08:36 am
سات پردوں میں چھپی بات

سات پردوں میں چھپی بات

08:36 am

کہا جاتا ہے کہ عالمی سیاست میں کوئی بات بھی سادہ نہیں ہوتی۔ کسی جانے والی ہر بات اور کی جانے  والی ہر حرکت کے پیچھے ایک نہیں کئی کئی مقاصد و مطالب ہوتے ہیں اگر آپ پلوامہ کے واقعے پر ذرا احتیاط سے نظر ڈالیں تو آہستہ آہستہ بہت سے پردے کھلتے چلے جائیں گے۔
پلوامہ پر ایک تنہا کشمیری نوجوان نے اتنی مہارت سے حملہ کیا کہ کیمپ میں موجود تمام42 یا43 بھارتی فوجی جہنم رسید ہوگئے۔ کشمیری نوجوان خود بھی شہید ہوگیا۔ بظاہر یہ واقعہ ایک ستائے ہوئے کشمیری نوجوان کے انتقام کا ہے۔ مگر واقعی کیا یہ کام محض ایک تنہا بے یارومددگار کشمیری نوجوان کا ہے ۔ اب دیکھئے کہ اس واقعے کی کیا کیا توجیہات پیش کی گئی ہیں۔
سب سے پہلے بھارتی حکومت نے بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے اس واقعے کی ذمہ داری پاکستانی افواج پر تھوپ دی۔ اب اسے تجاہل عارفانہ کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے۔ پھر ایک اور تشریح سامنے آئی کہ یہ حملہ مودی حکومت نے خود کروایا ہے تاکہ وہ اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھال سکیں اور مئی میں ہونے والے انتخابات میں ناکامی سے بچ سکیں۔ اس تشریح کا بھی مذاق اڑایا گیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ سیاسی حکومت خود ہی اپنے فوجی مروا دے۔ اس تشریح کی سپورٹ میں بہت سے دلائل اور چند ثبوت بھی پیش کیے گئے۔ ایک  فون کال کی ٹیپ بھی منظر عام آئی۔ واقعے کے فوراً بعد مودی صاحب کا طرز عمل بھی خاصا مشکوک رہا مگر مجموعی طور پر اس تشریح کو کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی۔
اب دیکھتے ہیں کہ پلوامہ حملے پر بھارتی حکومت کا سرکاری ردعمل کیا تھا اور اس کے بھارتی حکومت نے کیا اقدامات کیے۔ پہلے تو انہوں نے آزاد جموں و کشمیر میں اپنے جہازوں کے ساتھ حملہ کر دیا۔ جہادیوں یا دہشت گردوں کے کیمپ تو انہیں ملے نہیں مگر ایک اجاڑ جگہ پر چند بم پھینک کر وہ واپس آگئے اور بھارت بھر میں فتح کے شادیانے بجا دیئے۔ اعلان کیا گیا کہ ایک پورا جہادی کیمپ تباہ کر دیا گیا ہے اور 350 دہشت گرد جو وہاں تربیت حاصل کررہے تھے انہیں مار دیا گیا ہے۔ اس اعلان سے بھارت بھر میں مودی کا گراف بلند ہونا شروع ہوگیا۔ مگر یہ خوشی صرف وقتی ثابت ہوئی کیونکہ وہ اپنے دعویٰ کا کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے۔ پاکستان کے علاوہ بہت سے دوسرے ممالک کی خبر رساں ایجنسیوں نے بھارتی فضائیہ کے اس دعوے کو جھوٹ قرار دیا۔ حملے کی جگہ کی تصاویر پاکستان نے بھی جاری کیں اور عالمی اداروں نے بھی سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر بھی شائع کیں۔
اب یہاں ذرا رک کر سوچئے۔ کیا پلوامہ حملے کا مقصد صرف یہ تھا کہ ایک جوابی کارروائی کرکے اولاً تو پاکستان کو دہشت گرد ملک ثابت کیا جائے اور دوئم عوامی پذیرائی حاصل کی جائے۔ جی نہیں یہ بات بھی محض صرف ’’ظاہری وجہ‘‘ ہے۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
ابھی بھارتی حکومت اپنی فضائی فتح کی داد سمیٹنے میں مصروف تھی کہ ایک اور واقعہ ہوگیا دو بھارتی مگ طیارے پاکستانی فضائیہ کے ایک چالاک منصوبے کے تحت زمین پر گرا دیئے گئے۔ ایک بھارتی پائلٹ بھی پاکستانی فوج کے ہاتھ لگ گیا۔ صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی اور پھر پاکستانی وزیراعظم نے ایک بڑی ہی مدبرانہ تقریر کرکے بڑی شرافت سے بھارتی پائلٹ کو بھارت کے حوالے کر دیا۔
ایک بار پھر رک کر سوچتے ہیں کیا یہی اس ایڈونچر کا مقصد تھا۔ مودی کو اپنے انتخابی مقاصد میں کامیابی مل گئی۔ مزید جنگ کا خطرہ بھی ٹل گیا۔ سبق نہ سہی پاکستان کو ایک وارننگ تو دے ہی دی گئی۔ جی نہیں یہ بھی صرف ظاہری یا سطحی وجہ ہے۔
پاکستان نے بھی اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ عالمی برادری بھی پہلی بار اپنے خواب سے بیدار ہوئی۔ پاکستان پر لگائے جانے والے  دہشت گرد کے لیبل پر گرد پڑنے گی۔
بھارتی افواج اور خاص کر بھارتی فضائیہ کی کمزوریوں کا تذکرہ شروع ہوا۔ مودی نے کہا کہ اگر ان کے پاس رافیل طیارے ہوتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔ ان کے سیاسی حریف راہول گاندھی نے ان پر رافیل طیاروں کی ڈیل میں گھپلے کے الزامات لگا دیئے۔ وزارت دفاع سے رافیل کیس کی فائل ہی گم ہوگئی۔ مودی کی عوامی مقبولیت پھر سے گرنے لگی۔
اب ذرا پھر رک کر سوچتے ہیں کہ کیا پہ پلوامہ حملے کا مقصد تھا۔ جی نہیں ابھی اور بہت کچھ سوچنا باقی ہے۔
یہ خبریں بھی پھیل گئیں کہ بھارتی حملوں میں اسرائیل کی مدد بھی شامل تھی اور بالواسطہ امریکہ بھی اس کار خیر میں شامل تھا۔ مقصد یہ تھا کہ پاکستان پر  محدود حملے کرکے ایٹمی جنگ سے نیچے نیچے رہ کر پاکستان کو اس کی کم مائیگی کا احساس دلادیا جائے اور اس پر بھارتی تسلط قائم کر دیا جائے۔ پاکستان ویسے ہی اقتصادی مشکلات میں پھنسا ہوا ہے۔
( جاری ہے )

تازہ ترین خبریں