08:18 am
مسلمان اور نماز میں سستی

مسلمان اور نماز میں سستی

08:18 am

مسلمان اور نماز میں سستی… یہ دو باتیں کبھی جمع نہیں ہو سکتیں… مسلمان نماز میں تب ہی سست ہوتا ہے… جب شیطان اُسے غفلت کے جراثیم کا انجکشن لگا دیتا ہے… یا اُسے نفاق کا زہر پلا دیتا ہے… مجھے جب کوئی مسلمان مرد یا عورت یہ لکھتے ہیںکہ… ہم سے نماز میں سستی ہوتی ہے تو میرے دل پر ایک مکّا سا لگتا ہے …مسلمان اور نماز میں سستی… ہائے یہ کیسے ہو گیا؟… نماز میں سستی تو منافق کر سکتا ہے… مسلمان ہر گز نہیں… کیونکہ نماز دین میں اسی طرح ہے جس طرح جسم میں سر… کیا بغیر سر کے کوئی زندہ رہ سکتا ہے؟…معلوم نہیں کیا مصیبت آئی کہ… مسلمان عورتیں تک’’نماز‘‘ میں سستی کرتی ہیں… حالانکہ یہ بات مشہور ہے کہ… مسلمان عورتوں کوتو نماز سے عشق ہوتا تھا… توبہ کرو میری بہنو! توبہ کرو… مسلمان عورت نماز میں سکون اور قرار پا تی ہے اور وہ نماز میں ہر گز سستی نہیں کر سکتی… بلکہ وہ تو اپنا ہر مسئلہ نماز کے ذریعہ حل کراتی ہے… یہ بازاروں میں جانے کی نحوست ہے… اﷲ کے لئے، اﷲ کے لئے بازار جانا چھوڑ دو… بہت ہی سخت مجبوری میں جانا پڑے تو صرف اور صرف خاوند کے ساتھ جاؤ… مسلمان خاوندوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی بیویوں کو بازار لیکر ہی نہ جائیں… بلکہ سارا سامان خود لاکر دیا کریں… یاد رکھیں اگر جوان عورتیں بازاروں میں جاتی رہیں تو بہت کچھ تباہ ہو جائے گا… ہماری مسلمان بہنیں بہت اونچے مقام والی ہیں… ان کا یہ کام نہیں ہے کہ… بازار جا کر مَردوں سے خرید و فروخت کریں… یا موبائل فون پر اپنا وقت برباد کریں… آج کی مسلمان عورت نماز کی لذت اور طاقت سے محروم ہوئی ہے تو اس کی بڑی وجہ… بازاروں میں جانا اور موبائل کا ناجائز یا فضول استعمال کرنا ہے… کہاں گئیں سجدوں میں رونے والی عبادت گزار خواتین؟… کہاں گئیں حیاء کی پیکر وہ خواتین جنہوں نے پردے کو رب تعالیٰ کی نعمت سمجھ کر… دل سے قبول کیا اورپھر اپنے چہرے ، کانوں اور آنکھوں کی ہرگناہ سے حفاظت کی… اے مسلمان بہنو! نماز کا معاملہ ٹھیک کر لو…ہر برائی اور بے حیائی سے طبیعت خود متنفر ہو جائے گی… نما زکے لئے خوب پاکی، اوقات کی پابندی… اور آداب کی رعایت… اختیار کرو… آپ کا اپنا ہی فائدہ ہو گا… آپ کی اولاد کا فائدہ ہوگا… کل کے دن تو کوئی کسی کے کام نہیں آسکے گا…حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی ’’بیویاں‘‘ جہنم میں دھکیلی جا رہی ہوں گی… اُن کو اپنی ناک، عزت، زبان اور چالاکیوں نے برباد کر دیا… قرآن پاک پڑھنے والا ہر مسلمان اُن دو عورتوں کے کُفر اور بُرے انجام کو بیان کرتا ہے… حالانکہ وہ سمجھتی تھیں کہ وہ بہت عقلمند ہیں اور زمانے کے تقاضوں کا خیال رکھتی ہیں… انہوں نے اپنی قوم اور برادری کو خوش رکھنے کے لئے اﷲ تعالیٰ کو ناراض کیا… اپنے پیغمبر خاوندوں کی ناقدری کی… پتہ نہیں قوم اور برادری اُن سے خوش ہوئی یا نہیں… مگریہ بات پکّی ہے کہ وہ دونوں ہزاروں سال سے عذاب میں جل رہی ہیں… اور قیامت کے دن اُن کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا… توبہ ، توبہ ،توبہ میرے مالک… آپ کی پناہ عذاب قبر سے … آپ کی پناہ آخرت کے عذاب سے…   نمازوں میں غفلت او ر سستی کرنے والے کسی اور فتنے کا شکار ہو جاتے ہیں۔
 
 توبہ دراصل’’روحانی پاکی‘‘ کا نام ہے‘ یہ انسان کے اندر کی میل کچیل اور گندگیوں کو دور کر دیتی ہے… توبہ کا دروازہ چوبیس گھنٹے کُھلا رہتاہے‘جب تک موت کا ’’غرغرہ‘‘ شروع نہ ہوجائے انسان کی توبہ قبول ہوتی ہے‘ توبہ کے بہت سے فائدے ہیں… مثلاً (۱) توبہ کرنے والوں کو اﷲ تعالیٰ کی محبت نصیب ہو جاتی ہے…(۲) توبہ کرنے سے گناہ مٹ جاتے ہیں، اُن کے اثرات ختم ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات وہ گناہ بھی نیکیاں بنا دیئے جاتے ہیں…(۳) توبہ سے انسان کو فلاح اور کامیابی ملتی ہے۔
سچی توبہ کے لئے کچھ شرطیں ہیں… صرف زبان سے توبہ توبہ کہنا کافی نہیں ہے… ان چند چیزوں کا لحاظ رکھ کر توبہ کریں تو وہ توبہ انشاء اﷲ قبول ہوتی ہے…
(۱) اخلاص… یعنی توبہ اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے کی جائے… بہت سے لوگ صرف اس لئے توبہ کرتے ہیں کہ… دنیا میں اُن پر کوئی مصیبت نہ آجائے…(۲) ندامت‘ یعنی اپنے گناہ پر نادم اور شرمندہ ہونا۔(۳) اقلاع‘ یعنی اُس گناہ کو چھوڑ دینا۔(۴) عزم‘ یعنی آئندہ گناہ نہ کرنے کی مضبوط نیت رکھنا۔(۵) وقت‘ یعنی موت کی سکرات شروع ہونے سے پہلے پہلے تو بہ کر لینا۔
ہم سب کو چاہئے کہ… ان پانچ باتوں کا لحاظ رکھ کر اپنے تمام گناہوں سے آج ہی توبہ کر لیں… اگر خدانخواستہ توبہ کی ہمت نہیںہو رہی تو… ہر نماز کے بعد یہ دعاء شروع کردیں کہ… یا اﷲ مجھے سچی توبہ کی توفیق نصیب فرما… جب رو رو کر عاجزی کے ساتھ توبہ کی دعاء کریں گے تو انشاء اﷲ توبہ کا سکون بھرا دروازہ ہمارے لئے کُھل جائے گا… جب اﷲ تعالیٰ کسی بندے کو توبہ کی توفیق دیتے ہیں… اور پھر اُس کی توبہ قبول بھی فرما لیتے ہیں تو… کچھ ایسی علامات ظاہر ہوتی ہیں جن سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ… اس بندے کی توبہ قبول ہو چکی ہے… اور یہ اﷲ تعالیٰ کی محبت کا مستحق بن چکا ہے…
اُن علامات میں سے چند یہ ہیں…(۱) اچھی صحبت… توبہ قبول ہونے کی بڑی علامت یہ ہے کہ… انسان کو صدیقین، مجاہدین اور صالحین کی صحبت نصیب ہو جاتی ہے اور بُرے دوستوں سے جان چھوٹ جاتی ہے… یاد رکھیں اچھی صُحبت ہزاروں نیک اعمال کو آسان بنا دیتی ہے…(۲) نیکیوں کی رغبت توبہ قبول ہو جائے تو دل نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے اور گناہوں سے اُسے وحشت ہو تی ہے…(۳) حُبِّ دنیا سے چھٹکارا… توبہ قبول ہونے کے بعد انسان کا رُخ دنیا سے ہٹ کر آخرت کی طرف ہو جاتا ہے… یعنی اُس کا اصل مقصود اﷲ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی تیاری بن جاتا ہے… دنیا اُس کے ہاتھ میں تو رہتی ہے مگر اُس کے دل میں اُتر کر اُس کا مقصد نہیں بن جاتی کہ… بس اُسی کی خاطر جیتا مرتا ہو۔

اے مسلمانو! توبہ کا دروازہ سب کے لئے کُھلا ہے‘ اﷲ تعالیٰ جو ہماراعظیم رب ہے خود ہم سب کو توبہ کے لئے بُلا رہا ہے‘ کوئی ڈاکو ہو یا چور‘ کوئی شرابی ہو یا زانی‘کوئی جھوٹا ہو یا فریبی‘کوئی خائن ہو یا قاتل… کوئی جواری ہویا نشئی۔

ترجمہ۔ فرما دیجئے! اے میرے بندو! جنہوںنے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اﷲ تعالیٰ سب گناہ بخش دے گا بے شک وہ بخشنے والا رحم والا ہے… (الزمر ۵۳)
سبحان اﷲ! کسی کے لئے توبہ کا دروازہ بند نہیں… نہ کسی مشرک کے لئے اور نہ کسی کافر کے لئے… وہ بھی توبہ کر کے ایمان قبول کر سکتے ہیں… اور نہ کسی کبیرہ گناہ کرنے والے مسلمان کے لئے… آؤ! سارے آجاؤ… رب کی رحمت کی طرف، رب کی مغفرت کی طرف… اور رب کی جنت کی طرف… یا اﷲ ہم سب کو سچی توبہ کی توفیق عطاء فرما… اورہم سب کی توبہ قبول فرما… اور ہم سب کو’’توّابین‘‘ میں سے بنا… آمین یا غَفَّاْر یا غَفُوْر یا توَّابْ یاَ عَفُوَّیاَ رؤفُ یاَ ارَحم الَراحمین… آج کی مجلس کا اختتام کرنے سے پہلے اس آیت مبارکہ پر’’کلام برکت‘‘ بھی پڑھ لیتے ہیں… یعنی حضرت شاہ عبدالقادرؒ  کی تفسیر… آپؒ فرماتے ہیں…
’’جب اﷲ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کیا… جو کفار دشمنی میں لگے رہے تھے سمجھے کہ لاریب(یعنی بلاشبہ) اُس طرف’’اﷲ‘‘ ہے… یہ سمجھ کر اپنی غلطیوں پر پچھتائے لیکن شرمندگی سے مسلمان نہ ہوئے کہ اب ہماری مسلمانی کیا قبول ہو گی؟… دشمنی کی، لڑائیاں لڑے اور کتنے خداپرستوں کے خون کئے، تب اﷲ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ایسا گناہ کوئی نہیں جس کی توبہ اﷲ تعالیٰ قبول نہ کرے، ناامید مت ہو، توبہ کرو، اور رجوع کرو، بخشے جاؤ گے، مگر جب سر پر عذاب آیایا موت نظر آنے لگی، اُس وقت کی توبہ قبول نہیں‘‘   (موضح ا ز تفسیر عثمانی)
ہم مسلمانوں سے شکست کھا کر جانے والے… سوویت فوجی اور حکمران… او ر عراق اور افغانستان میں ہم مسلمانوں کے ہاتھوںشکست اور زخم کھا کر واپس جانے والے اتحادی فوجی… اس آیت مبارکہ… سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں کہ… توبہ کر کے ایمان قبول کر لیں… ان لوگوں نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کے ساتھ ہے… ورنہ اتنی خوفناک عسکری طاقتوں کو نہتے مجاہدین کے سامنے اتنی بے بسی محسوس نہ ہوتی…



 

تازہ ترین خبریں