08:20 am
زرداری خاندان کی 75جائیدادوں کا مسئلہ

زرداری خاندان کی 75جائیدادوں کا مسئلہ

08:20 am

٭آصف زرداری، فریال، 75 جائیدادوں کی تفصیل طلبO نوازشریف صحت کا مسئلہ مزیدپیچیدہ O لاہور سے پروازیں بند O کراچی میچ، 14 ہزار اہلکار، 3 گھنٹے کا میچ 11 گھنٹے میں، سڑکیں بند O پاکستان بھارت کے ہائی کمشنروں کی واپسی O ایک اور بھارتی طیارہ تباہ O بلاول کی انگریزی کا مسئلہ O ہندو سنیٹر عورت نے سینٹ چلایا۔
 
٭سپریم کورٹ کی مقرر کردہ جے آئی ٹی نے آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے ناموں والی 75جائدادوں کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ یہ جائیدادیں پاکستان میں بدین، نواب شاہ، لاڑکانہ، بے نظیر آباد، جنوبی کراچی اور دوسرے مقامات پر ہیں۔ ان میں سینکڑوں ایکڑ اراضی، عمارات، فیکٹریاں اور فارم ہائوس وغیرہ شامل ہیں۔ جے آئی ٹی نے فی الحال بیرون ملک زرداری خاندان کی املاک کے بارے میں دریافت نہیں کیا۔ انٹرنیٹ پر آصف زرداری کے نام پر اندرون و بیرون پاکستان 87 جائیدادوں کی تفصیل موجود ہے۔ ان میں سے 37 جائیدادیں صرف امریکہ میں ہیں، ان میں ٹیکساس کا گھوڑوں کا فارم، ہوسٹن میں کاروباری ادارے، نیویارک میں فلیٹ وغیرہ شامل ہیں۔ جے آئی ٹی اومنی گروپ کے 29 جعلی اکائونٹس کے ذریعے 35 ارب روپے کی بیرون ملک منی لانڈرنگ کی تحقیقات کر رہی ہے شائع شدہ خبروں کے مطابق ان تمام اکائونٹس کا تعلق آصف زرداری سے نکلا ہے۔ دریں اثنا ملیر کراچی میں ایک شخص کو غیر قانونی طور پر سات ایکڑ اراضی الاٹ کرنے اور خزانے کو 80 کروڑ کا نقصان پہنچانے کے جرم میں سندھ لینڈ اتھارٹی کے سیکرٹری آفتاب میمن کو گرفتار کر لیا گیا۔ آفتاب میمن کو آصف زرداری کا فرنٹ مین قرار دیا جاتا ہے۔
٭کراچی میں کرکٹ کی سپر لیگ کے میچ شروع ہو گئے۔ ان میچوں نے کراچی کے بڑے حصے کو مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ سٹیڈیم کے اردگرد دور تک سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔ پولیس اور رینجرز کے 14 ہزار اہلکار سڑکوں اور سٹیڈیم پر ڈیوٹیاں دے رہے ہیں۔ ان سڑکوں پر بنے ہوئے بہت سے رہائشی مکانوں کے مکینوں کو ادھر ادھر آنے جانے کے لئے ہر وقت قومی شناختی کارڈساتھ رکھنے کی ہدائت کی گئی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سات بجے شام شروع ہونے والے میچ کے لئے 12 بجے دوپہر سے 5 بجے شام کے دوران سٹیڈیم پہنچنا ہو گا۔ میچ سات بجے شروع ہو کر دس بجے ختم ہو گا۔ 5 بجے سٹیڈیم میں آنے والوں کو آنے جانے کے وقت کے علاوہ کم از کم 5 گھنٹے اور 12 بجے آنے والوں کو دس گھنٹے سٹیڈیم میں گزارنا ہوں گے۔ تماشائیوںکو اپنے ساتھ کھانے پینے کی کوئی چیز لانے کی اجازت نہیں ہو گی، خواتین بیگ نہیں لے جا سکتیں! میچ دیکھنے کے شوقین حضرات یہ پابندیاں تو گوارا کر سکتے ہیں مگر دور دور تک سڑکیں اور ٹرانسپورٹ بند رہنے اور ان علاقوں کے مکینوں کو ہر وقت اپنے پاس شناختی کارڈ رکھنے کی پابندی سے جو اذیت پہنچ سکتی ہے، مجھے لاہور میں اس کا اندازہ ہو چکا ہے۔ شہر کی ایک بڑی سڑک پر ٹریفک رک جائے تو دوسری سڑکیں بھی بند ہوجاتی ہیں۔ لاہور میں کچھ عرصہ قبل ایسے دو میچوں کے لئے سٹیڈیم کے اردگرد وسیع علاقوں میں دور تک سڑکیں بند رکھنے سے پانچ روز تک پورے شہر کی ٹریفک جام رہی۔ اب پھر لاہور میں دو میچ رکھے گئے تھے جو ناگزیر حالات کی بنا پر کراچی منتقل کر دیئے گئے ہیں اس پر لاہور والوں نے شکریہ ادا کیا ہے ۔
٭نواز شریف کی علالت بہت بڑا ’عالمی مسئلہ‘ بن گئی ہے۔ ان کے اہل خانہ مسلسل احتجاج کر رہے ہیں کہ موصوف کی طبیعت سخت خراب ہے، کسی بھی وقت دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔ اب تک  پانچ مختلف میڈیکل بورڈ ان کا طبی معائنہ کر چکے ہیں۔ ان کی رپورٹ سے کسی بڑے مسئلہ کی نشاندہی نہیں ہوتی مگر اہل خانہ کا اصرار ہے کہ حالت بہت خراب اور ’’نازک ‘‘ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ہدایت دی ہے کہ نوازشریف پاکستان کے جس ہسپتال سے اور جس ڈاکٹر سے علاج کرانا چاہیں، حکومت اس میں مدد دے گی۔ وہ بیرون ملک سے بھی ڈاکٹر بلا سکتے ہیں مگر خود اہل خانہ کی اور ن لیگ کے رہنمائوں کی منت سماجت کے باوجود نوازشریف کسی ہسپتال میں نہیں جانا چاہتے نہ ہی جیل سے باہر کوئی علاج کرانا چاہتے ہیں۔ اب ان کی پارٹی کے وکلاء نے کوشش شروع کر دی ہے کہ شدید بیماری کو بنیاد بنا کر نوازشریف کو رہا کرا کے لندن پہنچایا جائے۔ اس بارے میں باقاعدہ اجلاس بھی ہو چکے ہیں! پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا کیس ہے جس میں ملک کے نامور ترین ڈاکٹروں کے پانچ میڈیکل بورڈ کسی ایک شخص کا بار بار معائنہ کر چکے ہوں مگر معاملہ حل نہ ہو رہا ہو!
٭بھارت کے طیاروں کی تباہی جاری ہے۔ گزشتہ روز راجستھان میں ایک اور مگ 21 طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، بھارتی حکومت کے مطابق اس سے پرندہ ٹکرا گیا تھا۔ پچھلے کچھ عرصہ میں بھارت کے 9 جنگی طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہو چکے ہیں اِن میں سے دو طیارے پاکستان کی فضائیہ نے گرائے ہیں۔ ایک مگ طیارہ تقریباً اڑھائی ارب روپے کا پڑتا ہے۔ بھارت کے فوجی حلقے اس بار پاکستان پر طیارہ گرانے کا الزام نہیں لگا سکے اس کی وجہ یہ ہے کہ راجستھان پاکستان سے کافی دور ہے۔ ایسا الزام خود بھارت کی سبکی کا باعث بن سکتا ہے۔ ایک بار دہلی میں ایک بھارتی صحافی نے الزام لگایا کہ پاکستان کی آئی ایس آئی آسام میں بہت سی کارروائیاں کر رہی ہے۔ میں نے اسے کہا کہ واقعی ایسا ہے تو آئی ایس آئی کی تعریف کی جانی چاہئے جو تقریباً دو ہزار کلو میٹر دور جا کر کامیاب کارروائیاں کرتی ہے اور تم لوگ روک نہیں سکتے!
٭استنبول میں ترکی کی سب سے بڑی مسجد کی تعمیر مکمل ہو گئی ہے۔ اس میں بیک وقت 63 ہزار نمازی نماز ادا کر سکیں گے۔ مسجد 9 ارب روپے سے تین سال میں مکمل ہوئی ہے۔ اس میں اعلیٰ ترین قالین اور فانوس لگائے گئے ہیں۔
٭بھارت کو اس وقت ایک بہت بڑے مالیاتی سکینڈل نے لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس کے باعث ہزاروں خاندان اجڑ گئے ہیں، مکمل طور پر اجڑنے والے دو سو سے زیادہ افراد نے خودکشی کر لی ہے۔ چند وزراء ارکان اسمبلی اور بہت سے اعلیٰ سول، پولیس افسر گرفتار ہوئے ہیں۔ اس سلسلے کا نام’’ سرادھا چٹ فنڈ سکینڈل‘‘ ہے۔ اسے کلکتہ کے ایک 50 سالہ شحص ’سدھپٹوسین‘ نے نے بڑی ذہانت سے ترتیب دیا۔ تقریباً دو سو200  جعلی کمپنیاں بنا کر ان کے ذریعے عوام، خاص طور پر غریب کسانوں کو سستے مکانات اور دگنی آمدنی کا لالچ دے کر تقریباً دس کھرب روپے جمع کر لئے۔ متعدد فیکٹریاں اخبارات اور ٹیلی ویژن خرید لئے، فلمیں بنائیں اور بہت سا سرمایہ دبئی، جنوبی افریقہ اور سنگا پوپر منتقل کر دیا۔ بڑی بڑی تنخواہوں پر بڑے بڑے اداکار خرید لئے۔ مگر ایک روز اپریل 2013ء کو یہ سارا سلسلہ دھماکہ کے ساتھ پھٹ گیا۔ کسی غریب کسان یا دوسرے شخص کو کوئی پیسہ نہ ملا اور سدھپٹوسین نے اس سارے کاروبار کو دیوالیہ قراردے کر ملک سے بھاگنے کی کوشش کی مگر پکڑا گیا۔ اس سکینڈل کی تحقیقات کی خاص بات یہ ہے کہ بنگال کی وزیراعلیٰ ’’ممتابینر جی‘‘ خود اس کیس میں ملوث ہے۔ اس نے بہت فائدہ اٹھایا ہے جبکہ وزیراعظم مودی اور ممتا بینر جی ایک دوسرے کے سخت سیاسی حریف ہیں۔ وزیراعظم نے یہ کیس سپریم کورٹ کے حوالے کر دیا ہے۔
٭ ایس ایم ایس: بنوں سے طفیل خان مجھے گیس کا 16000 روپے کا بل آ گیا ہے۔ میں نے کبھی اتنی گیس استعمال نہیں کی۔ میٹر میں بھی کوئی خرابی نہیں۔ گائوں کے دوسرے لوگوں کو بھی بے پناہ بل آ گئے ہیں ہم پر رحم کیا جائے۔
٭ہمارا بھائی سید عبیداللہ ولد سید محمد مختار 18 فروری سے لاپتہ ہے۔ پولیس تلاش کرنے میں کوئی مدد نہیں کر رہی۔ ہماری اپیل چھاپ دیں کہ بھائی کا سراغ لگایا جائے۔ سید فیض اللہ دکھن سرسیداں تحصیل و ڈاک خانہ تھانہ خاص، باغ، آزاد کشمیر۔
 

تازہ ترین خبریں