08:35 am
ہم کسی سے کم نہیں

ہم کسی سے کم نہیں

08:35 am

پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے خبردار کیا ہے اور پندرہ شرائط کے علاوہ مزید تین شرائط بھی نافذ کرنے کی تاکید کی ہے کہ اگر پاکستان کو بلیک لسٹ سے بچنا ہے تو سابقہ پندرہ شرائط کے ساتھ نئی شرائط جس میں دہشت گردوں کی مالی معاونت بھی شامل ہے سے متعلق مثبت اقدام کرنے کو کہا گیا ہے۔ کرنسی کی اسمگلنگ کی روک تھام، وفاقی اور صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں میں باہمی مضبوط روابط پاکستان کے پاس فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو قائل کرنے اور شرائط پر مکمل عملدرآمد کرنے کیلئے 19 مئی تک کا وقت ہے۔
 
  معیشت اور تجارت کو بالخصوص ایڈہاک ازم کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ پاکستانی معیشت کو مفاد پرست طاقت ور عناصر نے بد عنوانی کے ذریعے اپنے قابو میں کر رکھا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے معیشت کی بحالی کے لیے تاجر برادری سے رابطہ کرنے کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا ہے۔ ان کے کہنے کے مطابق معیشت کی بحالی، سرمایہ کاری، بے روزگاری کے خاتمے اور صنعتی ترقی اور برآمدات پر زور دیا جائے۔ ان کے خیال میں معیشت کو در پیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جنگی سطح پر پھر مالیاتی سفارت کاری کی بہت ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے کاروبار دوست ماحول اور سازگار ماحول فراہم کرنے کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔
  پاکستان اور بھارت کی موجودہ کشیدہ صورتحال جو بھارتی جارحیت سے پیدا ہوگئی ہے کو کم کرنے کی فوری ضرورت ہے گو کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دے کر وہ معرکہ سر کرلیا ہے اور بھارت کو اس معرکہ میں ہزیمت اٹھانی پڑی۔ اس سے نہ صرف عالمی سطح بلکہ خود بھارت کے اندر حزب اختلاف کی جماعتیں اور عوام مودی سرکار سے سوال کر رہی ہیں۔ بھارتی حکمرانوں نے اس جارحیت سے قبل جموں کشمیر میں پلوامہ میں اپنے ہی فوجیوں کا قتل عام کر کے تمام تر الزامات پاکستان پر لگا کر بین الاقوامی طور پر پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی تھی لیکن اس میں بھی بھارتی حکمرانوں کو منہ کی کھانا پڑی تھی۔ اپنی اس ناکامی کا بدلہ لینے کے لیے حواس باختہ حکمرانوں نے پاک سرحد عبور کر کے پاکستان کو تباہی سے دوچار کرنے کی ناکام کوشش کی اور اس میں پہلے سے بھی زیادہ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا دھوبی کا کتا نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔
 اللہ تبارک و تعالیٰ بڑا ہی مسبب الاسباب ہے اس نے حق و سچ کو عالمی سطح پر لانے اور بھارتی نیتاوں کا منہ کالا کرنے کا بندوبست خود ان کے اپنے ہاتھوں کرا دیا ہے۔ مسئلہ کشمیر جس پر بھارت نے ہمیشہ پردہ ڈالے رکھنے اور اپنی ضد و ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے کشمیر میں کیے گئے مظالم کو دنیا کی نظروں سے چھپانے کی کوشش کا پلوامہ ڈرامے کے ذریعے خاتمہ کردیا ہے۔ اب دنیا نہ صرف محسوس کر رہی ہے بلکہ دیکھ بھی رہی ہے کہ بھارتی افواج کی کثیر تعداد کشمیر میں ہونے کے باوجود نہتے کشمیریوں کو قابو کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بھارتی افواج کے مظالم پر اب عالمی سطح پر بھارت کی جانب انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔ وہ کام جو پاکستانی حکمران گزشتہ ستر یا بہتر برسوں میں نہ کرسکے تھے، اللہ نے خود بھارتیوں سے کرا دیا۔ مسئلہ کشمیر اب پاک بھارت مسئلے سے آگے نکل کر عالمی مسئلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے گوکہ تمام کلیسائی دنیا کی یہ فوقیت رہی ہے کہ مسلمانوں کو جس طرح بھی ممکن ہو دیوار سے لگا دیا جائے۔ تمام غیر مسلم قوتیں مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے ہمیشہ سے خوفزدہ رہے ہیں ۔ان کی بہت کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں سے کسی بھی طرح جذبہ جہاد ختم کردیا جائے۔ امریکہ اپنی تمام تر جوہری قوت اور افرادی قوت، اسلحہ کی ہر طرح کی برتری کے باوجود اب تک کسی بھی مسلم محاذ پر سرخرو نہیں ہوسکا۔ مسلمان کسی بھی طرح کسی غیر کے لیے نرم چارہ نہیں ہے۔ لوہے کے چنے کی مانند دشمن کے دانت ناصرف کھٹے کردیتے ہیں بلکہ دانت توڑ کر ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔
   اس بار بھی بھارتی جارحیت میں کئی ملکوں نے حصہ لیا تھا۔ بھارتی جارحیت کوئی معمولی جارحیت نہیں تھی بہت بڑی منصوبہ بندی اور سوچا سمجھا منصوبہ تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ناکام بنا دیا اور افواج پاکستان اور حکمرانوں کا سر بلند کردیا۔ یہ بھی ثابت کردیا کہ مسلمان اللہ کی رحمت سے ہر دم ہر جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار و چوکس رہتا ہے۔
  بین الاقوامی سطح پر اب ہر کوئی پاک بھارت جنگ کے مضمرات پر اظہار خیال کر رہا ہے۔ ایٹمی قوت رکھنے والے ممالک اگر میدان جنگ میں اتریں گے تو نہ صرف ان دونوں ممالک کو بلکہ دنیا کو بہت سے نقصانات سے دوچار ہونا پڑتا ۔ایٹمی جنگ کے ما بعد اثرات کے باعث دنیا کن کن مسائل سے دوچار ہوتی، پاکستانی افواج نے نہ صرف بھارتی بلکہ بین الاقوامی جارحیت کا جس طرح فوری جواب دیا اور ہر قسم کے حالات کا بھرپور مقابلہ کرنے کا کہہ کر دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان کسی بھی طرح نہ کوئی کمزور ملک ہے نہ ہی کسی بزدلی کا شکار ہے۔ 
 یہ خوش آئند بات ہے کہ پاکستان چند روزہ عسکری آزمائش میں نہ صرف پورا اترا ہے بلکہ ملک بھی کسی معاشی بحران کا شکار نہیں ہوا۔ حکمران وقت وزیراعظم عمران خان کے بر وقت مثبت فیصلے نے بھارتی جارحیت کی بساط ہی پلٹ دی۔ بھارت اور اس کے تمام حریف کبھی تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ پاکستانی حکمران اپنے تمام حلیفوں اور حریف کے بر خلاف بھارتی فضائی کمانڈر ابھی نندن کو یوں بلا کسی شرط کے فوری طور پر بھارت کے سپرد کردے گا۔ اس سے پاکستان کو اور حکمرانوں کو بین الاقوامی سطح پر بھرپور فائدہ حاصل ہوا اور پاکستان کا مثبت امیج بنا ہے۔ اللہ پاکستان کو سلامت رکھے اور مثبت تصور بنائے رکھے ۔ یقیناً ہم بھی کسی سے کم نہیں۔

 

تازہ ترین خبریں