08:10 am
   بھارتی جارحیت ۔۔۔۔اہم پہلو 

   بھارتی جارحیت ۔۔۔۔اہم پہلو 

08:10 am

 گذشتہ کالم کا اختتام اس بات پر ہوا تھا کہ بھارت سے پاکستان کو حسب سابق مستقل خطرات لاحق ہیں۔ پلوامہ حملے کا الزام بنا تحقیقات فوراً پاکستان پر دھرنے کے بعد بھارت کی جانب سے فضائی حملے اور چوبیس گھنٹے کے اندر پاک فضائیہ کے دندان شکن جواب کے نتیجے میں بھارت کے دو لڑاکا طیاروں کی تباہی اور ایک پائلٹ کی گرفتاری نے اُن عالمی طاقتوں اور اداروں کو بھی جھنجھوڑا جو سب کچھ جانتے بوجھتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر لمبی تان کے سوئے رہتے ہیں ۔ پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی ہوئی ۔ بھارتی طیارے اگرچہ پاک فضائیہ کی تنبیہ پر فرار ہوتے ہوئے اسرائیلی ساختہ تباہ کن بارود ویران مقام پر گرا گئے لیکن بھارت کا سرکاری دعویٰ آج تک یہی ہے کہ اُس کے طیاروں نے بالا کوٹ کے مقام جبہ میں واقع تربیتی کیمپ پر حملہ کر کے لگ بھگ تین سو پچاس دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔
 
 اگلے روز پاک فضائیہ کا ہدف بن کے گرنے والے دو بھارتی طیاروں کے متعلق بھی بھارت کا جھوٹ پر مبنی سرکاری موقف یہی رہا کہ اس کے ایک طیارے نے تباہ ہونے سے پہلے ایک پاکستانی ایف سولہ طیارے کو تباہ کر دیا تھا۔ جب بھارتی طیاروں نے پہلے دن پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ننگی جارحیت کا دعویٰ کیا تو نام نہاد عالمی برادری کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی۔ بھارتی طیاروں کی تباہی اور پائلٹ کی گرفتاری کے فوراً بعد عالمی طاقتوں کو جنوبی ایشیا کے امن کی فکر بھی لاحق ہو گئی اور خطے میں جوہری جنگ کی تباہ کاریوں کا مروڑ بھی اٹھنے لگا ۔ جنوبی کوریا کے اہم دورے کے دوران سپر پاور امریکہ کے صدر کو پاک بھارت کشیدگی اور جنوبی ایشیا کے علاقائی امن کی اتنی فکر لاحق ہوئی کہ پریس بریفنگ میں فریقین کو پرامن طریقے سے معاملات حل کرنے کی نصیحتیں فرمانے لگے۔ اگر پاکستان بھارتی جارحیت چپ چاپ سہہ جاتا اور منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت نہ رکھتا یا صلاحیت ہونے کے باوجود جوابی کارروائی سے گریز کرتا تو آج امن کا بھاشن جاری کرنے والے عالمی ٹھیکیدار کبھی منہ نہ کھولتے۔ 
حالیہ پاک بھارت کشیدگی نے جن اہم پہلووں کو اجاگر کیا ہے ان پر غور کیے بغیر موثر حکمت عملی تشکیل نہیں دی جا سکتی۔ آئیے اختصار کے ساتھ ترتیب وار ان اہم حقائق پر نگاہ ڈالتے ہیں۔ اول، کشمیر وہ بنیادی تنازعہ ہے جسے حل کیے بغیر خطے میں امن قائم کرنا ممکن نہیں۔ بھارت کی ناجائز فوج کشی، انسانی حقوق کی پامالی اور پاکستان پر جھوٹے الزامات کی پالیسی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دوم، اپنے سیاہ جرائم اور مقبوضہ کشمیر میں ریاستی پالیسی کی ناکامی سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت پاکستان پر دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کا سہارا لیتے ہوئے سفارتی یلغار جاری رکھے گا۔ سوم، بھارتی عسکری جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے باوجود پاکستان کو حتی الوسع جنگ سے گریز کرنا ہوگا۔ 
 اسرائیل اور امریکہ کی پشت پناہی سے بھارت عسکری محاذ پر پاکستان کو اُکسا کے جوہری اثاثوں اور ملکی معیشت پر کاری ضرب لگانے کے منصوبے بنائے بیٹھا ہے ۔ مودی کے بیانات اور بی جے پی کے نظریاتی رہنما کھلے عام ان عزائم کا اظہار کر رہے ہیں۔ چہارم، پاکستان کو جلد از جلد پوری قوت سے جنگی بنیادوں پر بھارت کے خلاف جارحانہ سفارت کاری کا آغاز کرنا ہوگا۔ طویل عرصے پر محیط ہمارے سفارتی سکتے اور سست روی نے بھارت کو کھل کھیلنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ سفارتی جارحیت میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم ، ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزی، سرحد پار دہشت گردی، کلبھوشن نیٹ ورک طرز کے تیسرے ملک میں قائم کردہ پراکسی جنگ کے مراکز ، روایتی و جوہری ہتھیاروں کی دوڑ ، آبی دہشت گردی ، اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور سکھوں کی نسل کشی اور مذہبی انتہا پسندی جیسے سنگین جرائم کی بنیاد پر ہر عالمی فورم پر ہدف بنایا جائے۔ پنجم، سابقہ ادوار میں مسلسل معاشی تنزلی ملکی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ بھارت اس کمزوری کو استعمال کرنے کے لیے جنگ چھیڑنے سمیت پاکستان کو ہتھیاروں کی دوڑ میں گھسیٹنے کی کوشش کرے گا ۔
 جوہری صلاحیت کی موجودگی میں پاکستان کو روایتی ہتھیاروں کی دوڑ سے گریز کرنے کی حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ معاشی استحکام کو حکومت کی اولین ترجیحات میں رکھا جانا چاہیے۔ ششم، غیرملکی میڈیا پر جنوبی ایشیا میں جوہری جنگ کے امکانات اور تباہی کا واویلا شروع ہو چکا ہے ۔ یاد رکھیے ! امن کے بھاشن صرف پاکستان کو ہی دیئے جائیں گے ۔ ریاست پاکستان کو پورے اعتماد اور تیقن سے دنیا کو یہ باور کرانا ہو گا کہ ہمارا جوہری پروگرام اور اثاثے ایسی دفاعی مجبوری ہیں جو بھارت کے جارحانہ رویے نے ہم پر مسلط کیے ہیں۔ ہفتم ، مسئلہ کشمیر ، بھارتی جارحیت اور سرحد پار دہشت گردی جیسے مسائل پر عالمی برادری یا چین اور مسلم عرب ممالک پر انحصار سے گریز کرتے ہوئے اپنے زورِ بازو پر بھروسہ رکھا جائے۔ عالمی برادری ہر معاملے کو انصاف کے پیمانے پر نہیں بلکہ مفادات کی ترازو پر تولنے کی عادی ہے۔ آنکھیں کھولنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ غزہ کے کھنڈروں پر کھڑے ہو کے شہید ہونے والے بچوں کے والدین سے اظہارِ یکجہتی کرنے کے بجائے اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بچوں کے قاتل اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے مظلوموں کے زخموں پر نمک پاشی کی تھی ۔ ایسی مطلب پرست اور منافق عالمی برادری کی جانب سے لگنے والے دہشت گردی کے الزامات پر بوکھلانے کے بجائے حکمت و تدبر سے معاملات کو سلجھایا جائے ۔ ہشتم ، غیرملکی سرمایے پر چلنے والی این جی اوز کے ہر کارے اور مشکوک میڈیا ویب سائٹس پر بھارت کی زبان میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے والے کرداروں پر بھارتی طیاروں کی تباہی کے بعد طاری ہونے والا سکتہ رفتہ رفتہ ختم ہو رہا ہے ۔
 پاکستان کی دفاعی صلاحیت ، جوہری اثاثوں اور ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈے کا بازار پھر سے گرم کیا جا رہا ہے ۔ اس طبقے کا بس چلے تو پاکستان کو بھارت کی دست نگر ریاست بنا کے الحاق کا غیر مشروط اعلان فرما دیں ۔ بھارت کے سنگین جرائم پر اندھا اور گونگا بن جانے والا یہ طبقہ انہی نام نہاد لبرل ٹوڈیوں پر مشتمل ہے جو گاہے بگاہے اپنے غیر ملکی آقائوں کی خوشنودی کے لیے پاکستان میں کبھی قادیانی تحریک کی بیجا وکالت کرتے دکھائی دیتے ہیں ، کبھی اسلامی قوانین پر تنقید کرتے ہیں ، کبھی دہشت گردی کی آڑ لے کے اسلام کے تصور ِ جہاد کے خلاف زہر اگلتے ہیں، کبھی توہین رسالت کے قانون کو ختم کروانے کے لیے واویلا مچاتے ہیں ، کبھی ریاستی اداروں کو سینگوں پر لیتے ہیں اور کبھی فحاشی و عریانی کے فروغ کے لیے سرگرداں دکھائی دیتے ہیں۔ پلوامہ حملے سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد پاکستان میں بسنے والا واحد طبقہ یہ ٹکے بھائو بکنے والے لبرل ارسطوئوں کا ہی ہے جسے جنگ کے نعرے لگاتے مودی کے بھارت سے امن کی ٹھنڈی ہوائیں آرہی ہیں۔



 

 

تازہ ترین خبریں