09:37 am
امریکہ روس سردجنگ عروج پر

امریکہ روس سردجنگ عروج پر

09:37 am

خدشہ ہے کہ امریکہ سرد جنگ کے زمانے کے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے ایک اہم بین الاقوامی معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کرنے جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ جسے انٹرمیڈی ایٹ رینج نیوکلیئر فورسز ٹریٹی(آئی این ایف)کہا جاتا ہے،1987 ء میں اس وقت کے امریکی صدر رونلڈ ریگن اور سوویت یونین کے سربراہ میخائیل گورباچوف کے درمیان طے پایا تھا۔ درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں کے اس معاہدے کا مقصد وسیع سطح پر تباہی مچانے والے ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنا ہے۔ عالمی ماہرین نے اس معاہدے کو ایک سنگِ میل قرار دیا تھا۔ حال ہی میں امریکہ کا یہ کہنا ہے کہ روس کی جانب سے لگائے گئے کروز میزائل اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ روس نے امریکہ کے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس اکتوبر میں تصدیق کی تھی کہ امریکا جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلائو کے اس معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا۔ امریکی ریاست نویڈا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ’’ہم اس معاہدے کو ختم کرنے جا رہے ہیں اور ہم اس سے دستبردار ہو جائیں گے۔ 
ادھرروس نے سردجنگ کے دوران ہونے والے 1989ء کے انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئرفورسزکے تحت میزائلوں پر عملدرآمد کرنے  کے معاہدے کوخیربادکہہ دیاہے۔روس نے  مذکورہ میزائل معاہدے سے نکلنے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ واشنگٹن نے روس کے نئے کروز میزائل ٹیسٹ کوآئی این ایف کی شرائط کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے اس معاہدے کومعطل کردیا تھا۔ روسی صدرپیوٹن نے اس عزم کااظہارکیاہے کہ وہ سردجنگ دورکے ایٹمی ہتھیارکنٹرول کے معاہدے سے روس کونکال لیں گے جوایٹمی جنگ کے خلاف کیاگیاتھا۔انہوں نے کہاکہ حالیہ برسوں میں چین نے جوطرفہ معاہدے کادستخط کنندہ نہیں ہے۔ایٹمی میزائلوں میں خاصی پیش رفت کی ہے اس لئے فوجی خطرات کی وجہ سے اس معاہدے کی اہمیت کم ہوگئی ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل روس نے واشنگٹن کی جانب سے نئے کروزمیزائل ٹیسٹ کی تردیدکردی تھی بلکہ اس نے جوابی اقدام کے طورپرامریکہ پرالزام عائدکیاتھاکہ اس نے مشرقی یورپی رکن امریکی میزائل ڈیفنس سسٹم نصب کرکے اس معاہدے کی پہلے ہی خلاف ورزی کی ہے۔
روسی صدرنے کہاہے کہ اب ماسکونئے میزائلوں کی تیاری اورموجودہ نظام کی تبدیلی پرکام شروع کردے گا تاہم جب تک امریکہ فیصلہ نہیں کرتااس وقت تک ہم ہتھیارنصب نہیں کریں گے۔اب اینٹ کاجواب پتھرسے دیتے ہوئے ہم بھی امریکی شراکت داری کی طرح اس معاہدے کومعطل قراردے رہے ہیں ،واضح رہے کہ آئی این ایف معاہدہ زمین سے مارکرنے والے میزائلوں کے حوالے سے تھاجن کی حدپانچ سو کلومیٹراورپانچ ہزارپانچ سوکلومیٹرکے درمیان تھی۔ تجزیہ نگاروں نے خبردارکیاہے کہ میزائلوں پرکنٹرول کے معاہدے کے خاتمہ اور یورپ سے میزائل ڈیفنس سسٹم کی تنصیب سے یورپی یونین کے ممالک کیلئے خطرہ ہوسکتا ہے۔ خارجہ تعلقات پریورپی کونسل کے شریک چیئرمین نے آئی این ایس کے خاتمہ کی صورت میں یورپ کوروسی زمینی لانچرسے پندرہ سوکلومیٹررینج کے کروزمیزائل سے ہی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ روس کے معاہدے سے نکلنے کے اعلان سے پہلے چین نے محاذآرائی ٹالنے کی کوشش کی تھی۔ ادھرامر یکہ میں کانگرس نے پینٹاگون کونئے میزائل کی تحقیق اورتیاری کیلئے فنڈزمہیاکردیئے ہیں تاہم امریکی حکام نے زرودیاہے کہ امریکہ یورپ میں فوری طورپردرمیانی حدکے میزائل کی تنصیب کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
واضح رہے کہ کئی ماہ کے مذاکرات کے بعدبھی کسی سمجھوتہ تلاش کرنے میں ناکامی کی وجہ سے گزشتہ دنوں امریکہ نے معاہدہ معطل کیا اور جوابی اقدام کے طورپرروس بھی سردجنگ کے دوران ہونے والے اس میزائل معاہدے آئی این ایف سے نکل گیا۔صدر پیوٹن نے کہاکہ روس اسلحہ کی دوڑشروع نہیں کرنا چاہتاتھااب ملک کی فوج فعال میزائل پروگرام کیلئے زمینی لانچنگ سسٹم کی تیاری پرکام شروع کررہی ہے اورہائپرسونگ گراؤنڈ بیس انٹرمیڈیٹرینج میزائل کی نئی تیاری شروع کرے گا۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ پہلے تو اس معاہدے کو چھ ماہ کیلئے معطل کرے گا اور اگر روس اس تنازعہ کو طے کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو پھر امریکہ  مستقل طور پر دستبردار ہو جائے۔روس کے نائب وزیرخارجہ سرگئی ریاب کوو نے کہا ہے کہ امریکہ کی اس معاہدے سے دستبرداری ناگزیر ہے اور امریکہ کے اس اقدام سے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی عالمی کوششوں کو شدید جھٹکا لگے گا۔برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن امریکہ کو اس معاہدے سے دستبرار کرانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ امریکی محکمہ دفاع اس کوشش کے خلاف ہے۔ 
سٹارٹ یعنی سٹریٹجک آرمز ری ڈکشن ٹریٹی، جو تخفیفِ اسلحہ کا ایک عالمی معاہدہ ہے 1991میں روس اور امریکہ کے درمیان طے پایا تھا اور یہ 1994میں نافذ العمل ہو گیا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد اس وقت کی دو عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری ہتھیاروں اور دور تک مار کرنے والے میزائلوں اور وسیع سطح پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی کمی کرنا تھا۔ 
گزشتہ روز امریکہ اور روس کے نمائندوں نے بیجنگ میں آئی این ایف کو بچانے کی کوششوں کے سلسلے میں مذاکرات کیے تھے جو اب ناکام نظر آرہے ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر روس نے اس معاہدے کی خلاف ورزی میں یورپ میں لگائے گئے میزائلوں کو تباہ نہ کیا تووہ آئی این ایف سے  فوری علیحدہ ہو جائے گا ۔ ماسکو نے امریکی مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ’’ نو واٹور9ایم 729‘‘میزائل اس معاہدے کی حدود و قیود کے مطابق لگائے گئے ہیں۔

   

 

تازہ ترین خبریں