08:16 am
مقبوضہ کشمیر،عالمی مسئلہ:انتخابات رک گئے

مقبوضہ کشمیر،عالمی مسئلہ:انتخابات رک گئے

08:16 am

٭بھارت میں انتخابات 11 اپریل سے 19 مئی تک سات مرحلوں میں ہوں گے۔ 29 صوبوں میں بیک وقت انتخابات ممکن نہیں ہو سکتے ان کے لئے الگ الگ تاریخیں مقرر کی گئی ہیں۔ بھارتی قوانین کے مطابق بعض صوبوں کے انتخابات بھی عام انتخابات کے ساتھ ہی کرائے جاتے ہیں۔ آئندہ لوک سبھا کے ساتھ ہماچل پردیش، اروناچل پردیش، اوڑیسہ اور مدھیہ پردیش کی اسمبلیوں کے بھی انتخابات کرائے جائیں گے مگر مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے انتخابات روک دیئے گئے ہیں۔ بھارتی الیکشن کمیشن نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کو نہائت خطرناک قرار دے کر وہاں انتخابات کرانے سے انکار کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کو ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت مقبوضہ علاقے میں کسی قسم کے انتخابات کی فضا موجود نہیں، لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔ انہیں باہر آنے دیا گیا تو الیکشن کی بجائے جگہ جگہ ہنگامے شروع ہو جائیں گے۔ الیکشن کمیشن نے کسی نئی تاریخ کا بھی اعلان نہیں کیا۔ پیر کے روز مقبوضہ کشمیر کے 4 اہم اخبارات نے احتجاج کے طور پر پہلا صفحہ بالکل خالی شائع کیا۔ اخبارات کے مالکان کا موقف ہے کہ انہیں زبردستی مودی حکومت کے جبر وستم کے حق میں اداریے اور خبریں شائع کرنے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔ یہ حکم نہ ماننے پر 4 اخبارات کے سرکاری اشتہارات بالکل بند کر دیئے گئے اور نجی اشتہارات دینے والے اداروں کو بھی سخت انتباہ جاری کر دیا گیا۔ اس سے یہ تمام اخبارات شدید مالی مشکلات کے شکار ہو کر اشاعتیں بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ گزشتہ روز حکومت کے وظیفہ خوار چند اخبارات کے سوا تمام دوسرے اخبارات نے پہلے صفحات خالی چھوڑ دیئے۔ صحافتی تاریخ میں پہلی بار ایسا احتجاج سامنے آیا ہے۔ بعض ممالک میںاخبارات پر حکومت کا سخت کنٹرول ہوتا ہے۔ چین روس، شمالی کوریا وغیرہ میں صرف سرکاری اخبارات چھپتے ہیں، نجی صحافت کا کوئی تصور موجود نہیں۔پاکستان میں فوجی آمروں کی حکومتوں کے دور میں اخبارات پر سخت سنسر شپ عائد کر دی جاتی تھی۔ اور اخبار کو پریس میں بھیجنے سے پہلے مارشل لا کے فوجی افسروں سے چیک کرانا پڑتا تھا۔ یہ افسر جس خبر کو ناپسند کرتے اس پر سرخ لکیریں لگا کرمسترد کر دیتے تھے۔ اخبارات لے جانے والے افراد اپنے ساتھ بہت سی اضافی خبریں بھی تیار کرا کے ساتھ لے جاتے تھے، جہاں سے کوئی خبر اکھاڑی جاتی وہاں دوسری خبر لگادی جاتی۔ قیام پاکستان سے پہلے یہ کام انگریز حکومت کے افسر کرتے تھے۔ایک روز مولانا ظفر علی خان کا ’زمیندار‘ اخبار اداریہ کے بغیر چھپا، اداریہ کی خالی جگہ پر صرف ایک سطر درج تھی کہ ’’نقطہ نقطہ، شوشا، شوشا نذر سنسر ہو گیا!‘‘
 
٭لاہور کی جیل میں نوازشریف کی صحت کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نوازشریف کی مرضی کا ہر قسم کا علاج فراہم کیا جائے، لندن سے ڈاکٹر منگوادیا جائے۔ پنجاب حکومت نے باقاعدہ تحریری طور پر یہ پیش کش کر دی مگرانکار ہو گیا۔ بیٹی مریم نواز نے مطالبہ کیا کہ جیل میں لائف سیونگ یونٹ (زندگی بچانے کا فوری انتظام) فراہم کیا جائے ، یہ یونٹ بھی لگا دیا گیا، علاج سے پھر انکار کر دیا گیا۔ نیا عذر آیا کہ ورزش بہت ضروری ہے۔ سرکاری طور پر ورزش کے لئے بائیسکل فراہم کئے جانے کا حکم جاری ہو گیا۔ یہ بھی بے فائدہ! اس دوران مسلسل پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ نوازشریف کی بیماری پاکستان کا کوئی ڈاکٹر نہیں سمجھ سکتا۔ پانچ میڈیکل بورڈ وں میں شامل ملک کے ممتاز ڈاکٹروں کی رپورٹیں مسترد کی جا چکی ہیں، اصرار یہ ہے کہ لندن سے ڈاکٹر بلانے سے بھی نہیں بلکہ صرف لندن جا کر ہی علاج ہو سکتا ہے! نیا پہلو یہ ہے کہ پیپلزپارٹی، اے این پی اور جے یو آئی نے بھی دھمکیاں شروع کر دی ہیں کہ نوازشریف کو کچھ ہوا تو حکومت کے خلاف قتل کا مقدمہ دائر کیا جائے گا۔ بلاول زرداری نے نوازشریف کی عیادت بھی کی ہے۔
٭اس صورت حال پر ایک دلچسپ واقعہ یاد آ گیا ہے۔ ممتاز مزاح نگار کرنل محمد خاں نے اپنی مشہور کتاب ’بجنگ آمد‘ میں ’’پینی نے آم کھایا‘‘ کے عنوان سے دلچسپ چشم دید واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک ڈپٹی کمشنر کی چھوٹی سی بچی ’پینی‘ نے آم کھانے کا ارادہ کیا، خانساماں کو حکم دیا کہ باہر لان میں میز اور کرسی کا انتظام کیا جائے۔ میز اور کرسی لگ گئی۔ نئے احکام جاری ہوئے کہ ’’میز پر کپڑا بچھایا جائے،کپڑا بچھ گیا‘‘ اس پر ایک پلیٹ میں آم دوسری میں چھری کانٹا رکھا جائے، اس پر بھی عمل ہو گیا۔ ایک حکم کہ میرے لئے ایپرن (سامنے باندھنے والا کپڑا) لایا جائے۔ ایپرن بھی آ گیا اب پینی نے بڑی نزاکت کے ساتھ ایک آم کا تھوڑا سا حصہ کاٹا، اسے چکھا اور یہ کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی کہ آم کھٹے ہیں، میں نہیں کھا سکتی!
٭میں روزانہ انٹرنیٹ پر بھارتی میڈیا پرنظر ڈالتا ہوں۔ اپوزیشن کے مختلف رہنمائوں، راہول گاندھی، راج ٹھاکرے اور دوسرے رہنما اس بات کو خاص طور پر ابھار رہے ہیں کہ مودی کی حماقتوں سے کشمیر کا تنازع بہت نمایاں طور پر اس طرح ابھر آیا ہے کہ خود بھارت کی سرپرستی کرنے والے مغربی ممالک کے ہاں بھی آوازیں اُبھرنا شروع ہو گئی ہیں کہ کشمیر کا تنازع طے کئے بغیر اس خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پونا شہر میں تمام بھارتی سیاسی پارٹیو ںکے نوجوان رہنمائوں کے ایک اجلاس میں اس بات کو تشویش ناک قرار دیا گیا کہ بھارت کے تقریباً تمام تعلیمی اداروں میں کشمیری مسلمان طلبا کے ساتھ سخت ناروا سلوک روا رکھا گیا ہے بہت سے اداروں سے کشمیری طلبا کو نکال دیا گیا ہے جب کہ جبر اور تشدد سے پریشان ہزاروں کشمیری طلبا خود ہی ان تعلیمی اداروں کو چھوڑ کرکشمیر میں واپس آ گئے ہیں۔ پونا میں ہونے والے اس اجلاس میں ہندو طالب علم  رہنمائوںنے یقین دلایا ہے کہ کشمیری طلباکو ہر قسم کا تحفظ دیا جائے گا مگر اس اعلان کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
٭وزیراعظم عمران خان نے ایک جلسے میں اعتراض کیا کہ بلاول اپنے نام کے ساتھ زرداری کی بجائے بھٹو کیوں لکھتا ہے؟ اگلے روز وفاقی حکومت کا سرکلر جاری ہوا کہ وزیراعظم کی ہدائت کے مطابق ان کا نام ’عمران احمد خان نیازی‘ کی بجائے صرف عمران خان لکھا جائے‘‘۔  نیازی نہ لکھا جائے!!
٭ایک دلچسپ خبر: پاکستان میں لائیو سٹاک کے ماہرین نے خاص تحقیق اور محنت کے ساتھ دنیا بھر کی خوبصورت ترین اور زیادہ دودھ دینے والی سُرخ ’’ساہیوال گائے‘‘ تیار کی ہے۔ اسے عالمی تنظیم ’’آئی سی او‘‘ کے پاس رجسٹریشن کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس خبر پر فوراً بھارتی ماہرین نے اپنی ایک سرخ گائے عالمی ادارے میں رجسٹریشن کے لئے پیش کر دی۔ اسے مسترد کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستانی خوبصورت گائے کے مقابلہ میں بھارتی گائے کی کوئی اہمیت نہیں۔ گائے بہت معصوم جانور ہے اس کے بارے میں بچوں کے شاعر اسماعیل میرٹھی نے خوبصورت نظم لکھی کہ رب کا شکر ادا کر بھائی، جس نے ہماری گائے بنائی …کیوں نہ اس کا شکر گزاریں، جس نے پلائیں دودھ کی دھاریں…‘‘ علامہ اقبال نے بھی ایک نظم ’’گائے اور بکری‘‘ میں بھی گائے کا ذکر کیا ہے۔اس میں گائے انسانوںکے سلوک کی مذمت کرتی ہے اس پر بکری اسے جانوروں کے ساتھ انسانوںکی مہربانیاں سمجھاتی ہے۔ گائے یہ بات سمجھ کر کہتی ہے کہ یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی، دل کو لگتی ہے بات بکری کی…‘‘  

 

تازہ ترین خبریں