08:15 am
عورت مارچ: انسانیت رسوا!قانون کہاں ہے؟

عورت مارچ: انسانیت رسوا!قانون کہاں ہے؟

08:15 am

عالمی یوم خواتین‘ مائوں کا عالمی دن‘ ویلنٹائن ڈے  وغیرہ وغیرہ یہ سب ’’مغرب‘‘ اور اولاد مغرب کے وہ ڈھکوسلے ہیں کہ جن کا مذہب اسلام یا مشرق کے کلچر سے دور دور کا بھی تعلق اور واسطہ نہیں ہے ‘ اس لئے یہ خاکسار ایسے مواقع پر مغرب زدہ قوتوں کی حمایت یا انہیں پروموٹ کرنے سے اکثر دامن بچانے کی کوششیں کرتا رہا ہے اور مجھے اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ‘ علامہ محمد اقبالؒ‘ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اور مولانا ظفر احمد عثمانیؒ کا پاکستان اس وقت مغرب زدہ این جی اوز اور ان کے ڈالر خور ایجنٹوں کے ہتھے چڑھ چکا ہے… موم بتی مافیا کے خرکار اپنی بے حیائی‘ بے غیرتی ‘ فحاشی اور عریانی کو پوری قوم پر مسلط کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں‘ میرا یہ ماننا ہے کہ8 مارچ کے دن  عالمی یوم خواتین  کے نعرے کی آڑ میں اسلام آباد‘ لاہور اور کراچی وغیرہ میں جن مغرب زدہ این جی اوز نے ’’بے حیاء‘‘ مارچ کا اہتمام کرکے مذہب اسلام ‘ خاندانی روایات اور مشرقی کلچر کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کی ‘ ان میں پاکستانی قوم کی خواتین کی نمائندگی ایک فیصد بھی نہیں تھی … الحمد للہ ننانوے فیصد سے زائد پاکستانی عفت مآب خواتین مغربی کلچر پہ تھوکنا بھی پسند نہیں کرتیں اور عورتوں کے حقوق کے نام پر ان این جی او مارکہ عورت نما فسادنوں کو پاکستان پر بوجھ سمجھتی ہیں۔
 
مجھے پاکستانی قوم پر مکمل اعتماد ہے لیکن میرا سوال وزیراعظم عمران خان‘ وزیر داخلہ شہریار آفریدی سمیت نیشنل ایکشن پلان کے ان تمام ذمہ داران سے ہے کہ جو پاکستان کو انتہا پسندی اور شدت پسندی سے پاک کرنا چاہتے ہیں‘8 مارچ کے دن جن این جی اوز نے خواتین کے حقوق کے نام پر ریلیاں نکال کر خواتین کا استحصال کیا‘ پاکستان جیسے نظریاتی ملک میں پردے اور نکاح کے اسلامی احکامات کے خلاف نعرے لگائے‘ بلکہ یہاں  تک بکواس کی کہ نعوذ باللہ ’’جب تک نکاح کا نظام ختم نہیں ہوگا تب تک عورت پر ظلم ہوتارہے گا ‘ اس لئے نکاح کے نظام پر پابندی لگائی جائے۔‘‘ میرا جسم‘ میری مرضی‘ ہمیں شادی کے علاوہ اور بھی کام ہیں‘ چادر اور چار دیواری… ہے بیماری‘ ہے بیماری‘ میں بچے پیدا کرنے کی مشین نہیں‘ مجھے شادی نہیں آزادی چاہیے‘ گھٹیا مرد سے آزادی‘ یہ اور اس سے بھی بڑھ کر لغو‘ واہیات اور فحش کتبے لہرا کر‘ نعرے لگاکر پاکستان کی مقدس سرزمین پر تعفن پھیلانے کی کوشش کی… ان کے خلاف تادم تحریر قانون حرکت میں نہیں آیا تو کیوں؟
اس اولاد ابلیس کو پاکستان میں لبرل شدت پسندی اور مغرب زدہ سڑاند پھیلانے کے جرم میں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالنا ضروری تھا‘ پاکستان میں عورتوں کو بدنام اور عورتوں کا استحصال کرنے والی ایسی این جی  جی اوز کے دفاتر کو بھی بحق سرکار ضبط کرنا لازم تھا‘ میری ذاتی معلومات کے مطابق ان فسادی ریلیوں میں منکرین ختم نبوت کے گروہ سمیت بعض اقلیتی خواتین بھی شامل تھیں‘ مجھے یقین ہے کہ جس طرح ان ریلیوں میں لگنے والے مذہب مخالف نعروں کو کسی مسلمان مسلک یا جماعت کی سپورٹ نہ تھی بالکل ایسے ہی مین اسٹریم اقلیتی برادری بھی اس سے بری الزمہ ہے‘ اس لئے کہ بیویوں کو شوہروں‘ بیٹیوں کو والدین‘ بہنوں کو بھائیوں اور ہوازادیوں کو مشرقی معاشرے کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی اجازت کسی مذہب میں بھی نہیں ہے۔
 عورت مارچ میں اسلام اور معاشرے کے خلاف عورتوں کو بغاوت پر اکسانے والی این جی اوز ’’ٹی ٹی پی‘‘ سے زیادہ خطرناک ہیں‘ ٹی ٹی پی کے خلاف تو سیکورٹی اداروں نے دل کھول کر آپریشن کیے‘ ٹی ٹی پی کو اسلام آباد‘ لاہور‘ کراچی میں نہ جلوس نکالنے کی اجازت تھی اور نہ ہی دفاتر کھولنے کی ‘مگر ان این جی اوز کے نہ صرف پاکستان کے بڑے شہروں میں دفاتر قائم ہیں بلکہ یہ کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات کو گمراہ کرنے میں بھی پیش پیش ہیں۔
ایک ایسے موقع پر کہ جب پڑوسی ملک بھارت پاکستان پر حملہ آور ہونا چاہتاہے… بھارتی فوج ایل او سی کی خلاف ورزیاں کرکے پاکستانی عورتوں اور بچوں کو شہید کر رہی ہے ‘ مقبوضہ کشمیر … کشمیری مسلمانوں کے لئے کربلا کا منظر پیش کررہا ہے‘ بھارتی ظلم اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے شائع ہونے والے موقر اخبارات نے بھارتی جارحیت اور آزادی اظہار رائے کا گلا گھوٹنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے صفحہ اول کو خالی چھوڑ کر ہندو شدت پسندی سے نفرت کا اظہار کیا ہے‘ پاکستان کے بڑے شہروں میں ہونے والے عورت مارچ میں مذہب اسلام کے احکامات اور خاندانی روایات کے خلاف شدت پسندانہ متنازعہ نعرے بلند کرکے قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کرنا پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں ‘حکومت اور وزارت داخلہ کے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے‘ پاکستان کا دشمن بھارت اور اس کے ہمنوا ‘طاقت کے ذریعے تو پاکستان کو شکست دینے میں ناکام رہے ‘ اب وہ بے حیاء ثقافتی یلغار کی سازش کے ذریعے اگر پاکستانی قوم کو شکست دینا چاہتے ہیں تو ہماری ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کھوج لگانے کی کوشش کریں کہ قومی وقار او قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والے اس قسم کے فسادی مظاہروں  کو ارینج کرنے والوں کے پیچھے کہیں بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘  اور اسرائیلی’’ موساد ‘‘کا ہاتھ تو نہیں ہے؟ یاد رکھیئے پاکستان ایک ایسا گلشن ہے کہ جس کے اندر ہر قسم کے پھول ہیں … یہاں بسنے والی اکثریتی مسلمان قوم ہو یا اقلیتی برادریاں یہ سب ایک دوسرے کے لئے نہایت محترم اور لازم ملزوم ہیں …8 مارچ کے دن عورتوں کے حقوق کے نام پر بے حیائی کا جو ڈرامہ رچایا  گیا‘ پاکستان میں بسنے والے مسلمان ہوں‘ عیسائی ہوں‘ ہندو ہوں‘ پارسی ہوں یا دیگر اقلیتوں سے وابستہ لوگ اس ڈرامے نے سب کو پریشان اور خوفزدہ کرکے رکھ دیا‘ اس لئے کہ اسلام آباد سمیت بعض دیگر شہروں کی سڑکوں پر عورت مارچ میں جس طرح سے انسانیت اور عورت کی نسوانیت کو رسوا کرنے کی کوشش کی گئی اس نے ہر طبقے کے ذمہ دار انسانوں کو ہلاک کر رکھ دیا۔وزیراعظم عمران خان اور وزیر مملکت برائے داخلہ نے   انسانیت کو رسوا کرنے والوں کے خلاف اگر فوری طور پر  ایکشن نہ لیا تو مجھے خدشہ ہے اس بات کا کہ کہیں ردعمل میں پاکستانی قوم سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کرنے پر مجبور نہ ہو جائے۔ (وما توفیق الا باللہ)

 

تازہ ترین خبریں