08:15 am
افغان امن مذاکرات اورپاکستان

افغان امن مذاکرات اورپاکستان

08:15 am

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد افغان طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرنے  میں کسی حدتک کامیاب توہوگئے ہیں لیکن امریکی صدر ٹرمپ افغانستان سے جلد ازجلد امریکی افواج کا انخلا چاہتے ہیں اور امن مذاکرات میں ہر قسم کی رکاوٹ کودورکرنے میں انتہائی سنجیدہ نظرآرہے ہیں ۔اس سلسلے میں زلمے خلیل زاد کی کوششیں کسی حد تک کامیاب بھی رہیں۔ ان کی کاوشوں سے امریکی حکام اور طالبان کے درمیان کچھ ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ انٹرویو دیتے ہوئے زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ طالبان  مذاکرات میں جہاں سنجیدہ ہیں وہاں پہلے جیسی غیرضروری سختی بھی نظرنہیں آرہی۔ وہ معاملات کو سیاسی طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں، وہ پہلے  امریکہ اور پھر افغانستان کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔ طالبان کے وفد میں ان کے سیاسی بازو کے سربراہ اور طالبان سربراہ ملا اخونزادہ کے چیف آف اسٹاف بھی شامل تھے۔ ان کی شرکت سے معاملات کی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔
 
ابھی مذاکرات کا عمل جاری تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اچانک افغانستان سے 14 ہزار میں سے 7ہزار( 50فیصد)امریکی فوجیوں کے انخلا کا اعلان کردیا۔ اس اعلان سے مذاکراتی عمل میں  امریکہ کی حیثیت کافی کمزور ہو گئی اور زلمے خلیل زاد کا کام مزید مشکل ہوگیاہے۔طالبان نے شروع ہی سے مذاکرات کیلئے یہ شرط عائد کی تھی کہ مذاکرات سے قبل  امریکہ اپنی فوج کے انخلا کا وعدہ پورا کرے۔ امریکی صدر کے بیان سے طالبان کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوتا نظر آتا ہے۔ ماضی میں طالبان کا یہ بھی موقف رہا ہے کہ ایک بار امریکہ اپنی افواج کے انخلا پر راضی ہوجائے تو پھر وہ افغان حکومت سے بھی اپنی شرائط پرمذاکرات کا آغاز کریں گے۔ تو کیا اس تناظر میں امریکی صدر کا بیان افغان امن کیلئے امید کی ایک کرن ہے؟ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ طالبان کسی صورت موجودہ افغان حکومت سے مذاکرات پر تیار نہیں ہیں۔2001ء میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے طالبان نے کسی بھی افغان حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ طالبان کا کہنا تھا کہ یہ حکومتیں ناجائز اور  امریکہ کی آلہ کار ہیں۔ موجودہ حکومت کے بارے بھی ان کا یہی خیال ہے۔ طالبان کا موقف ہے کہ یہ حکومت انتخابات کے نتیجے میں نہیں بنی بلکہ یہ ایک معاہدے کا نتیجہ ہے۔  تاہم افغانستان میں کھیل اب آخری مرحلے کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ وہاں  امریکہ کی طویل المدت فوجی مہم کے خاتمے کی توقعات نے چند ایسے منظرناموں کو جنم دیا ہے، جو ملکی مستقبل کا تعین کرسکتے ہیں۔موجودہ سفارت کاری سے یا تو ایک ایسے سیاسی حل کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، جس سے افغانستان اور خطے کے اندر ظاہری حیثیت میں امن قائم ہو یا پھر یکطرفہ  امریکہ نیٹو کے نظم و ضبط سے عاری انخلا کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، جو افغانستان کی 40سالہ خانہ جنگی کے باب کو ایک بار پھر دہرانے کا باعث بن سکتا ہے تاہم دیگر منظر ناموں کا بھی امکان ہے کیونکہ کئی قوتیں کھیل کے آخری مرحلے میں ٹکراتی ہیں یا پھر اتحاد کرتی ہیں۔
سب سے نمایاں قوت افغان طالبان ہیں جو اس وقت ملک کے 60فیصد حصے پر غالب اور یہ حوصلہ پست افغان سیکورٹی اہلکاروں پر بھی زبردست دبائو کا باعث بنا ہوا ہے۔ خود اعتمادی سے سرشار طالبان نے مشکل میں گھری اشرف غنی حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے اور غیرملکی افواج کے انخلا کے ٹائم ٹیبل، طالبان قیدیوں کی رہائی اور طالبان رہنمائوں پر عائد سفر اور دیگر پابندیاں ہٹائے جانے کے حوالے سے وہ صرف  امریکہ سے بات چیت کرنے میں کامیابی حاصل کرچکے ہیں ۔ بلاشبہ طالبان توقع کر رہے ہیں کہ نیٹو اور امریکی افواج کے انخلا کے بعد وہ دیگر افغان جماعتوں پر سیاسی حل آسانی سے تھوپ سکیں گے۔    ( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں