، بھارت کے کئی میراج بمبار طیارے جنگ بندی لکیر  پار کرکے بالا کوٹ (خیبر پختونخواہ) میں بھارتی دعوے کے مطابق جیش محمد کے تربیتی کیمپ کو تباہ کررہے تھے۔ دعویٰ یہ کیا گیا کہ اکیس منٹ تک’’سرجیکل ٹو‘‘ نامی اس فضائی کارروائی میں تین سو عسکریت پسندابدی نیند سُلادیئے گئے۔ پاکستان نے ان دعووئوں کو یکسر مسترد کر تے ہوئے کہا کہ بمباروں نے حدمتارکہ عبور کر کے تین چار منٹ تک ہوا میں گزارے اور جاتے جاتے کسی ویرانے میں بم پھینک کر واپسی کی راہ لی۔ بالاکوٹ کی فضائی ایکشن سے پاکستان نے جنگ بندی لائن  کے خلاف ورزی پر نئی دلی سے زوردار احتجاج کیااور بلا کسی پس وپیش کے جوابی کارروائی ا پنی چوائس اور ٹائمنگ کے مطابق کرنے کا عندیہ دیا۔ اس کے اگلے ہی روز 27فروری کو پا کستانی فضائیہ کی جوابی کارروائی سے بھارت کے دو فوجی طیارے مار گرائے گئے اور ایک انڈین پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کوآزاد کشمیر میں زندہ پکڑاگیا۔ اس کارروائی میں انڈین ائر فورس کا دوسرا طیارہ ضلع بڈگام میں دریند گائوں کے میدان میں گرکر تباہ ہوا۔ طیارے کے دونوں پلائٹ، بھارتی  فضائیہ کے چار اہل کار اور ایک مقامی نوجوان 30سالہ کفایت حسین موقع پر ہی دم توڑ بیٹھے۔ اپنی جوابی کارروائی کے کچھ ہی دیر بعد وزیراعظم پاکستان نے اپنی امن مذاکرات کی پیش کش کا اعادہ کیا اور پلوامہ تحقیقات میں تعاون دینے کی پیشکش دہرائی۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ عقل سے کام لیںکیونکہ وسیع پیمانے پر ہلاکت خیز ہتھیار جوہم دونوں ملکوں کے پاس ہیں،کیاہمmiscalculation  کر کے یہ اسلحہ ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرناafford  کر سکتے ہیں؟ اور ایک بار جنگ چھڑ گئی تو اس پر قابو پانا نہ میرے بس میںاور نہ مودی کے ہاتھ میں ہوگا۔ پاکستان کی فضائی کارروائی کے بعد فضائی حملے بند ہوئے مگرجنگ بندی لائن  پر دوطرفہ زمینی حملے برابر جاری ہیں۔ تباہیوں کی یہ داستان کس تباہ کن موڑ پر ختم ہوگی، اس بارے میں وثوق سے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ مودی سرکار چونکہ10اپریل سے  ہی پارلیمانی الیکشن کے وقت عوام کا سامنا کر رہی ہے،اس لئے ناقدین کہتے ہیں کہ اس نازک گھڑی پر پلوامہ سانحہ کے تعلق سے اپناسارا زور جنگی جنون پیدا کرناایک الیکشن سٹنٹ ہے۔ اگرچہ پہلے دن سے پاکستان پلوامہ واقعے پر اظہار تاسف کر تے ہوئے ا س میں اپنے کسی رول کی تردید کر رہاہے اور تجویز دے رہاہے کہ انڈیا اپنے ثبوت وشواہد اسلام آباد کو پیش کر ے تاکہ مبنی برحقیقت تحقیقات کی بنیاد پر اگر کسی پاکستانی شہری کو اس حملے میں ملوث پایاجائے تو اُس کے خلاف قرارواقعی ایکشن لیاجاسکے۔بھارت کی طرف سے اس تجویز کودرخور اعتناء نہ سمجھاگیا بلکہ صرف پاکستان سے بدلہ لینے کا راگ الا پا جاتا رہا۔
 یہ بات قابل ذکر ہے کہ قطع نظر اس کے کہ کشمیر میں گزشتہ اٹھائیس سال سے قتل و خون اورانسانی  حقوق کی پامالیوں میں بھارتی  وردی پوشوں کا کلیدی کردار رہامگراس کے باوجود لیتہ پورہ پلوامہ کے فدائی حملے میں  متاثرہ سی آر پی والوں کی ہلاکت کادرد کشمیریوں نے بھی انسانیت کے ناطے محسوس کیا  ہو گا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کسی کا سہاگ لٹ جانا،کسی کایتیم ہونا، کسی بزرگ کی لاٹھی ٹوٹ جانا،کسی گھرانے کا کمائوفرد کی دائمی مفارقت یا کسی خانوادے کا سکھ چین چھن جانا خود میں ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہوتا ہے۔یہ زخم بھارت نے کشمیریوں کو دیئے ہیں۔ اس کے برعکس حملے کے فوراً بعد بھارتی چینلزاور سوشل میڈیا کا کشمیریوں کے خلاف جذبات برانگیختہ کرنا اور جگہ جگہ انہیں ستانا، ماراپیٹنا،دھمکانا اس بات پر دلالت کرتاہے کہ یہ صرف زندہ کشمیری قوم ہے جس کے خمیر میںا نسانیت کے تئیں پیار ہے۔ ٹی وی اینکرز نے جذباتیت اور منافقت کی خباثتیں اکھٹا کرکے ہر نہتے کشمیر ی کوایک دشمنِ جاں کی صورت میں پیش کر کے مشتعل لوگوں کو بلواسطہ یہ پیغام دیا کہ اگر دیش بھگتی ہے تو جس کشمیری پر ہاتھ پڑے اُس کی ہڈی پسلی ایک کردو،اُسے ہرقسم کا نقصان پہنچادو۔اب تاریخ کا ورق اُلٹ کر دیکھئے کہ کشمیریوں نے کس طرح ہمیشہ دھرم اور جاتی کے نام پر بھید بھائوسے اُوپر اُٹھ کر ہر بھارتی سیاح کا استقبال خندہ پیشانی سے کیا، ہر یاتری کو سر آنکھوں پر بٹھایا، ہر بہاری، بنگالی، پنجابی مزدور اور کاریگرکے ساتھ بھلائی کی مگر اس کے جواب میں انہیں کیا ملا؟ وہ ایک کھلی کتاب ہے۔ 
پاک فوج اپنی اسلامی روایت کے عین مطابق اپنی سرزمین پر پکڑے گئے بھارتی فضائیہ کے  ونگ کمانڈر ابھی نندن کے ساتھ مہمان نوازی اور حسن سلوک سے پیش آئی  جب کہ راجستھان کے جیل میں پاکستانی قیدی شاکر اللہ کو 12فروری کو پتھر مار مار کر شہید کیا گیا۔ یہ شخص17سال قبل راستہ بھٹک کربھارتی حدود میں غلطی سے آیاتھا اور پکڑا گیا۔خیر یہ تلخ حقیقت نظر انداز کر نا شتر مرغ کی چال چلنے کے برابر ہے کہ کشمیر حل کئے بغیر وادی میں مزیدخون خرابہ نہ ہو، یا انسانی حقوق کی مزید خلاف ورزیاں بند ہوں، یا پاک بھارت  فوجی ٹکرائو سے مستقبل میںدشت وجبل میں انسانی جانوں کا اتلاف نہ ہو۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت اور پاکستان کشمیری نمائندوں کے ساتھ مل بیٹھ کر مسئلہ کشمیر کا ایسا قابل قبول اور منصفانہ ودیرپا حل نکا لیں تا کہ یہ خطہ مزید کسی تباہ کن اتفاقی حادثے یا بدترین انسانی المیے سے بچ سکے۔ 
حالیہ جنگی جنون اورزمینی حقائق بھارتی حکام اور قومی رہنمائوں کے لئے بھی نہایت سبق آموز ہیں کہ جب تک وہ کشمیر مسئلہ کو ووٹ بنک سیاست کی عینک سے دیکھیں گے اور کشمیر کے حوالے سے پاکستان کو اپنی ہر مصیبت اور ہر ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے،اُن کے ہاتھ میںقوم سے غربت، جہالت اور بیماری کھدیڑنے کے لئے کچھ بھی نہ بچے گا کیونکہ اسے قوم کا ساراسرمایہ مغرب کی اسلحہ ساز کمپنیوں اور امبانی جیسے اُن کے مقامی دلالوں اور ٹھیکیداروں کی تجوریاں بھرنا پڑیں گی۔ اس بات کو نہ صرف بھارت کے دانش ور اور اعتدال نواز حلقے محسوس کرتے ہیں بلکہ دوست ممالک میں بھی اس ٹھوس حقیقت سے باخبر ہیں۔یہ ایک قابل تردید حقیقت ہے کہ جموں کشمیر واحد مسلم اکثریتی ریاست ہے جس کو دفعہ 370 اور 35Aکے تحت حاصل شدہ اختیارات پر کئی عناصر کی میلی آنکھیں روزاول سے ٹکی ہوئی ہیں۔آج جب یہ عناصر کشمیر کے زخم کو سہلانے کے بجائے ریاست کی پہلے ہی کمزور کی گئی خصوصی پوزیشن بھی آئین ہند سے حذف کرنے کی بے ہودہ کوششیں کریں تو ردعمل میں کشمیر یوں کا احساس بیگانگی کیوں نہ تقویت پائے؟ بھارتی عوام کو سمجھناہوگا کہ کشمیر یا پاکستان اُن کا دشمن نہیں بلکہ ان کے دشمن اصلاًوہ مطلبی سیاست دان ہیں جو دیش بھگتی اور قومی ایکتا و اکھنڈتا کے نام پرمحض فرقہ وارانہ منافرت و کدورت سے اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔بشیر احمد وانی کا کہنا ہے کہ  اگر بھارتی عوام واقعی اچھے دنوں کی آمد کے منتظر ہیں تو انہیں اس بار ہوش کے ناخن لے کر اپنا قیمتی ووٹ صرف اس کو دینا چاہیئے جو امن ، سلامتی، خوش حالی، تعمیر و ترقی، بقائے باہمی، بھائی چارے، عوامی بھلائی کا پیامی بنے، جو کشمیر کے جنجال سے چھٹکارا پانے کے لئے پاک بھارت مذاکرات کا معمار بنے۔جیسا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرانے والا ہی نوبل انعام کا اصل حقدار ہو گا۔

تازہ ترین خبریں