08:09 am
گولڈن شیک ہینڈ :رحمت یا زحمت

گولڈن شیک ہینڈ :رحمت یا زحمت

08:09 am

ہمارے ملک میں گولڈن شیک ہیند اسکیم کے نام پر بڑے پیمانے پر اداروں سے ملازمین کو فارغ کیا جاتا ہے۔اس پر معاشرے کے مختلف طبقات کی جانب سے ملا جلا رد عمل سامنے آتا رہتا ہے۔کچھ لوگ اس اسکیم سے بہت خوش ہیں کہ اس طرح اداروں پر پڑنے والے مالی بوجھ سے تو کم از کم نجات ملے گی لیکن فارغ کئے جانے والے لو گ جن میں اہل اور نااہل ہر طرح کے لوگ شامل ہیں ، روزگار کے حوالے سے شدید طور پر فکر فردا کا شکار ہیں اور شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں۔
 
یہ بات درست ہے کہ سرکاری سطح پرتو اخراجات کو کنٹرول کرنے اور غیر ضروری مصارف سے چھٹکارا پانے کے لئے اس نوع کا قسم نہایت خوش آئند ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اگر روزگار کے مناسب مواقع پیدا نہ کئے جائیں تو ہمارے ملک کے مخصوص حالات میں اور موجود گلے سڑے معاشرے میں اس اقدام سے خیر برآمد ہونے کی بجائے خرابیاں زیادہ پیدا ہوتی ہیں۔اس لئے کہ یہ بظاہر خوش آئند اقدام درحقیقت اس سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ ہے جسے ’’چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر‘‘ کی مانند اگر معاشی استبداد کی بدترین صورت قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔یہ سرمایہ داران نظام سود کی لعنت پر مبنی ہے اور انسانیت کے لئے سم قاتل ہے۔
اس نظام کی بدولت ارتکاز دولت کے نتیجے میں ایک جانب سرمایہ دار طبقہ وجود میں آتا ہے جو اپنے سرمائے کے بل پر ملکی معیشت اور معاشی وسائل پر قابض ہوجاتا ہے۔اس طبقے کے پاس دولت کی اس درجے فراوانی ہوتی ہے کہ انہیں آخرت یاد رہتی ہے نہ اللہ کا خیال کبھی ان کے دل میں آتا ہے۔یہ طبقہ دنیا داری اور عیش پرستی میں سر تا پا غرق رہتا ہے۔اس طبقے کے اکثر افراد اخلاق و کردار کے معاملے میں حیوانی سطح بلکہ اس سے بھی پست تر سطح کے حامل ہوتے ہیں اور مال و دولت کی حرص و ہوس انہیں باطنی طور پر درندہ بناکر چھوڑتی ہے بقول علامہ اقبال:
 از ربا جاں تیرہ دل چوں خشت و سنگ
آدمی درندہ بے دندان و چنگ
 یعنی سود کی وجہ سے انسان کا باطن سیاہ ہوجاتا ہے اور دل اینٹ اور پتھر کی مانند سخت ہوجاتا ہے اور آدمی ایسا درندہ بن جاتا ہے جیسے دانت او پنجے رکھنے کے باوجود معنوی طور پر کسی درندے سے کم نہیں ہوتا۔جبکہ دوسرا طبقہ جو معاشرے کی عظیم اکثریت پر مبنی ہوتا ہے ،بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کے لئے روزانہ آٹھ گھنٹے نہیں ، بارہ بارہ گھنٹے کام کرنے پر مجبور ہوتا ہے،کے دماغ پر ایک ہی فکر سوار رہتی ہے اور ایک ہی غم ان پر مسلط رہتا ہے یعنی غم روزگار۔شاعر نے اپنے شعر میں جس آرزو کا اظہار کیا ہے اس کا تعلق تو اس کے محبوب سے تھا لیکن یہ طبقہ تو غم روزگار کے چکر میں ایسا پھنستا ہے کہ اللہ کی یاد سے غافل کردیتا ہے۔ قارئین کے ذہن میں وہ شعر آرہا ہوگا جس میں شاعر نے کہا تھا۔ 
دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کردیا    
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے
ان حالات میں اخلاقی ترقی، روحانی بالیدگی ، تعمیر سیرت ، تعلق مع اللہ یہ سب باتیں جن سے انسانیت عبارت ہے، محض کتابوں میں لکھی رہ جاتی ہیں۔اس طبقے کے لئے ان الفاظ کی معنویت ختم ہوجاتی ہے۔ان کی حیثیت ایک کولہو کے بیل یا باربرداری کے جانور سے زیادہ نہیں ہوتی۔ان کے پیش نظر نہ کوئی مقصد حیات ہے اور نہ ان کے لئے اپنے فہم و شعور کو بروئے کار لانے کا کوئی موقع ہوتا ہے۔انسانیت جن اوصاف عالیہ سے عبارت ہے وہ اس طبقے کے افراد سے چھین لی جاتی ہیںاور وہ محض حیوانی سطح پر زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔سودی نظام کی یہی وہ خباثتیں ہیں جن کے باعث سود کی مذمت میں قرآن وحدیث میں سخت ترین الفاظ وارد ہوئے ہیں جو کسی اور گناہ کے لئے وارد نہیں ہوئے۔
کمیونزم جب تک زندہ رہا سرمایہ دارانہ نظام کو اپنے کل پرزے نکالنے کا موقع نہ مل سکا۔کمیونزم کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کے لئے سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کے علمبردار اپنے ہاں سوشل سیکورٹی کے نظام کی تشکیل پر مجبور ہوئے۔بندئہ مزدور کو خوش رکھنے کے لئے اس کے بہت سے حقوق انہیں ماننے پڑے اس لئے کہ اس وقت ان کا نظام معرض خطر میں تھا۔لیکن سوویت یونین کے زوال اور کمیونزم کے تحلیل ہونے کے بعد سرمایہ دارانہ نظام اپنی اصل صورت میں جلوہ گر ہونا شروع ہوا۔ایک فیل مست اور شتر بے مہار کی مانند اب وہ اپنی من مانیاں کرنے میں آزاد ہے۔ڈائون سائزنگ کا عمل بھی دراصل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔سب سے پہلے خود امریکہ اس کی لپیٹ میں آیا تھا۔ڈائون سائزنگ کی مہم وہاں آج سے ایک عشرے قبل شروع ہوگی تھی۔سرکاری اور غیر سرکاری محکموں سے ہزاروں نہیں لاکھوں ملازمین فارغ کردئیے گئے تھے۔بین الاقوامی اداروں نیوز ویک اور ٹائم میں اس پر تفصیلی فیچر شائع ہوئے تھے اور مختلف محکموںاور کمپنیوں کے ان سربراہان کی تصاویر فخریہ انداز میں شائع کی گئی تھیںجنہوں نے کارہائے نمایاں انجام دئیے تھے کہ فلاں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ستر ہزار ملازمین لے آف کئے اور فلا ں کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے نوے ہزار ملازمین کو بیروزگار کیا۔
اس موقع پر امریکہ میں کھلبلی مچی ہوئی تھی اور ملازم پیشہ افراد اس خوف سے تھر تھر کانپتے تھے کہ ان کا نام بھی کہیں فارغ کردہ ملازمین کی فہرست میں شامل نہ کردیا جائے۔وہاں یہی کلہاڑا چلانے پر اکتفا نہ کیا گیا بلکہ سوشل سیکورٹی کے نظام بتدریج ترمیم و تخفیف کرکے عوام کا قافیہ حیات مزید تنگ کرنے کا سامان بھی کیا گیا۔اس لئے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے پاسبانوں کو اب کسی کمیونزم کی طرف سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔اس نظام کا بھیانک باطن اب نمایاں ہوکر سامنے آرہا ہے۔
پاکستان میں بدقسمتی سے سوشل سیکورٹی کا نظام بھی موجود نہیںہے ۔بیروزگاروں کے لئے حکومت کی طرف سے کسی وظیفے کا اہتمام نہیں ہے۔ مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ روزگار کے مواقع بھی نہیں ہیں ۔بیروزگار کے لئے اپنا خون جگر پینے اور ذہنی اذیت کی آگ میں جلنے کے سوا کوئی جائز راستہ نہیں ہے۔ہاں ناجائز راستے کھلے ہیں۔اگر اس میں ہمت ہے تو وہ ڈاکے ڈالے، لوٹ مار کرے،پیٹ کا دوزخ بھرنے کےلئے ملک دشمن عناصر کا آلۂ کار بن کر دہشت گردی کرے۔لیکن اگر اس میں ہمت و جراء ت کا فقدان ہے تو اس کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ رسی کا پھندا گلے میں ڈال کر پنکھے سے جھول جائے۔

 

تازہ ترین خبریں