08:07 am
افواج کی قابل فخر بہادری اور فیصل واوڈا کی زبان

افواج کی قابل فخر بہادری اور فیصل واوڈا کی زبان

08:07 am

پاک فضائیہ کے بعد آئی ایس آئی اور ملکی سلامتی کی ضامن دیگر ایجنسیز نے بھی بھارت پر اپنی برتری ثابت کر دی‘ انڈیا اسرائیل کے ساتھ مل کر بہاولپور اور کراچی سمیت دیگر پاکستانی شہروں پر27 فروری کی رات جو میزائل حملے کرنا چاہتا تھا اس کی قبل ازوقت اطلاع پاکستان کو مل جانا اللہ پاک کا خصوصی فضل تو تھا  ہی مگر اس میں ملکی سلامتی کے ضامن انٹیلی جنس اداروں نے بھی ثابت کر دیا کہ وہ بھارت اور اسرائیل سمیت ہر دہشت گرد ملک کی پاکستان کے خلاف خباثتوں سے غافل نہیں ہیں۔
 
وزیراعظم عمران خان ذرا اس بات پر غور کریں کہ پاکستانی پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کی ایک خاتون رکن اسمبلی اسرائیل کے حق میں تقریر کرتی ہیں‘ جس میں حکومت پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرلے … اور اسرائیل‘ انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان کے شہروں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنانا چاہتا ہے ‘ کچھ عرصہ قبل پاکستان میں کسی اسرائیلی طیارے کی آمد کی بازگشت بھی سنی گئی‘ حقیقت حال تو اللہ کو معلوم ہے ‘لیکن حکومت اسرائیلی طیارے کی آمد سے انکار کرنے کے باوجود عوام میں طیارے کی آمد کے حوالے سے پائے جانے والے تاثر کو زائل کرنے میں ناکام رہی۔
حکومت کا اسرائیل کے حوالے سے انتہائی نرم رویہ رکھنے کے باوجود اگر اسرائیل بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے شہروں کراچی اور بہاولپور سمیت7 مقامات پر میزائل حملوں کے ذریعے تباہی پھیلانا چاہتا تھا تو پھر وزیراعظم عمران خان بہاولپور میں بے گناہوں کو گرفتار کروانے کی بجائے پی ٹی آئی کی صفوں میں گھسے ہوئے اس اسرائیلی مائنڈ سیٹ کو آہنی زنجیروں میں جکڑنا چاہیے کہ جو مائنڈ سیٹ قومی اسمبلی کے فلور پر بھی اسرائیل نواز تقریریں کرنے سے باز نہیں آتا۔
قرآن مقدس میں تو واضح طور پر اللہ پاک  نے ایمان والوں کو یہود و نصاریٰ سے دوستی لگانے سے منع فرمایا ہے‘ پاکستان نے آج تک نہ اسرائیل پر کبھی حملہ کیا نہ حملہ کرنے کا پروگرام بنایا لیکن اس کے باوجود اگر اسرائیل بھارت کے ہندوئوں کے ساتھ پاکستان پر حملہ آورہونا چاہتا تھا تو پھر وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو بھی یہ بات اپنے پلے سے باندھ لینی چاہیے کہ پاکستان کی سالمیت اور سلامتی مذہب اسلام سے مضبوط وابستگی اور قوم کے اتحاد کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
ایک طرف ہندوئوں کے خلاف بیان پر آپ پنجاب کے وزیر اطلاعات سے سزا کے طور  پر وزارت چھین لیتے ہیں اور دوسری طرف وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کے مسلمانوں کی دل آزاری کرنے والے انتہائی متنازعہ بیان کہ جس کے خلاف قومی اسمبلی میں بھی شدید احتجاج ہوتا ہے نوٹس تک لینے کے لئے تیار نہیں ہوتے‘ حکومت کی یہ دوغلی پالیسی پاکستانی قوم کے اتحاد کو پارہ پارہ کرکے رکھ دے گی۔
اگر فیاض الحسن چوہان غیر ضروری ہے تو پھر فیصل واوڈا اتنا ضروری کیوں ہے کہ جس کے خوفناک بیان نے پاکستان کے 21 کروڑ عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے‘ ایک طرف انڈیا اور اسرائیل پاکستان کی سالمیت کے درپہ ہیں … جنرل قمر جاوید باجوہ کو سلام کہ جن کی زیرقیادت پاک فوج ملکی سرحدات کے دفاع کے لئے اپنی جانیں قربان کررہی ہے‘ پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان کہتے ہیں کہ مشکل وقت ختم نہیں ہوا‘ دشمن جارحیت کرسکتا ہے‘ پاک فضائیہ  نے مادر وطن کی حفاظت کے لئے جو کردار ادا کیا وہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
بھارتی آبدوز نے جب سمندری حدود سے پاکستان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی تو پاک بحریہ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بھارتی آبدوز کو بھی مار بھگایا‘ سچی بات ہے کہ پاک فضائیہ ہو‘ پاک بحریہ ہو‘ پاک آرمی ہو یا آئی ایس آئی پوری قوم کو اپنی فورسز کے بہادرانہ کارناموں پر ناز رہے گا ‘لیکن وزیراعظم عمران خان ذرا پی ٹی آئی کی حکومتی چارپائی کے نیچے بھی ڈانگ پھیر کر دیکھ لیں۔
فیصل واوڈا جیسے وزیر گستاخانہ بیانات کے ذریعے قوم میں نفرت کو پروان چڑھانے کا جو فریضہ سرانجام دے رہے ہیں آخر اس کے پیچھے کون ہے؟ اپوزیشن کے بعض قائدین کے مطابق اس سب کے پیچھے عمران خان خود ہیں… خدا نہ کرے کہ ایسا ہو؟لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو پھر جس زبان سے فیاض الحسن چوہان سے ہندوئوں کے معاملے پر استعفیٰ طلب کیا گیا‘ اسی زبان سے امت مسلمہ کے دلوں کو زخمی کرنے والے گستاخانہ بیان پر فیصل واوڈا سے استعفیٰ طلب کیوں نہیں کیا گیا؟یاد رکھیں کہ یہ ایسا نازک وقت ہے کہ جب قوم میں مزید ہم آہنگی اور اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے‘ اگر عمران خان کو سوشل میڈیا  یا اپوزیشن پارٹیوں کے فیصل واوڈا کے خلاف کیے جانے والے  احتجاج میں کسی سیاست کی بو آرہی ہے تو انہیں چاہیے کہ رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن اور (ر) جسٹس مفتی تقی عثمانی کی زیرقیادت جید علماء کا ایک بورڈ بناکر فیصل واوڈا کے گستاخانہ بیان پر فتویٰ طلب کرلیں اور پھر اس فتوے کی روشنی میں فیصل واوڈا کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں۔
اسرائیل نے انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملوں کا منصوبہ بناکر یہ بات ثابت کر دی کہ پاکستانیوں کی جو اکثریتی آبادی  اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی حامی نہیں تھی ان کا موقف درست تھا اور غیر ملکی طاقتوں کا  ایجنٹ جو محدود گروہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوششیں کررہا تھا وہ جھوٹا اور دروغ گو تھا۔
پاکستان نے پیغام بھیجا کہ ’’ہمیں آپ کے منصوبے کا پتا چل گیا ہے اس لئے اگر آپ حملہ کریں گے تو ہم بھی تیار بیٹھے ہیں ‘ آپ کے حملے کی جو شدت ہوگی  اس سے ہمارا حملہ تین گنا زیادہ ہوگا‘‘ پاکستان کے اس پیغام پر بھارت اور اسرائیل اپنے منصوبے میں ناکام اور ذلیل رسوا ہوئے۔
یہ ساری صورتحال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ہماری افواج کی صلاحیتوں اور بہادری کو دنیا تسلیم کرتی ہے کاش کہ عمران خان فیصل واوڈا جیسے زبان دراز وزیروں کے حوالے سے بھی قانون اور میرٹ کا دامن نہ چھوڑیں‘ اگر انہوں نے قانون کا دامن چھوڑ دیا تو یہ اس قوم کی بدقسمتی ہوگی۔

تازہ ترین خبریں