08:13 am
خورشید ملت ،کے ایچ خورشید کی یاد میں

خورشید ملت ،کے ایچ خورشید کی یاد میں

08:13 am

11مارچ 1988ء کوتحریک پاکستان کے ایک سرگرم کارکن ، قیام پاکستان کے بنیادی کردار، محترمہ فاطمہ جناح کے منہ بولے پسر،آزاد کشمیر کے پہلے صدر، ایک مایہ ناز کشمیری رہنماء خورشید حسن خورشیدکا یوم وفات ہے۔ خورشید ملت ،کے ایچ خورشید کے بارے میں قائد اعظم بانی پاکستان نے فرمایا کہ پاکستان کو انھوں نے، ان کے سیکریٹری(کے ایچ خورشید) اور ان کے ٹائپ رائٹر نے بنایا۔پاکستان قائم کرنے والوں میں ایک کشمیری کا کلیدی کردار ہے۔قیام پاکستان میں کے ایچ خورشید مرحوم اور ان کے ٹائپ رائٹر کا کردار انتہائی اہم تھا کہ قائد اعظم نے اس کا خود اعتراف کیا تا کہ ریکارڈ درست رہے۔خورشید صاحب نے صدر بننے پر آزاد کشمیر میں سڑکوں کا نیٹ ورکقائم کیا۔ جاگیرداری سسٹم کا خاتمہ کیا۔ عوام کو ووٹ کا حق دیا۔ سیاستدانوں کو عوام کے در پر لا کھڑا کر دیا۔ کشمیری انھیںخورشید ملت قرار دیتے ہیں۔کروڑوں مسلمانوں میں سے قائد اعظم کی نظر اس ہونہار نوجوان پر ہی پڑی۔ کے ایچ خورشید سرینگر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم مولوی محمد حسن اسلامیہ ہائی سکول راجوری کدل سرینگرمیں استاد تھے۔ ان کے والد نے قیام پاکستان کے بعد جہلم کے قریب سرائے عالمگیر ملٹری کالج میں بغیر تنخواہ رضاکارانہ تدریسی خدمات انجام دیں۔کے ایچ خورشید کے بھائی عبدالعزیز فردوس کشمیر میں بخشی غلام محمد صادق کے دور میں چیف کنسرویٹر جنگلات کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ ان کا  ایک مکان سرینگر کے آبی گزر علاقہ اور دوسراجموں کی ریذیڈنسی روڈ پرمعروف صحافی  وید بھسین کے پڑوس میں تھا۔خورشید صاحب نے ہی کشمیر مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن بنائی۔ 1942میں وہ قائد اعظم سے جالندھر میں ملے۔ کے ایچ خورشید اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ اس موقع پر قائد اعظم نے انھیںمسلم لیگ کا ایک پرچم دیا ۔ 
آپ کے والد محترم کا تعلق جموں اور والدہ کا سرینگر سے تھا۔ ابتدائی تعلیم وادی کشمیر اور گلگت میں حاصل کی۔ پھرسرینگر ایس پی کالج میں زیر تعلیم رہے۔ وہ طلباء سیاست میں کافی سرگرم تھے۔ بعد ازاں برصغیر کی پہلی مسلم پریس ایجنسی ’’اورینٹ پریس آف انڈیا لمیٹڈ‘‘ (او پی آئی)کے کشمیر میں نمائندہ مقرر ہوئے۔اس کی شاخیںکلکتہ، پٹنہ، لکھنوء اور لاہور میں بھی تھیں۔ اس طرح انھوں نے قومی آزاد صحافت میں قدم رکھا۔ یہ ایجنسی انوسٹی گیشن میں زیادہ دلچسپی رکھتی تھی۔ جب ہندوستان ٹائمز نے بنگال کے وزیراعظم جناب اے کے فضل الحق کا ایک فرضی بیان مئی 1941ء کو قائد اعظم کے بارے میں شائع کیا۔ تو اورینٹ کی کلکتہ شاخ نے انوسٹی گیشن کے بعد فضل الحق مرحوم کا درست بیان شائع کر کے دونوں مسلم رہنمائوں میں غلط فہمیوں کو دور کر دیا۔ 
قائد اعظم جب اپنے وادی کے پہلے دورہ پر سرینگر آئے تو کے ایچ خورشید نے ہی ان کے دورہ کی رپورٹنگ کی۔ قائد اعظم کا انٹرویو لیا۔ قائد کو اس نوجوان میں قابلیت کے جوہر دکھائی دیئے۔پھر ایک وقت آیا جب قائد اعظم نے مسلم لیگ کا پرچم کے ایچ خورشید کو دیتے ہوئے  کہا کہ یہ آپ کا پرچم ہے، اسے تھام لیں۔مسلم پارک نوہٹہ سرینگر میں 1944ء کوجب قائد اعظم نے ان کی تقریر سنی تو اسی وقت انہوں نے ایک اہم فیصلہ کیا۔قائد اعظم کے پرائیویٹ سیکرٹری مسٹر لوب تھے۔ وہ تقاریر کا انگریزی سے اردومیں ترجمہ کرنے میں دقت محسوس کرتے تھے۔ کے ایچ خورشید نے اس سلسلے میں تعاون کیا۔ قائداعظم نے ان کے کام کی تعریف کی اور انہیں پہلی اسائنمنٹ دی۔ قائداعظم کے سرینگر میں قیام کے دوران کے ایچ خورشید کی ان سے مسلسل ملاقاتیں ہوئیں۔ کے ایچ خورشید مرحوم کو قائد اعظم نے اپنا سیکرٹری مقرر کرنے کی پیشکش کی۔  
قائد اعظم نے کے ایچ خورشید کو بمئی ساتھ چلنے کو کہا۔ ان کے والد اس پر ہچکچائے۔ تو قائد نے بتایا کہ آپ فکر مند نہ ہوں ۔ میں ان کے مستقبل پر توجہ دوں گا۔ یہ ایک وعدہ تھا جو پہلے قائد اور ان کے بعد ان کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح  نے وفا کیا۔ انہوں نے خورشیدصاحب کولنکن ان سے بار ایٹ لاء کرایا۔ اور وہ بیرسٹر بن گئے ۔ قائد اعظم نے خورشید صاحب کو شیخ محمد عبداللہ سے ملاقات کے لئے سرینگر بھیجا۔ وہاں انہیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ قائد اعظم نے پنڈت نہرو کو خط لکھ کر رہائی کا مطالبہ کیا کہ میرا کام بہت متاثر ہو رہا ہے۔ قائد کی زندگی میں خورشید صاحب کورہائی نہ ملی۔ لیکن محترمہ فاطمہ جناح نے رہائی کی مہم جاری رکھی۔ بعدازاں انہیں ایک بھارتی بریگیڈیئر  گنسارا سنگھ  جو کہ مہاراجہ ہری سنگھ کا قریبی عزیز تھا،کے بدلے رہائی ملی۔بریگیڈیئر کو گلگت میں آزاد فورسز نے قید کیا تھا۔پھر ایک وقت آیا جب  انہوں نے  وزیر خارجہ بھٹو سمیت  24 مئی 1964کو چکلالہ ائر بیس پر شیخ محمدعبد اللہ کا استقبال کیا ،  وہ نہرو کے سفیر بن کر کشمیر حل کے مشن پر جنرل ایوب خان سے بات چیت کے لئے پاکستان آئے تھے۔ شیخ عبد اللہ مظفر آباد بھی نہ پہنچے تھے جب دہلی میں نہرو دنیا سے چل بسے۔شیخ عبداللہ نے پہلے بخشی غلام محمد اور پھر جی ایم صادق کو اکتوبر47ء میں قائد اعظم کے نام  اہم پیغامات کے ساتھ پاکستان بھیجا تھا۔  انہیں  قائد اعظم کی وفات سے بہت دکھ ہوا اور سیاست ترک کردی۔ ایک اخبار دی گارڈین نکالا۔ جسے بعد ازاں بند کر دیا گیا۔ قائد کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح نے انہیں اپنا بیٹا سمجھا۔انھوں  نے اپنے قول و فعل سے  ثابت کیا کہ کشمیری  باکردار، بااعتماد اور قابل بھروسہ ہیں ۔جو اپنے معتمد کے ہر راز اور ہر بات کو امانت سمجھ کر  اس میں کبھی خیانت نہ کرنے کے روادار رہے ہیں۔ الا ماشاء اللہ۔ کے ایچ خورشید نے قائد کا مرتے دم تک ساتھ نبھایا۔جس پر قائد کو اعلان کرنا پڑا ، ’’پاکستان میں نے، میرے ٹائپ رائٹر اور ایک کشمیری نے مل کر قائم کیا‘‘۔ 
یہ سچ ہر کسی کے مدنظر ہو گا۔ اس لئے کوئی بھی کشمیری اس پر فخر کر سکتا ہے۔  انہوں نے اپنے ذاتی مفاد یا مراعات کے لئے ضمیر کا سودا نہ کیا۔ قوم کا استحصال نہ ہونے دیا۔ اپنے نفس کی غلامی نہ کی۔ آزاد کشمیر کے پہلے صدر بنے لیکن سادگی کی زندگی گزارنے سے باز نہ آئے۔ پاکستان قائم کرنے والا اہم کردار،قائداعظم ، بانی پاکستان، گورنر جنرل کا سیکرٹری، آزاد کشمیر کا پہلا صدر، فاطمہ جناح کا منہ بولا بیٹا کے ایچ خورشید ایک عام مسافر گاڑی میں سفر کرتا رہا۔ کرایہ کے مکان میں عمر گزار دی۔ کوئی جائیداد، کوٹھیاں، پلاٹ، مربعے، فارم ہائوس ، بینک بیلنس نہ تھا۔ یہاں تک کہ جب وفات پائی تو اس وقت بھی ایک مسافر بس میں سفر کر رہے تھے۔ جس کو حادثہ پیش آیا۔ وہیں وفات پائی۔ جسد خاکی دفن کرنے کے لئے مظفر آباد لایا گیا۔ آج وہ اسی شہر میں آسودہ خاک ہیں۔ وفات کے وقت آپ کی جیب میں37روپے اور کچھ پیسے تھے۔ یہی ان کا کل اثاثہ تھا۔



 بیگم ثریا خورشید لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔ انہیں فخر ہے کہ وہ ایک عظیم شخصیت کی شریک حیات رہیں۔ ایسی شخصیت جو پا ک و صاف اور بے داغ رہی۔ کرپشن، دھوکہ، فراڈ، جھوٹ، مکاری، عیاری جیسی آلائشوں سے پاک۔ ان کی سیاست اور حکمرانی خدمت خلق پر مبنی رہی۔ کے ایچ خورشید جیسی ہستیوں کو تاریخ ہمیشہ اچھے نام سے یاد رکھے گی۔



 

تازہ ترین خبریں