08:15 am
اسلام میں خیر اعلیٰ

اسلام میں خیر اعلیٰ

08:15 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
اس آیت سے واضح ہوگیاکہ ایک اعتبار سے سب سے اونچی نیکی قتال فی سبیل اللہ ہے۔ مولانا روم فرماتے ہیں:
مصلحت در دین عیسیٰ غار و کوہ
مصلحت در دین ما جنگ و شکوہ!
حضرت عیسیٰ ؑ کے پیروکاروں کے نزدیک مصلحت یعنی سب سے اونچی نیکی کسی غار میںیا پہاڑ میںبیٹھ کر اللہ سے لو لگانا ہے، جبکہ ہمارے دین کامل میں سب سے بڑی نیکی جنگ و شکوہ ہے۔ یعنی اسلام میںخیر اعلیٰ جہاد و قتال ہے۔ علامہ اقبالؒ نے بھی اس مضمون کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ فرماتے ہیں: 
مقام بندگی دیگر مقام عاشقی دیگر
ز نوری سجدہ می خواہی ز خاکی بیش ازاں خواہی
کہتے ہیں ایک بندگی کا مقام ہے اور ایک عاشقی کا مقام ہے۔  اگرچہ بندگی بھی مطلوب ہے اور انسانوں کو پیدا ہی بندگی کے لیے کیا گیا ہے ،لیکن ایک مقام اور بھی ہے اور وہ ہے مقام عاشقی۔ نوری مخلوق یعنی فرشتوں سے تو پروردگار یہ تقاضا کرتا ہے کہ میری بندگی کرو، میرے آگے سر جھکائے رکھو، میرے احکام پر عمل کرتے رہو،میں نے جو ڈیوٹی دی ہے، اس کو   سر انجام دیتے رہو، لیکن جو خاکی مخلوق (انسان) ہے اس سے بڑھ کر تقاضا ہے۔ یہ تقاضا صرف بندگی نہیں ہے۔ بندگی میں تو جمادات و نبادات وحیوانات سب لگے ہوئے ہیں۔ سب اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں۔ خاکی مخلوق سے تقاضا یہ ہے کہ 
چناں خود را نگہداری کہ با ایں بے نیازی ہا
شہادت بروجودِ خود زخون دوستاں خواہی
انسان کا کام یہ ہے کہ گردن کٹا کر اللہ تعالیٰ کے وجود اور اُس کی کبریائی کی گواہی دے۔ یعنی خاکی انسان سے اللہ تعالیٰ گردن کٹوا دینے کا تقاضا کرتا ہے۔ 
اللہ کی راہ میں قتال اور شہادت سب سے بڑی نیکی ہے۔ ایسے ہی لوگوںسے اللہ محبت رکھتا ہے۔ بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کی جائے، اُس کا تقویٰ اختیار کیا جائے۔ اللہ ہمارا آقا ہے، رب ہے، مالک ہے۔ ہم اس کی مخلوق ہیں، اس کے بندے اور غلام ہیں ۔ اللہ کی غلامی کے ہی یہ سارے تقاضے ہیں ، لیکن تقویٰ و اطاعت میںچوٹی کا عمل یہ ہے کہ دین کی دعوت و تبلیغ اور اس کی اقامت کی خاطر نبویؐمشن میں رسول کی مدد کی جائے اور آپﷺ کے دست وبازو بن کر اس راہ میں گردن کٹانے کو اپنی سعادت سمجھا جائے۔ یہ ہے مقام عاشقی۔ رسولوں کے کام کے بھی دو سطحیں ہیں۔ ایک ہے محض دعوت و تبلیغ کا مرحلہ ، جیسا کہ آپﷺ کی حیات طیبہ کے مکی دور میں تھا۔ اس مرحلے میں بھی مخالفت ضرور ہو گی اور آزمائشیں آئیں گی، لیکن یہاں پر گردن کے کٹنے اور جان قربان کرنے کا معاملہ بہت کم ہوتا ہے۔ تشدد تو ہوتا ہے، لیکن اس بات کا بہت کم امکان ہوتاہے کہ اس راہ میں گردن بھی کٹ جائے۔ دوسری سطح ہے کہ آگے بڑھ کر باطل نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کرنا،باطل نظام کو چیلنج کرنا،دعوت مبازرت دینا اور اس باطل نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے خود پیش قدمی کرنا اور میدان جنگ میںجا کر موت کو دعوت دینا۔ یہ ہے مقام عاشقی، جس پر فائز لوگوں سے اللہ بہت زیادہ محبت کرتا ہے۔اس کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیںکہ جو شخص مر گیا اس حال میں کہ نہ تو کبھی اس نے اللہ کی راہ میں جنگ (اور قتال)  میںحصہ لیا، نہ کبھی اس کے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی (کہ کوئی موقع ہو اورمیںاللہ کی راہ میں گردن کٹاؤں) تو اس شخص کی موت نفاق پر ہوئی۔  پس ہمارے تعلق بندگی کا آخری درجہ مقام عاشقی ہے اور یہی مطلوب ہے۔ 
ایک سوال یہ ہے کہ جہاد اور قتال جو بلند ترین نیکی قرار پایا، اس کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ کیا رسول کا دعوتی کام کافی نہیں ہوتا، جیسا کہ مکی دور میں ہو رہاتھا، یا جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام رفع سماویٰ سے پہلے کر رہے تھے؟ آخر جہاد اور قتال کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا اسی دعوت و تبلیغ کے ذریعے دین کے سارے مرحلے طے نہیںہو سکتے تھے۔ کیا اس وقت جہاد و قتال کی ضرورت ہے ؟ سب لوگ کہتے ہیں دعوت و تبلیغ بڑا اچھا کام ہے، بڑا نیک کام ہے، جس کے اندر کچھ بھی خیر ہے، وہ اس کام میں مدد کرتا ہے۔ بلاشبہ نبیوں اور رسولوں کو اصلاً بھیجا اسی لیے گیا تھا کہ وہ لوگوں اور معاشرے کی اصلاح کریں۔ لوگوں کے عقیدے، عمل اور اخلاق کی اصلاح کریںگے اور ان کی ایسی تربیت کریںکہ وہ نفس امارہ کو کنڑول کر سکیں، اور روحانی وجود کو ترقی دیں ، تاکہ آخرت میں سرخرو ہوں اور یہ کام نبیوں اور رسولوں نے کیا اور بھرپور طور پر کیا ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ نبی آئے ہیں اور ایک روایت کے مطابق 313رسول آئے ہیں۔ لیکن جان لیجیے ٔ کہ اصلاح کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک ہے فرد کی اصلاح اور ایک ہے نظام کی اصلاح۔ آپ دعوت دیتے ہیں، آپ کی محنت سے اُمید ہے کہ کچھ لوگوںکی اصلاح ہو جائے گی، ان کا عقیدہ درست ہو جائے گا، ان کے اخلاق بہتر ہو جائیں گے، ان کا رشتہ اللہ کے ساتھ قائم ہو جائے گا۔ آپ کی اس محنت سے بہت سے لوگ بدل جائیں گے، کچھ خیر وجود میںآ جائے گا۔ لیکن بحیثیت مجموعی لوگوں کو خیر کی طرف اور صراط مستقیم پر لانے کے راستے کی بہت بڑی رکاوٹ غلط نظام ہوتاہے۔ لہٰذا جب تک نظام کو نہ بدلا جائے تب تک اصلاح کا کوئی مؤثر کام نہیں ہو سکتا۔ نبی تو دعوت و تبلیغ ہی کرتے رہے مگر رسولوں کے ذمے دعوت و تبلیغ کے ساتھ ساتھ نظام کو بدلناتھا۔ سورۃ الحدید میںفرمایا:  ’’ہم نے اپنے پیغمبروںکو کھلی نشانی دے کر بھیجا اور ان پر کتابیں نازل کیں اور ترازو (یعنی قواعد عدل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ اور ہم نے لوہا پیدا کیا۔ اس میں (اسلحہ جنگ کے لحاظ سے) خطرہ بھی شدید ہے اور لوگوں کے لیے فائدہ بھی ہیں اور اس لیے کہ جو لوگ بن دیکھے اللہ اور اس کے پیغمبروں کی مدد کرتے ہیں اللہ ان کو معلوم کرے بیشک اللہ قوی (اور)غالب ہے۔‘‘
 اسلام کا نظام عدل رحمت ہے اور اللہ کی رحمت کو نوع انسانی تک پہنچانے کے لیے قتال لازمی ہے۔ جو لوگ بھی یہ کام کریں گے وہی اللہ کے سچے وفادار ہوںگے، اللہ تعالیٰ ایسے ہی لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ قیام عدل اللہ کے وفاداروںکا ٹارگٹ ہے۔ یہی اس سورت کا مرکزی مضمون ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں پورے دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

تازہ ترین خبریں