08:16 am
کچھ دردمندی کی باتیں اہل صحافت سے؟

کچھ دردمندی کی باتیں اہل صحافت سے؟

08:16 am

کہاں ہیں وہ ’’سیانے‘‘ جو کہا کرتے تھے کہ نہ فن کی کوئی سرحد ہوتی ہے اور نہ آرٹ کی؟ کہاں ہیں ڈاکٹر  پرویز ھود اینڈ کمپنی کے وہ شدت پسند کہ جوپاکستانی ایٹم بم کے جنازے اٹھایا کرتے تھے؟ کہاں ہیں سفیما اینڈ کمپنی کے وہ دانشور کہ  جنہیں بھارت میں اچھا ئیوں کے علاوہ کچھ نظر آتا ہی نہیں تھا؟
موم بتی مافیاء کے وہ پردھان کدھر ہیں کہ دہلی‘ ممبئی میں گزرنے والی چند شامیں جنہیں پاکستان میں ہمیشہ بے چین رکھا کرتی تھیں؟ امن کی آشا کا ڈرامہ  رچانے والے کیا اپنی اس غلطی پر قوم سے معافی مانگنے کے لئے تیار ہیں؟1947ء سے لے کر 6مارچ2019ء تک کوئی ایک لمحہ ایسا بتائیں کہ جب بھارت نے پاکستان کو دل سے تسلیم کیا ہو؟
پاکستانی ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر ’’گھر کی صفائی‘‘ کی آڑ میں کشمیریوں پر سنگ باری کرنے والے بھی دراصل بھارت کے ہی سہولت کار ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کو پلیٹ میں رکھ  کر پیش کر دیا جائے...سچ لکھا ہے کسی اللہ والے نے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لئے موت کا ایک وقت مقرر فرما دیا ہے بزدلی کرنے سے زندگی بڑھتی نہیں ہے اور ہمت اور استقامت دکھانے سے زندگی گھٹتی  نہیں ہے۔
ہماری طرف سے اٹھنے والی ’’امن‘‘ کی ہر آواز کو بھارتی بدمعاش بزدلی اور کم ہمتی پہ محمول کر رہے ہیں ‘لیکن اس کے باوجود بھی اگر ہمیں ’’ امن‘‘ ہی کی  صدائیں لگانی ہیں تو کشمیر میں بھارتی درندوں سے برسرپیکار کشمیری مجاہدین پر تو پتھر برسانے سے گریز برتاجائے۔
مبشر زیدی اور حسن نثار جیسے لوگ دانشوری کے نام پر قربانیاں دینے والوں کے خلاف جس طرح کا لب و لہجہ استعمال کر رہے ہیں کیا اس سے بھارت خوش ہو کر پاکستان کو قبول کرلے گا؟پہلے لبرل فاسشٹوں کا جو گروہ پاک فوج کے خلاف بازاری زبان استعمال کیا کرتا تھا‘ اب وہی گروہ امن کو آڑ بنا کر کشمیر کاز کے لئے تن‘ من‘ دھن قربان کرنے والوں کے خلاف مودی لب و لہجہ اختیار کرکے اپنے دل کے پھپھولے پھوڑ رہا ہے۔
کون نہیں جانتا کہ انڈیا میں ذرا ذرا سی بات پر مسلمانوںکو شہیدکیاجارہا ہے‘ بہانے تلاش کرکے مسلمانوں کا قتل عام کرنا انڈیا میں معمول بن چکا... کشمیر کے ہر چوک‘ ہر سڑک اور ہر محلے میں بھارتی فوج نے ظلم کی آگ جلا رکھی ہے‘ اس ظلم و ستم کے جواب میں اگر کوئی انڈین یا کشمیری مسلمان سر پہ کفن باندھ کر بھارتی فوج سے ٹکڑا جاتا ہے  تو بھارت  اس کی شکائتیں پوری دنیا کو لگاتا پھرتا ہے۔
سوال یہ ہے  کہ بانی پاکستان نے کشمیر کو جس پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اس پاکستان کے حکمرانوں‘ میڈیا اور طاقتور حلقوں کو ایسے مواقع پر بھارتی فوج کا ساتھ دینا چاہیے یا پھر مظلوم مسلمانوںکا؟بے شک امن پاکستان اور ہر پاکستانی کی پہلی ترجیح ہے‘ لیکن جن کشمیری نوجوانوں کو روز پاکستانی پرچموں میں لپیٹ کر لحد میں اتارا جاتا ہے پھر ان کا کیا قصور ہے؟ جن کشمیری جوانوں کی مائیں‘ بہنیں‘ بیٹیاں اپنے پیاروں کی لاشوں پہ کھڑے ہو کر ’’آزادی‘‘ اور پاکستان سے رشتہ کیا؟ لاالہ الااللہ کے نعرے بلند کرتی ہیں؟آخر انہیں کس بات کی سزا دی جاتی ہے؟  آج لبرل فاشسٹ  دانش فروشوں کا جو گروہ گھر کی صفائی کے نام پر بھارت کو راضی کرنے کے لئے اپنے تجزیوں اور تبصروں میں بڑھ چڑھ کر کشمیری مجاہدین کے خلاف تبراء کر رہا ہے ان کی اپنی اوقات تو بس اتنی ہے کہ   یہ تو نظریہ پاکستان دفن کرکے شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کی غیرت و حمیت میں گندھی ہوئی شاعری  کو بھی تسلیم کرنے سے انکار ی ہیں... یہ تو وہی ہیں جو سالہا سال تک اپنے کالموں اور ٹی وی پروگراموں میں عمران خان اور تحریک انصاف کی قصیدہ گوئی اور کاسہ لیسی کرتے رہے... لیکن حکومت میں آنے کے بعد جب عمران خان نے انہیں گھاس نہ ڈالی تو انہوں نے ٹی وی پروگراموں میں خود پر ہی لعنت بھیجنا شروع کر دی۔
یاد رہے کہ جس نے اپنے آپ پر لعنت بھیجی اس کے وڈیو کلپ ثبوت کے طور پر موجود ہیں‘ جب ایسے لعنتی لوگ کہ جن کا نہ کوئی نظریہ ہے‘ نہ ایمان اور غیرت‘ ٹی وی پروگراموں میں کشمیری مجاہدین پہ سنگ باری کریں گے تو اس سے  ملکی وقار مجروح ہوگا‘ پاکستان میں موجود کشمیر کاز سے محبت رکھنے والوں کو پاک انڈیا تعلقات میں رکاوٹ قرار دینے والے بھارتی پٹاری کے ان دانش فروشوں سے کوئی پوچھے کہ کشمیر پر انڈیا کا بھی دعویٰ ہے اور پاکستان بھی کشمیریوں کے حق خودارادیت کا حامی ہے...انڈیا نے وہاں 8لاکھ کے لگ بھگ فوج اور مسلح دستے بھیج رکھے ہیں‘ پاکستان نے وہاں کیا بھیجا ہے؟ انڈیا کشمیر پر قبضے کے لئے ماہانہ اربوں روپے خرچ کر رہا ہے‘ پاکستان کتنا خرچ کر رہا ہے؟
انڈیا کشمیر کو اپنے قبضے میں رکھنے کے لئے ظلم کی تمام حدیں عبورکر چکا ہے‘ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے اندر داخل ہو کر کب انڈیا کو ظلم سے باز رکھنے کی کوئی کوشش کی؟ مگر اس کے باوجود کشمیری مسلمان پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں‘ ان کی میتیں پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کی جاتی ہیں‘ وہ چلتی گولیوں میں پاکستانی پرچم کو لہراتے ہیں‘ لیکن ادھر تمہاری سگندلی کا یہ عالم ہے کہ تم کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی مذمت تو نہیں کرتے‘ لیکن اگربرہان وانی یا عادل ڈار جیسا کوئی فدائی بھارتی فوج پر جوابی حملہ کر دے تو تمہیں کرکٹ میچوں کی فکر لاحق ہو جاتی ہے‘ بھارتی ٹماٹروں اور آلوئوں کی فکر میں تم  گھل گھل کر ہاتھی بننا شروع ہو جاتے ہو۔بھارتی فوج کے بے گناہوں پر مظالم کی مذمت کرنے کی بجائے تم کشمیری مجاہدین کی بھارتی فوج پر حملوں کی مذمت شروع کر دیتے ہو‘ کیا کشمیری مسلمانوں کی حمایت کا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف مرتے رہیں اور یہاں اہل صحافت ان کے مرنے کی خبریں نشر کرتے رہیں؟کیا کشمیری مسلمانوں کی حمایت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بچے ذبح ہوتے رہیں اور ہمارے حکمران ان کی حمایت میں ایوانوں کے اندر قراردادیں منظور کرتے رہیں؟کیا شہ رگ پاکستان کشمیر کی حمایت کا مطلب یہ ہے کہ بھارتی فوج وہاں مسلمان خواتین کو بے آبرو کرتی رہے اور یہاں کبھی کبھار ان کی حمایت میں آواز بلند کرکے اپنے اللوں تللوں میں گم ہو جائیں؟
آپ ٹی وی سٹوڈیوز میں بیٹھ کر جس جنگ سے چوہوں کی طرح لرزہ براندام ہیں کشمیری مسلمان گزشتہ ستر سالوں سے اسی حالت جنگ میں ہیں‘ ان کے بچے روز مر رہے ہیں‘ ان کے گھروں کو نذر آتش کیا جارہا ہے‘ ان عورتوں کی آبروریزی ہو رہی ہے‘ اگر پاکستان میں کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ کمٹیڈ لوگ رہتے ہیں تو تم اپنی چند روزہ زندگی کی عیاشیوں کے لئے انہیں پاکستان پر بوجھ قرار دیتے ہوئے نہ شرم محسوس کرتے ہو اور نہ حیاء تو کیوں ؟

تازہ ترین خبریں