08:17 am
 بھارتی فوج کو فنڈز،خوراک اورلڑائی کے جذبے کی قلت

بھارتی فوج کو فنڈز،خوراک اورلڑائی کے جذبے کی قلت

08:17 am

بھارت کو ہر طرف سے جو تھپڑ پڑ رہے ہیں ۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارتی میڈیا حکمران جماعت بی جے پی کی پروپیگنڈا مشین بن کر سامنے آیا ہے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں تجزیہ کاروں نے بھارت کے بلند و بالا دعووں کے غبارے سے ہوا نکال دی۔ عالمی میڈیا میں بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ بھارت کے مکروہ چہرے سے نقاب اترتا جا رہا ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے ایک آرٹیکل میں لکھا گیا ہے کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی وجہ کشمیر ہے جس پر بھارت قابض ہے جب کہ جارحیت پسند مودی کے وزارت عظمی پر براجمان ہونے کے بعد سے ناصرف مقبوضہ کشمیر میں مظالم میں شدت آئی بلکہ لائن آف کنٹرول پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
 
امریکی اخبار نے لکھا کہ گزشتہ 15 برسوں میں لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں یوں تو مودی سرکار کے دور حکومت میں عروج حاصل ہوا لیکن پچھلے برس لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں میں سب سے زیادہ تیزی دیکھی گئی جس کی ایک وجہ بھارت میں ہونے والے انتخابات ہوسکتے ہیں۔واشنگٹن پوسٹ میں ایک اور تجزیہ کار نے بھارتی میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا کہ پلوامہ حملے کے بعد کشیدگی میں بے پناہ اضافے میں بے لگام میڈیا کا ہی ہاتھ ہے۔ بھارتی میڈیا نے صحافتی اصولوں کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے خبر دینے کے بجائے حکمراں جماعت کے لیے پروپیگنڈے کا کام کیا۔
دوسری طرف  نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں پاک بھارت جنگی قوت کا تقابل کیا ہے اور لکھا ہے کہ 2018 ء میں بھارت نے اپنی فوج کیلئے 45 ارب ڈالر کا بجٹ مختص کیا تھا اور فروری 2019 ء میں بھی 45ارب ڈالر کا اعلان کیا گیا ہے۔ جنگی جنون میں مبتلا بھارت کو پاکستان پر حملے اور اس میں ہلاکتوں کا دعوی کرنے کے بعد سے مستقل سبکی کا سامناکرنا پڑ ا ہے ۔ امریکی اخبار نے تازہ رپورٹ میں حالیہ کشیدگی کے دوران بھارت کی شکست کا واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے۔ پلوامہ حملے کے بعد جارحیت اور جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے پاکستان کی جانب سے قیام امن کے لیے بات چیت کی پیشکش کو کمزوری سمجھتے ہوئے پاکستانی حدود میں دراندازی کی اور کئی جنگجوئوں کو مارنے کا دعوی کیا۔اگلے دن ایک مرتبہ پھر یہی کوشش کی گئی تاہم اس مرتبہ پاک فضائیہ کے چوکس طیاروں نے بھارت کے دو طیارے گرانے کے ساتھ پائلٹ کو بھی حراست میں لے لیا۔پاکستان نے بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کو واپس کر کے امن دوستی دوستی کا ثبوت دے کر نہ صرف سفارتی سطح پر بڑی کامیابی حاصل کی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس محاذ آرائی کے دوران بھارتی کی دفاعی صلاحیت کا پردہ بھی چاک ہو گیا۔
پاکستان سے فضائی لڑائی ہارنے کے بعد بھارت کی فوج پر سوالات کھڑے ہوگئے۔ پاکستان نے گرفتار پائلٹ کو بحفاظت واپس بھیج دیا لیکن پرانا و قدیم طیارہ مگ21 خوش قسمت ثابت نہ ہو سکا۔بھارتی فوج کو درپیش چیلنجز اب کسی سے مخفی نہیں لیکن خود سے آدھی فوج اور ایک چوتھائی بجٹ کے حامل فوج کے ہاتھوں اپنا طیارہ گنوانا انتہائی اہم بات ہے۔ بھارتی حکومت کے اندازے کے مطابق اگر جنگ چھڑتی ہے تو انڈیا اپنی فوج کو صرف دس دن کا اسلحہ فراہم کر سکتا ہے جبکہ بھارتی فوج کے پاس موجود 68 فیصد ہتھیار اور دیگر جنگی سامان انتہائی پرانا ہے جسے آفیشل سطح پر قدیم تصور کیا جاتا ہے۔بھارتی پارلیمنٹ کے رکن اور پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے رکن گورو گوگوئی نے کہا کہ ہماری افواج کے پاس جدید سامان کی کمی ہے لیکن اس کے باوجود انہیں 21ویں صدی کے فوجی آپریشن کرنا پڑتے ہیں۔جن امریکی آفیشلز کو بھارت کے ساتھ اتحاد مضبوط بنانے کی ذمے داری سونپی گئی ہے وہ اپنے مشن کے بارے میں انتہائی مایوس کن باتیں کرتے ہیں کیونکہ بھاری بھرکم بیورو کریسی کی وجہ سے ہتھیاروں کی فروخت اور مشترکہ جنگی مشقوں میں مشکلات پیش آتی ہیں۔امریکی آفیشلز نے بھارتی فوج میں اتحاد پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج کو فنڈز کی قلت کا سامنا ہے اور بھارت کی تینوں مسلح افواج آرمی، نیوی اور ایئر فورس ساتھ کام کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے مقابلے بازی کرتی نظر آتی ہیں۔
 چاہے مسائل جو بھی ہوں، امریکہ آنے والے سالوں میں اپنے اتحادی ملک کو چین کے مقابلے میں ایک طاقتور حریف کے طور پر کھڑا کرنا چاہتا ہے۔بھارت سے امریکا کی بڑھتی قربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بھارت کو ہتھیاروں کی فروخت صفر سے بڑھ کر 15ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے تاہم اس کے باوجود امریکہ کی جانب سے پاکستان کو بھاری ہتھیاروں کی ترسیل بدستور جاری ہے۔بھارت کے لیے سب سے بڑا چیلنج فوج کو فراہم کی جانے والی فنڈنگ ہے جہاں 2018 میں فوج کے لیے 45ارب ڈالر کے بجٹ کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ اس کے مقابلے میں چین کا فوجی بجٹ 175ارب ڈالر کا تھا البتہ گزشتہ ماہ بھارت نے مزید 45ارب ڈالر کے بجٹ کا اعلان کیا تھا۔لیکن اخبار کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ بھارت فوج پر کتنا بجٹ خرچ کرتا ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ بجٹ کیسے اور کہاں خرچ کیا جاتا ہے؟۔
 اگر اس کا جائزہ لیں تو بھارتی فوج کا کثیر بجٹ ڈیوٹی پر موجود اپنے 12 لاکھ فوجیوں کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ فوجیوں کی تنخواہوں میں نکل جاتا ہے جس کے بعد سازوسامان کی خریداری کے لیے صرف 14ارب ڈالر کی رقم بچتی ہے۔بھارتی پارلیمنٹ کے رکن گوگوئی کے مطابق اس وقت دنیا کے تمام ملک اپنی اپنی افواج کی انٹیلی جنس اور تکنیکی مہارت بڑھانے پر بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور بھارت کو بھی ایسا ہی کرنے کی ضرورت ہے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق بھارت کو جدید سازوسامان کی خریدوفروخت کے لیے اپنی فوج کی نفری کا بوجھ کم کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ اتنا آسان نہیں کیونکہ سوا ارب آبادی کے ملک میں فوج کو نوکری کی فراہمی کا اہم ترین ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔
نریندر مودی نے 2014 میں انتخابات میں کامیابی کے بعد معاشی اصلاحات اور ہر ماہ 10 لاکھ افراد کو روزگار کی فراہمی کے وعدے کیے تھے لیکن انتخابات قریب آتے ہی ان کے یہ دعوے اب کسی کونے کھدرے میں پڑے نظر آتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں مودی حکومت پر یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ وہ انتخابات میں کامیابی کے لیے پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دینے کے ساتھ ساتھ اپنی فوج کی قربانیوں کو سیاست کی نذر کر رہے ہیں۔امریکی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا کہ تیزی سے بدلتی دنیا میں اب عالمی طاقتیں جنگ کے دوران بھاری بھرکم فوج کے بجائے جدید ترین ہتھیاروں کی خریداری کو ترجیح دیتی ہیں لیکن اس معاملے میں بھارت پیچھے ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کے پانچویں سب سے بڑے فوجی بجٹ کے باوجود وہ نئے آلات کی خریداری پر صرف ایک چوتھائی رقم خرچ کر سکی۔ دنیا بھر میں ہتھیاروں کی خریداری ایک کٹھن اور سست عمل ہوتا ہے لیکن بھارت میں غیرضروری حد تک بڑی بیورو کریسی کے سبب یہ عمل بھی بدترین زوال کا شکار ہے اور ساتھ ساتھ کرپشن کی آوازیں بھی بلند ہو رہی ہیں۔وزیر اعظم مودی کو فرانس سے 8.9ارب ڈالر کے عوض 36 رافیل طیاروں پر اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے جہاں ان کے ناقدین اس ڈیل کو کرپشن کا گڑھ قرار دے رہے ہیں البتہ حکومتی اراکین کا کہنا ہے کہ یہ الزامات ان کی الیکشن مہم کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔

 

تازہ ترین خبریں