08:08 am
افغان امن مذاکرات اورپاکستان

افغان امن مذاکرات اورپاکستان

08:08 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
طالبان کی جانب سے کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات پر غیر آمادگی ایک سب سے اہم رکاوٹ کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ طالبان کہتے ہیں کہ ان کی حکومت جائز تھی جسے 2001 ء میں طاقت کے زور پر ختم کیا گیا ۔ انہیں یہ بھی ڈر ہوسکتا ہے کہ داخلی افغان مذاکرات اور جنگ بندی سے شورش کا زور متاثر ہوسکتا ہے اور ان کی جھگڑالو مہم تقسیم کا شکار ہوسکتی ہے۔ تاہم ممکن ہے کہ طالبان اپنی طاقت کے بھرم کا شکار ہوں۔ ٹرمپ کو ایک طرف رکھیے، امریکی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ افغانستان میں اپنی ذلت قبول نہیں کرے گی۔ امریکی جارحانہ رویہ شاید کابل میں خلیل زاد کی مذاکرات یا لڑائی کے جذباتی بیان تک ہی محدود نہ ہو۔ نظم و ضبط کے ساتھ انخلا کیلئے اگر کوئی فیس سیونگ یا اپنا وقار برقرار رکھنے کا کوئی فارمولا نہ ہو تو امریکہ مزید جارحانہ آپشن کی طرف جاسکتا ہے، جیسے جنگ کی نجکاری۔ ایسی تجویز سابق بلیک واٹر کے ایرک پرنس نے دی تھی کہ کابل میں حنیف اتمر جیسا کوئی سخت شخص بٹھادیا جائے جو لڑائی جاری رکھے اور طالبان کے خلاف داعش گروپ میں جنگجو دولت اسلامیہ کے عناصر کی معاونت کرے اور
طالبان رہنمائوں پر قاتلانہ حملوں کی مہم شروع کرے۔ (لیکن روس اور ایران کے مطابق تو یہ سب کچھ پہلے سے ہی ہو رہا ہے)۔
دوسری جانب، طالبان کو خطے کی مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ حتیٰ کہ طالبان کی جانب سے کابل انتظامیہ سے مذاکرات کے انکار پر ایران ان کی حوصلہ افزائی تو کرتا ہے لیکن ان کے وزیرِ خارجہ نے نئی دہلی میں یہ اعلان کیا تھا کہ تہران مستقبل کی حکومت میں طالبان کی غالب طاقت نہیں چاہتا۔ روس بھی ایک متوازن نتیجہ چاہتا ہے جبکہ چین پاکستان کی طرح طالبان حکومت کی سربراہی میں بننے والی حکومت کو قبول کرسکتا ہے، مگر یہ ایک تھوپے گئے حل کے بجائے ایک مذاکراتی حل کو فوقیت دے گا۔
طالبان نے اب تک اچھا کھیل کھیلا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس کھیل میں اب تک جو جیتا ہے صرف اس کے ساتھ ہی خوش رہیں۔ طالبان کی جنگی فتح کو امریکہ اور خطے کی طاقتوں دونوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔پاکستان کے اسٹریٹجک مقاصد کیلئے دیرپا سیاسی حل ہی بہترین ثابت ہوگا۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں مذکورہ دونوں مسائل کے سفارتی حل نکالنے کیلئے اسلام آباد بہتر پوزیشن میں ہے۔ایک بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی فورس اقوام متحدہ یا او آئی سی کے ذریعے بنائی جاسکتی ہے۔
کابل میں عبوری یا غیرجانبدار حکومت کے قیام، انتخابات کو التوا میں ڈالنے اور اس کے ساتھ ایک مقررہ وقت کیلئے جنگ بندی سے طاقت کی تقسیم کے فارمولے پر افغان داخلی مذاکرات اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان سے امریکہ اور نیٹو افواج کے نظم و ضبط کے ساتھ انخلا کا موقع فراہم ہوسکتا ہے۔ افغان پارٹیوں کو حل قبول ہو، اس کیلئے ان کے ساتھ امریکہ، یورپ، چین اور گلف کوآپریشن کونسل (جی سی سی) کی جانب سے مستقبل میں مالی معاونت کے وعدوں سمیت انہیں مناسب مراعات کی پیش کش بھی کی جاسکتی ہے۔
پاکستان کو چین کے ساتھ اپنے مربوط اور خطے کے دیگر کھلاڑیوں کے مفادات میں بہتر سفارتی کردار کو ذاتی مفادات کیلئے بھی استعمال کرنا ہوگا، مثلاً پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو نارمل سطح پر لانا، افغانستان کی زمین سے ہونے والی بلوچستان لبریشن آرمی اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی دہشتگردی کا خاتمہ، افغان مہاجرین کی واپسی اور سی پیک کا پھیلائو اور اس پر بلاتعطل عمل، امریکہ کی جانب سے اعتراض کا خاتمہ اور اس منصوبے میں جی سی سی کی شراکت داری انتہائی اہم ہے۔




 

تازہ ترین خبریں