07:59 am
سات پردوں میں چھپی بات

سات پردوں میں چھپی بات

07:59 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستان نے بھی اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ عالمی برادری بھی پہلی بار اپنے خواب سے بیدار ہوئی۔ پاکستان پر لگائے جانے والے  دہشت گرد کے لیبل پر گرد پڑنے گی۔
بھارتی افواج اور خاص کر بھارتی فضائیہ کی کمزوریوں کا تذکرہ شروع ہوا۔ مودی نے کہا کہ اگر ان کے پاس رافیل طیارے ہوتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔ ان کے سیاسی حریف راہول گاندھی نے ان پر رافیل طیاروں کی ڈیل میں گھپلے کے الزامات لگا دیئے۔ وزارت دفاع سے رافیل کیس کی فائل ہی گم ہوگئی۔ مودی کی عوامی مقبولیت پھر سے گرنے لگی۔
 
اب ذرا پھر رک کر سوچتے ہیں کہ کیا پہ پلوامہ حملے کا مقصد تھا۔ جی نہیں ابھی اور بہت کچھ سوچنا باقی ہے۔
یہ خبریں بھی پھیل گئیں کہ بھارتی حملوں میں اسرائیل کی مدد بھی شامل تھی اور بالواسطہ امریکہ بھی اس کار خیر میں شامل تھا۔ مقصد یہ تھا کہ پاکستان پر  محدود حملے کرکے ایٹمی جنگ سے نیچے نیچے رہ کر پاکستان کو اس کی کم مائیگی کا احساس دلادیا جائے اور اس پر بھارتی تسلط قائم کر دیا جائے۔ پاکستان ویسے ہی اقتصادی مشکلات میں پھنسا ہوا ہے۔
 اسے چند فضائی حملوں کے بعد چھوٹی موٹی مراعات دے کر بھارت کا محکوم بنا دیا جائے گا اور اس کا چین سے ناطہ توڑ دیا جائے گا تاکہ امریکہ اور اسرائیل بھارت کے توسط سے چین کو بے اثر کرکے سارے ایشیا پر اپنی اجارہ داری قائم کرسکیں۔ ایسا ہو نہیں سکا یہ علیحدہ بات ہے مگر تھیوری پیش کرنے والوں کا اصرار ہے کہ اصل مقاصد یہی تھے۔مجھے اس سے بھی اختلاف ہے۔ بات اس سے زیادہ گہری ہے۔
پلوامہ حملہ یقینا مودی اور اجیت ڈوول کے گندے دماغوں کی اختراع تھی مگر انہوں نے آزاد کشمیر میں ایک آدھ کیمپ تباہ کرنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں سوچا تھا۔ اسرائیل اور امریکہ کے دل میں کچھ بھی رہا  ہو وہ براہ راست اس کام میں ملوث نہیں ہوسکتے تھے۔ ایک اسرائیلی پائلٹ کی پاکستانی افواج کی قید میں موجودگی بھی محض ایک افواہ ہے۔ اگر ابھی نندن کو واپس کیا جاسکتا ہے تو اس اسرائیلی کو بھی سر پر چٹیا پہنا کر ہندو بناکر بھارت کے حوالے کیا جاسکتا تھا۔ نہیں جناب یہ جو سب کچھ ہوا ہے اس کے صرف سیاسی مقاصد نہیں تھے اور نہ یہ کوئی اسرائیل امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کی علامت ہے۔ یہ تینوں حکومتیں  تو خود ایک سازش کا شکار پائی گئی ہیں۔ جی ہاں بھارت حکومت ایک بڑی سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک مخصوص راستے کی طرف لے جائی جارہی ہے۔
اور یہ ہے وہ سات پردوں میں چھپی ہوئی  اصل وجہ جس کے لئے پلوامہ کا ڈرامہ کھیل گیا۔ آزاد کشمیر پر حملہ کر وایا گیا اور بھارت کے عمررسیدہ طیاروں کو گروایا گیا اور یہ سازش کرنے والے لوگ  ہیں عالمی اسلحہ کے تاجران جو اب بھارت سے اربوں ڈالر بٹوریں گے۔
آپ دیکھیں گے کہ اب بھارت  اور عالمی جرائد پر بھارت کی کمزور فضائیہ پر مضامین شائع ہوں گے‘ تحقیقاتی مقالے پڑے جائیں گے۔ باور کروایا جائے گا کہ بھارتی طیارے اور دیگر تمام جنگی سازو سامان اب پرانا اور ناکارہ ہوچکاہے۔ ان سب کو باہر پھینک کر جدید طیارے‘ جدید ٹینک‘ جدید آبدوزیں‘ جدید اسلحہ خریدنے کی ضرورت ہے۔ بھارت کے پاس اچھا خاص زرمبادلہ موجود ہے وہ سارا کا سارا یہ بین الاقوامی اسلحہ کے تاجر ہڑپ کرنا چاہتے ہیں۔
خدا کا شکر ہے کہ پاک فوج اور پاک فضائیہ کی چابک دستی کی وجہ سے پاکستان اس سازش کا شکار ہونے سے بچ گیا۔ یہ جو مختصر سی جنگ کی جھڑپ ہوئی ہے وہ بھارت کو اگلے چند سالوں میں کنگال کر دے گی۔ اگر بھارتی سیاستدانوں میں تھوڑی سی بھی فراست اور تدبر ہو تو وہ اسلحہ کی دوڑ چھوڑ کر پاکستان سے اچھے تعلقات استوار کرلیں۔ بھارت کشمیر پر مذاکرات کرے اور پاکستان کے ساتھ تجارتی رابطے بحال کرے اور اپنی عوام کی خوشحالی کے لئے کام کرے اور اس طرح اس خطے میں بھی امن قائم کرنے میں مدد  کرے۔

تازہ ترین خبریں