08:02 am
ٓٓٓٓامریکی انخلاء ۔۔۔۔پاک افغان اسٹرٹیجی

ٓٓٓٓامریکی انخلاء ۔۔۔۔پاک افغان اسٹرٹیجی

08:02 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
افغانستان میں امریکااوراس کی مفرور قیادت نے یہ شرمناک رسوائی وپسپائی امریکی سرکاری اعدادوشمارکے مطابق2001ء سے لیکر 8نومبر 2018ء تک چھ ٹریلین ڈالرسے زائد اور27جولائی 2018ء تک 2372امریکی فوجی ہلاک،20320امریکی شدیدزخمی جن میں نصف سے زائدعمربھرکیلئے معذوراور1720سویلین کنٹریکٹراس جنگ کارزق بن گئے۔ایک اورامریکی سروے کے مطابق مرنے والے اورزخمی امریکی فوجیوں کی پنشن اورمعذورفوجیوں کے علاج معالجے کیلئے سالانہ 562ملین امریکی ڈالرزامریکی خزانے پر مستقل بوجھ امریکی معیشت کوگھن کی طرح چاٹتارہے گااوراس پرمستزادیہ کہ طالبان اورافغان عوام کوشکست دینے کی آرزومیں امریکی سیاست زوال کے اس نہج پرپہنچ گئی جہاں ٹرمپ جیسالاابالی اوراخلاق باختہ فردامریکی صدارت پرفائزہونے میں کامیاب ہوگیاجبکہ معاشی اورمالی اعتبارسے یہ عالم ہوگیاہے کہ سابق صدراوباماکوملکی معیشت کوبیل آؤٹ کرانے کیلئے غیرمعمولی جتن کرنے پڑے تھے لیکن باوجودیہ کہ اب امریکی صدرٹرمپ کے دورمیں امریکی معیشت کی کشتی پہلے سے زیادہ ڈانواڈول ہے اوربعض امریکی ریاستوں کی طرف سے فیڈریشن سے الگ ہونے کی باتیں بھی شروع ہوگئی ہیںجس کی طرف آج سے چھ سال پہلے میں نے اپنے ایک تفصیلی آرٹیکل میں کچھ عالمی معاشی ماہرین
کی آراء کی روشنی میں 2025ء تک امریکہ کے ٹوٹنے کی پیش گوئی کی تھی جواب ان حالات میں مزیدواضح اوردرست نظرآناشروع ہوگئی ہے۔ 
معاشی اعتبارسے بدحال امریکہ کا صدر بننے کے بعدٹرمپ کی بوکھلاہٹ میں مزیداضافہ ہوچکاہے۔امریکی صدرکے آئے روزسامنے آنے والے بیانات،ٹویٹس اورپالیسیاں اسی بوکھلاہٹ کی آئینہ دارہیں۔یوں ایک جانب افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں امریکی ہزیمت،پسپائی اوررسوائی نوشتۂ دیوارہے تودوسری جانب افغانستان کے پہاڑصفت طالبان سے ٹکرانے کی وجہ سے امریکی معیشت بھی پاش پاش ہورہی ہے۔عالمی سطح پرامریکہ کوچین کے اب معاشی جن کاہی سامنانہیں ،چین کے حوالے سے عالمی سطح پرسیاسی چیلنجزکابھی سامناہے کیونکہ جس تیزی سے چین سی پیک اورون روڈ،ون بیلٹ کے منصوبوں کے ذریعے عالمی معاشی منڈیوں میں واضح برتری حاصل کرنے جارہاہے وہاں چین اپنے دفاعی نظام کوجدیدخطوط پراستوار کرنے کی پالیسیوں پرتیزی سے عملدرآمدکررہاہے کیونکہ اسے علم ہے کہ امریکہ چین کے اس معاشی طوفان کے خلاف عسکری سازشوں میں بھی مصروف ہے اورمغرب کے بعض ممالک کواپناہمنوابنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
قطرمیں چھ دن تک جاری رہنے والے امریکہ طالبان مذاکرات میں طالبان کی فراست، جرأت واستدلال نے غیرمعمولی طورپرامریکی وفدکے ارکان کوجہاںورطۂ حیرت میں  ڈال دیاوہاں انتہائی متاثربھی کیا۔امریکہ کی طرف سے بگرام ائیربیس کواپنے پاس فوجی انخلاء کے بعدبھی ایک اڈے کے طورپربرقراررکھنے کے امریکی آرزؤں کوایسے آڑے ہاتھوں لیاکہ امریکی مذاکراتی وفدششدررہ گیاکہ طالبان کے یہ سیدھے سادھے نمائندے امریکی سفارتکاروں اورماہرمذاکرات کاروں کویوں چپ کراسکتے ہیں کہ جتنے اورجن شرائط پرامریکہ افغانستان میں اڈے چاہتاہے،انہی شرائط پرامریکااپنے اندرافغانوں کواڈے مہیاکردے! ’’گویاہم آدمی ہیں تمہارے جیسے،جوتم کروگے وہ ہم کریں گے‘‘۔ چھ روزتک طالبان کے آہنی عزائم اوراستدلال سے ٹکریں مارنے والے امریکی وفدکوابھی تک طالبان سے کچھ حاصل نہیں ہوسکاالبتہ امریکی وفدکی قیادت کرنے والے زلمے خلیل زادنے امریکی عوام اورعالمی برادری سے امریکی دل شکستگی چھپائے رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیاہے کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے جبکہ طالبان امریکی فوج کے انخلاء سے قبل کسی پیش رفت کوتسلیم کرنے کیلئے تیارہی نہیں۔طالبان رہنماء جنگی میدان کی طرح سفارتی اورمذاکراتی محاذپربھی پوری مضبوطی کے ساتھ اپنے مؤقف پرقائم ہیں  کہ امریکی فوج کوپہلے افغانستان سے مکمل انخلاء کرناہوگا،تمام امریکی فوجی اڈے خالی اورختم ہوں گے،امریکی اسلحے کامکمل خاتمہ ہوگا،اس اسلحے کوقطعی طورپراشرف غنی یاکسی اورملیشیا کے حوالے نہیں کیاجائے گااورطالبان امریکی کٹھ پتلی حکومت سے کبھی بھی مذاکرات نہیں کریں گے۔
طالبان کے وفدنے تویہاں تک امریکی وفدکوبھی اس بے اختیاری اوربارباراپنے دارلحکومت سے رابطہ کرنے پرباورکرایاہے کہ امریکی وفدکوفیصلے کااختیارنہیں ہے اس کے مقابلے میں طالبان کی مذاکراتی ٹیم فیصلہ کن اختیارات کی حامل ہے۔طالبان نے اس مضبوط اورتوقف کے بعدافغانستان میں امریکی آشیربادسے قائم اشرف غنی حکومت کواپنامستقبل اب مزیدمخدوش نظرآنے لگاہے کہ انہی مذاکرات میں اشرف غنی حکومت کے بارے میں اصولی مؤقف پرپوری طرح قائم رہتے ہوئے امریکی مذاکراتی ٹیم کواشرف غنی کی حکومت کی جان کیری اندازمیں تشکیل کابھی احوال بیان کرکے اس حکومت کاکچاچٹھاکھول کررکھ دیا۔ 
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں