08:09 am
جنگ ختم،تجارت بحال، وفود کی آمد ورفت شروع

جنگ ختم،تجارت بحال، وفود کی آمد ورفت شروع

08:09 am

٭جنگ کے بادل چھَٹ گئے، زمینی راستے تجارت کھل گئے !O..پاک بحریہ نے بھارتی آبدوز کو بھگا دیا !O.. مودی کا پھر پاکستان میں گھسنے کااعلان !O..پنجاب کے ہر وقت بولتے رہنے والا وزیراطلاعات فارغ !O..ہم نے جنگ روکنے میں اہم کرداراداکیا : امریکہ !O..سپیکر سندھ اسمبلی کے بنک لاکروں میں سے 55 لاکھ روپے کی غیر ملکی کرنسی، کروڑوں  کا سونا برآمد !O..پنجاب پولیس کی نئی وردی، 80کروڑ کی موجودہ وردیاں ضائع، ایک ارب کی نئی وردیاں !O..
 
٭جنگ کا تاثر ختم ہوگیا، سمجھوتہ ٹرین، دوستی بس، آزاد کشمیر میں تجارت کھل گئی،14مارچ کو پاکستان کاوفد کرتارپور راہداری پر بات چیت کے لیے دہلی جائے گا پھر 28 مارچ کو بھارت کاوفد اسلام آباد آئے گا۔اس کالم میں پہلے دن ہی کہہ دیا گیا تھاکہ پاکستان اور انڈیا میں کھلی جنگ ممکن نہیں۔ عرب ممالک کا کھربوں کا سرمایہ بھارت میں گردش کررہاہے۔ چین کی کھربوں کی سستی مصنوعات سے بھارت کی مارکیٹیں بھری ہوئی ہیں بلکہ یہ کہ بھارت دنیا بھرمیں چین کی سب سے بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔ جنگ کی صورت میں یہ سارے کاروبار طویل عرصہ کے لیے رک سکتے ہیں، اس لیے یہ ممالک جنگ نہیں ہونے دیں گے۔ ادھر امریکہ دعویٰ کررہاہے کہ اس کے وزیر خارجہ نے دونوں ملکوں سے مسلسل رابطہ کرکے جنگ رکوائی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ بھارت جنگ کرنے کے قابل ہی نہیں رہا۔ پاکستان کو ہراساں کرنے کے لیے کبھی طیارے کبھی آبدوز بھیج دی مگر جوتے کے ساتھ پیاز بھی کھانے کے بعد اس کے فوجی کمانڈروں نے مودی پر حقیقت کھول دی کہ بھارتی فوج کا 68  فیصد اسلحہ ناکارہ ہوچکا ہے،وہ بھی صرف10 دن کا  باقی ہے ۔1960 میں خرید گئے59 سالہ بوڑھے سنگل انجن والے مگ طیارے پاکستان کے تھنڈر طیاروں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ مقبوضہ کشمیر میں موجود آٹھ لاکھ بھارتی فوج خود انتہائی غیر محفوظ ہے۔ بے شمار بھارتی فوجی مارے جاچکے ہیں۔ ایسے میں جنگ سے جان بچائی جائے۔ نریندر مودی کے اعصاب پر 30 روز بعد ہونے والے عام انتخابات کی ناکامی کا خوف سوار ہے اس نے انتہا پسند ہندوؤں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے خلاف جارحیت شروع کی جو اس کے گلے پڑ گئی ہے۔ بھارت کی اپوزیشن پارٹیاں اس کی کھلی سیاسی چھترول کررہی ہیں ۔ آہستہ آہستہ تجارت کے ساتھ دوسری سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔ جلد ہی ٹماٹر بھی آنے لگیں گے۔
٭کل تک کے پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیاگیاا ور صمصام بخاری کو نیاوزیر اطلاعات بنادیاگیا۔ عمران خان نے بھارت کے ساتھ حالیہ کش مکش کے دوران بڑے تحمل، بردباری اور ٹھنڈے دماغ سے کام لیا مگر ان کے اردگرد جمع ہونے والے مچھندروں نے بے ہودہ گوئی کی انتہا کردی۔ کوئی کشمیریوں کے خلاف کوئی ہندوؤں کے خلاف، کوئی اپوزیشن پارٹیوں کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ کیا کیا نام ہیں، ایک سے ایک بڑھ کر ہرزہ سرائی! چاپلوسی کی انتہا! نعوذ باللہ،عمران کواللہ تعالیٰ کے بعد بڑا شخص قرار دے دیا! تمام انبیا ، اولیا کی کھلی توہین! ہندو ہمارے ملک میں اہم قومی کردارادا کررہے ہیں۔حال ہی میں بھارت کی جنگی حرکتوں کے خلاف جلوس نکالے ہیں۔ پاکستان کی سپریم کورٹ میں پہلی بار ایک ہندو جج جسٹس رانا بھگوان داس قائم مقام چیف جسٹس رہے۔ دیکھئے، نبی ؐ رحمت آنحضور و سرور کائنات کی شان میں کیسی نعت کہہ دی کہ ’’نبی مکرمؐ، شہنشاہ ؐعالی...یہ اوصاف ذاتی شان کمالی!...جمالؐ دو عالم، تیری ذات عالی .... دو عالم کی رونق تیری خوش جمالی!....تُو فیاضؐ عالم، داتائے ؐ اعظم.... مبارک تیرے درکا ہراک سوالی!...‘‘ رانا بھگوان داس کا 23 فروری2015 کو انتقال ہوگیا۔ بہت سے دوسرے ہندوشاعروں نے بھی نبی مکرمؐ حضور کی شان میں عمدہ نعتیں کہی ہیں۔ کچھ ناپسندیدہ انتہا پسند افراد ہر مذہب میں ہوتےہیں۔ ان کی بنا پر غیر ذمہ دارانہ ریمارکس اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ہمیں ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان میں آباد تمام اقلیتوں کا تعاون درکار ہے ،ایک وزیر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ تحریک انصاف تو کچھ نہیں تھی، دوسری پارٹیوں سے آنے والے ہم نئے لوگوں نے اس پارٹی کو اقتدار تک پہنچایا ہے۔( بات واقعی درست ہے) یہ جملہ موجودہ حکومت کی کیا حقیقت بیان کررہا ہے؟اور پھر لگاتار فضول گوئی کے بعد لگاتار معافیاں! فیاض الحسن نے تو انتہا کردی، کبھی کشمیریوں کے بارے میں توہین آمیز باتیں پھر معافی، ٹیلی ویژنوں پر صحافیوں کے خلاف زہریلے بیانات پر معافی، فلمی اداکاراؤں کے خلاف غلط ریمارکس اور معافی اور اب ہندوؤں کے خلاف ناشائستہ باتیں اور معافی! عمران خان نے بھان متی کے کنبے میں کیسے کیسے نادر نمونے جمع کرلیے ہیں جوکسی تعلیم، تجربہ، اخلاقی وسیاسی تربیت کے بغیر وزارتوں تک پہنچ گئے ، انہیں اچانک چاندی کے کٹورے ہاتھ آگئے ان سے پانی پی پی کر پیٹ پھول رہے ہیں۔
٭اور تو اور چھاج تو بولے، چھلنی کیا بولے جس میں 900 چھید!، ن لیگ کے ایک سابق وزیر مشاہد اللہ خان کیا فرمارہے ہیں کہ تحریک انصاف کے وزیر جعلی شہرت کے لیے ایسے بیانات دے رہے ہیں۔ ٹھیک کہا جناب نے ،مگر خاں صاحب! آپ کو کس اصلی شہرت والے بیانات پر وزارت سے نکالا گیا تھا؟
٭پنجاب پولیس کے اعلیٰ حاکموں نے تماشا لگا رکھا ہے۔ انگریز دور سے پولیس کی ایک خاص وردی مستقل پہچان بن چکی تھی۔ چند سال قبل پولیس کے شاہی مزاج والے ایک آئی جی پولیس نے اچانک اس وردی کو منسوخ کرکے سڑکوں پر کام کرنے والے خاکروبوں سے بھی کم تر بدنما وردی نافذ کردی، اسے پہن کر پولیس والے کسی رعب داب کی بجائے منڈیوں میں سامان اُتارنے چڑھانے والے مزدور لگنے لگے ۔ایک لاکھ سے زیادہ وردیوں پر 80 کروڑ خرچ ہوئے، بہت سی ٹیکسٹائل ملوں، سرکاری درباری درزیوں اور کمیشن کھانے والوں کی موج لگ گئی، تجوریاں بھرگئیں۔ اب یہ وردی بھی مسترد ہوگئی اور ایک ارب روپے سےزیادہ اخراجات والی گہری نیلی پتلون اور ہلکی نیلی قمیص والی وردیوں کی منظوری دے دی گئی ہے۔ پہلے دور کی پرانی لاکھوں وردیوں کی اچھی حالت موجود تھیں انہیں پھرسے استعمال کیا جاسکتا تھا۔ مگر پھرنئے سرے سے تجوریاں کیسے بھرتیں؟ ضائع ہونے والی موجود ان تقریباً دو لاکھ سے زیادہ وردیوں کا کیا بنے گا؟ قومی خزانہ باپ کا مال! آنے والا ہر آئی جی نئی وردیاں لاتا رہے گا، کوئی پوچھنے والانہیں!
٭سندھ اسمبلی کے سابق سپیکر آغا سراج درانی کے ایک بنک کے لاکر سے55 لاکھ روپے کی غر ملکی کرنسی، چار کروڑ روپے کا سونا برآمد ہوا۔ ان کی اہلیہ کے لاکر سے ایک کلو 90 گرام کے زیورات نکلے۔ ابھی مزید تفتیش جاری ہے۔ ملک بھر میں کیسے کیسے انکشافات سامنے آرہے ہیں! بلوچستان کے ایک سیکرٹری خزانہ کے گھر سے 65 کروڑ روپے کی کرنسی کے علاوہ بلوچستان اور کراچی میں متعدد بنگلے اور پلاٹ نکل آئے۔ سندھ والے کیوں پیچھے رہتے؟ بندرگاہوں کا ایم کیو ایم کا ایک وزیر بابر غوری افغانستان کو جانے والے مال سے بھرے200 کنٹینرغائب کرکے لندن بھاگ گیا۔ایک صوبائی وزیر کے گھر سے دوارب روپے کی کرنسی نکلی۔ اسے گرفتار کرناپڑا تو ایک ہسپتال کے اعلیٰ درجے کے ایک شاہانہ کمرے میں منتقل کردیا گیا...اس صوبہ سے اربوںکی منی لانڈرنگ کی داستانیں عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔ اب اسمبلی کےسپیکر کی باتیں! الامان!
٭گزشتہ راوی نامہ میں ایک غریب لڑکی کی رخصتی کی اپیل میں میرے فون نمبر میں کچھ غلطی ہوگئی۔صحیح نمبر یہ ہے (0333-4148962) ٭راولپنڈی سے محترم فاروق ندیم نے ایک تصویر بھیجی ہے۔جاتی عمرا رائے ونڈ میں میاں نوازشریف اور شہباز شریف بھارت کے وزیراعظم نریندرکمار مودی اور اس کے پاکستان کے خلاف پالیسی ساز مشیر اجیت دوول کے ساتھ پرتپاک گفتگو کررہے ہیں! اس پر کیا تبصرہ کیا جائے!

تازہ ترین خبریں