08:03 am
اسرائیل بھارت کو پاکستان پر حملے کی ترغیب دے رہاہے

اسرائیل بھارت کو پاکستان پر حملے کی ترغیب دے رہاہے

08:03 am

مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر اور مشہور صحافی رابرٹ فسک نے روزنامہ Indepentent میں ایک جذباتی مضمون میں لکھا ہے کہ اسرائیل بھارت کو پاکستان پر حملہ کرنے کی ترغیب دے رہاہے نیز اسرائیل نے حال ہی میں کئی اربوں ڈالر کی مالیت کے جدید جنگی سازو سامان بھارت کو فروخت کئے ہیں۔ اسرائیل کی پاکستان کے خلاف دشمنی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اسرائیل کے بیشتر رہنمائوں نے پاکستان کے خلاف جارحانہ بیانات دیئے ہیں اور بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ موقع ملنے پر پاکستان پر حملہ کرنے سے کسی قسم کی پس وپیش نہ کرے۔ حال ہی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں جو افسوسناک واقعہ ہوا ہے اسکے پس منظر میں اسرائیل مسلسل بھارت کے ساتھ رابطہ کرتے ہوئے اسکو پاکستان پر حملہ کرنے کے لئے اکسا رہاہے۔ 
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے 1998میں پاکستان کی جانب سے چاغی میں ایٹمی دھماکہ کرنے کے موقع پر بھارت کی سرزمین سے حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن بعض ممالک نے بھارت کو متنبہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملہ کرنے کی قطعاً اجازت نہ دے چنانچہ اسرائیل نے ایسا نہیں کیا لیکن کئی بار اخبارات کے ذریعہ یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ انتہا پسند جنونی ریاست کہوٹہ پر عراق کی مانند حملہ کرنا چاہتی تھی لیکن پاکستان کی جانب سے اسرائیلی متوقع حملے کے خلاف غیر معمولی تیاری سے وہ ایسا کرنے سے باز رہاہے۔
 یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ناقابل تردید ہے کہ بھارت اپنی فوج کے لئے80فیصد جدید جنگی ہتھیار اسرائیل سے خریدتاہے نیز اسرائیل کے فوجی بھارت کے فوجیوں کو ان ہتھیاروں کو چلانے کی تربیت بھی دیتے ہیں۔ اس طرح بھارت اور اسرائیل کا پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہورہاہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کو مزید ہوا دینے میں اسرائیلی میڈیا کا کردار واضح نظر آرہا ہے۔ بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف جو غلیظ زبان استعمال کرتاہے۔ اسکا لب ولہجہ بھی وہی ہے جو اسرائیلی میڈیا نےپاکستان کے خلاف استعمال کیا ہے۔ اس ضمن میں بعض امریکی صحافیوں کا خیال ہے کہ اسرائیل کی پاکستان کے خلاف حکمت عملی میں امریکہ کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتاہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے مابین جس قسم کا رشتہ موجود ہے اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف تسلسل کے ساتھ جارحانہ پالیسیوں میں امریکہ کے واضح اشارے ملتے ہیں۔ دراصل بھارت ہو یا پھر اسرائیل یا امریکہ ان سب کو پاکستان کے جوہری ہتھیار کھٹک رہے ہیں نیز اسلامی ممالک میں پاکستان وہ واحد ملک ہے سکے پاس یہ ٹیکنالوجی موجود ہے۔  اس کا سہرا ڈاکٹر قدیر خان کے سر جاتاہے جنہوںنے شب وروز محنت کرکے پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بنادیا ہے۔اگر پاکستان کے پاس یہ ہتھیارنہ ہوتے تو بھارت کبھی کا پاکستان پر حملہ کرکے اس کو تباہ وبرباد کرسکتا تھا۔بھارت کی موجودہ قیادت جس کا سربراہ نریندرمودی ہے وہ ایک انتہا پسند شخص ہے جس کے ہاتھ گجرات کے مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ یہ شخص بابری مسجد کو انہدام کرنے میں بی جے پی کے ایک رہنما ایڈوانی کے ساتھ پیش پیش تھا۔ بھارت کی وزیرخارجہ سشما سوراج بھی بابری مسجد کو شہید کرنے کے لئے انتہا پسند ہندئوں کو اکسا رہی تھی۔ یہ ناقابل تردید حقائق اس بات کی غمازی کررہے ہیں کہ بھارت اسرائیل کے ساتھ ملکر پاکستان کو نقصان پہنچا سکتاہے۔  اس پس منظر میں پاکستان کے سابق صدر مشرف پاکستان کو ’’مشورہ‘‘ دے رہے ہیں کہ پاکستان کو چاہئے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرلے وہ ماضی میں ایسا کرنے کی کوشش بھی کرچکے ہیںلیکن پاکستان کے عوام کے دبائو کی وجہ سے وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اسرائیل ایک ناجائز غیر قانونی ریاست ہے جس کو سامراج نے عربوں کے دبانے اور ان کے وسائل پر ناجائز قبضہ کرنے کے لئے قائم کیا ہے اس کی مسلسل جارحانہ کارروائیوں سے جہاں فلسطین کے عوام متاثر ہوئے ہیں وہیں دیگر مسلح ریاستیں بھی اسکی جارحیت کا شکار ہوئی ہیں لیکن کیونکہ مسلمانوں کے مابین خصوصیت کے ساتھ عربوں میں اتحاد کا فقدان ہے۔ اس لئے اسرائیل عربوں کے مابین نفاق اورعداوت سے پورا پورا فائدہ اٹھارہاہے یہی طریقہ کار بھارت اختیار کررہاہے۔
 بھارت کی فوج اسرائیل سے بہت زیادہ متاثر ہے، یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف ٹی وی پر بات چیت کے دوران اسرائیل کا ذکر کرتے ہوئے بھارت کی فوج کو پاکستان کے خلاف تسلسل کے ساتھ سرجیکل اسٹرائک کا مشورہ دیتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ اسرائیل حماس اور فلسطینی آبادی کے خلاف کرتا رہتاہے۔ یہی انتہا پسندی ، انسان دشمنی اور مسلمان دشمنی پر مبنی سوچ ہے۔ جس کو نریندرمودی اپنا کر جنوبی ایشیا مین امن کے امکانات کو ختم کرنے پر تلا ہواہے۔ وہ بھارت میں آئندہ مئی میں ہونے والے انتخابات جیتنے کے لئے پاکستان کے خلاف جنگ کرنے پر تلا ہواہے۔ خود بھارت کی اکیس سے زائد سیاسی پارٹیوں نے یک زبان ہوکر مودی کو پاکستان کے خلاف جنگ کرنے کی پالیسوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے اقتدار کے لئے بھارت کے کروڑوں عوام کو قربانی کا بکرا بنا رہاہے۔ عالمی میڈیا کے علاوہ چین ، امریکہ برطانیہ اور روس نے بھی بھارت کو پیغام دیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرنے سے باز رہے   ورنہ نیوکلیئر جنگ کی صورت  میں دونوں ملک تباہ برباد ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کی حکومت نے بھارت کے پائلٹ کو رہا کرکے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے سلسلے میں ایک اچھا مثبت پیغام دیاہے نیز عمران خان نے بھارتی وزیراعظم کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کرنے کی بھی کوشش کی ہے، لیکن انتہا پسند جنونی وزیراعظم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات ہنوز نارمل نہیں ہیں۔ بھارت آئندہ کسی بھی وقت کچھ کرسکتاہے، اس وقت پاکستان کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ ذراسوچئے۔ 

تازہ ترین خبریں