08:00 am
دہشتگردی فساد ہی کی ایک شکل ہے

دہشتگردی فساد ہی کی ایک شکل ہے

08:00 am

دہشتگردی فساد ہی کی ایک شکل ہے اور قرآن کے مطابق دنیا کے امن و امان کو تہ وبالا کرنے والی شے ہے۔یہ دوچیزوں پر مشتمل ہے ایک فرعونیت ہے اور دوسری قارونیت۔سب سے بڑا فسادی فرعون تھا جس نے زمین میں اپنے لئے رب اعلیٰ کا نعرہ بلند کیا۔اس کا دعویٰ تھاکہ خدائی اختیار میرے پاس ہے۔ میرا حکم چلے گا۔کسی آسمانی ہدایت کو میں نہیں مانتا ۔اپنی فرعونیت کی بنیاد پر اپنے باشندوں کو اس نے دو حصوں میں تقسیم کیا ۔ایک پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور بیٹیوں کو زندہ چھوڑتا تھا ۔یقینا وہ بہت بڑا فسادی تھا۔جب طاقت ہاتھ میں آجائے اور آدمی آسمانی ہدایت سے منقطع ہو تو یہ بنیاد فتنہ و فساد کی بن جاتی ہے جس سے دہشتگردی جنم لیتی ہے۔اسی طرح قارونیت بھی فساد کی جڑہے۔قارون تو اگرچہ موسیٰ  ؑ کی قوم میں سے تھا ۔جب محکوم قوم کے لوگ خوشامدی اور درباری بن جاتے ہیں تو انہیں نوازا جاتا ہے۔جباسے نوازا گیا اور قارون کے پاس دولت آئی تو اس نے بھی سر کشی اختیار کی۔دوسروں کا استحصال کرنا شروع کردیا۔قوم نے اسے سمجھا یا کہ تمہیں جو دولت ملی ہے اسے اپنی آخرت بنانے کا ذریعہ بنائو اور اسے زمین میں فساد پھیلانے کا ذریعہ مت بنائو۔اللہ تعالیٰ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔اس نے جواب میں یہ کہا کہ مجھے جو یہ دولت ملی ہے یہ میرے علم کا نتیجہ ہے۔لہٰذا میں اسے جیسے چاہوں خرچ کروں۔آج فرعونیت اور قارونیت ہی ہے جس نے پوری دنیا میں سیاسی اور معاشی اعتبار سے فساد مچا رکھا ہے۔جمہوریت کے نام پر بدترین
جابرانہ اور استحصالانہ نظام اور معاشی سطح پربدترین سودی معاشی نظام وجود میں لایا گیا ہے ۔
اب دیکھیں کہ دہشتگردی کہاں سے آئی؟یہ فرعونیت کا مظاہرہ کون کررہا ہے؟جس طرح فرعون نے بنی اسرائیل پر ظلم و ستم توڑے تھے، آج یہ ظلم کون کررہا ہے؟فلسطین میں جرم کا مرتکب کون ہورہا ہے؟ان کے ساتھجو  بدترین ظالمانہ سلوک ہورہا ہے تو ان ظالموں کی پشت پناہی کون کررہا ہے؟اقوام متحدہ میں قراردادیں منظوری کے لئے پیش کی جاتی ہیں۔پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ اسرائیل دہشتگرد ہے۔لیکن ان قراردادوں کو ویٹو کردیا جاتا ہے۔اصل دہشتگرد ویٹو کرنے والے ہیں۔افغانستان پر بلا ثبوت حملہ کیا گیا۔وہاں کا امن تہہ و بالا کردیا گیا۔اس سے سب واقف ہیں۔آج اسے فری سوسائٹی بنادیا گیا ہے۔عراق میں دہشتگردی کی مرتکب یہی قوتیں ہیں۔ یہ سب کچھ یہودیوں اور امریکہ کی ملی بھگت سے ہورہا ہے۔اسرائیل اور امریکہ میں کوئی مارا جائے تو کہرام مچ جاتا ہے۔کیا افغانستان میں جارحیت کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے انسان نہیںتھے؟واقعتا بڑے پیمانے پر دہشتگردی ہورہی ہے لیکن اس میں کون ملوث ہے؟کبھی کبھی حق بات ادھر سے بھی آجاتی ہے۔لندن کے میئراور انگلینڈ کے تھنک ٹینک نے بھی کہا ہے کہ اگر دہشتگردی میں لوگ ملوث ہیں بھی تو یہ ہمارے مظالم کا نتیجہ ہے۔عراق میں جرم و زیادتی ہم سے ہوئی ہے۔یہ تو ایسا ہی ہے کہ کسی بلی کے پیچھے آپ ڈنڈا لے کر پڑجائیں ، مارماکر اسے دیوار سے لگادیں اور جب وہ آپ پر جھپٹا مارے تو آپ کہیں کہ یہ بلی بڑی دہشتگرد ہے۔دہشتگرد کے تعین میں خواہ آپ تاریخ کی گواہی لے لیں یا آج کے حالات ۔ہمارے ایک صدر صاحب نے بھی ایک مرتبہ یہ کریڈٹ لیا تھا جب انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہشتگردی کے وجوہات کو تلاش کرنا چاہئے۔اصل سوال یہ ہے کہ اس کا نزلہ ہم پر کیوں گرتا ہے؟پاکستان نے کیا جرم کیا ہے جو ہر جرم کا کھرا اس تک پہنچا دیا جاتا ہے۔کیونکہ زبردست کا ٹھینگا سر پر ہوتا ہے۔اپنی قوت کو سیاہ کو سفید قراردئیے جانے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ہمارا کیا قصور ہے کہ ہم پر چڑھائی کی جارہی ہے؟اللہ تعالیٰ دنیا کے انسانوں میں سے بعض کو ان کے جرائم کی سزا چکھا دینا چاہتا ہے تاکہ وہ ہوش میں آئیں۔ہمیں اللہ تعالیٰ تنبیہ فرمارہا ہے کہ یہ تمہارے جرائم کی سزا ہے۔ہم اب بھی اللہ کا دامن تھام لیتے اورپاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنا لیتے تویہ پوری دنیا کے لئے مینارئہ نور بنتی ۔اللہ نے انگریز اور ہندوؤں کی دوہری غلامی سے ہمیں نجات دی تھی۔پاکستان کے قیام کے بعدہی سے ہم مادیت پرستی کی دوڑ میں شامل ہوگئے۔استثناعات بھی ہیں لیکن اللہ کا حکم اکثریت کی بنیاد پر لگتا ہے۔کس طبقے میں کرپشن نے نفوذ نہیں کیا؟حتیٰ کہ مادیت پرستی اور کرپشن دینی طبقات میں بھی ہے۔البتہ علمائے حق سے دنیا کبھی خالی نہیں ہوتی۔پاکستان میں کون ساایسا طبقہ ہے جس کے بارے میں کہا جائے کہ یہ آئیڈیل طبقہ ہے؟سب سے بڑا جرم یہ کہ اسلامی نظام نافذ نہیں کیا بلکہ باطل نظام کو تحفظ دینے میں مصروف ہیں۔اگر اسلام کے حوالے سے کوئی پیشرفت ہوئی بھی تھی اس کی بھی نفی کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت حسبہ بل لے آئی تھی جو سورئہ حج میں وارد حکمراں طبقات کے کرنے کا کاموں میں سے ایک تھا یعنی امربالمعروف اور نہی عن المنکرکا نظام قائم کرنا ۔ اس وقت یہ محسوس ہوتا تھا گویا ایم ایم اے کی جانب سے گناہ کبیرہ کا ارتکاب ہورہا ہے۔اس بل کا حشر بھی سامنے آگیا۔
آزمائش میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مبتلا کرتا ہے تو اس کی ایک حکمت یہ ہوتی ہے کہ اس کے نتیجے میں سچے مسلمان ممیز ہوجائیں۔آگے جو امتحان آنے والا ہے کہ جو ایڈیشن ہم اسلام اور قرآن کا پیش کررہے ہیں اس کے لئے دبائو ہوگا کہ اس اسلام کو تسلیم کرو تو ہم تم سے راضی ہوں گے۔ورنہ اگر تم دین محمدی پر قائم رہو گے تو ہمارے نزدیک تم انتہا پسند اور دہشتگرد ہوگے۔  اس جانب کاروائی کا آغاز ہوچکا ے۔روایات میں آیا ہے کہ دجالی دور میں اسلام پر قائم رہنا اتنا مشکل ہو گا جتنا ہتھیلی پر انگارے کو برداشت کرنا۔ہمارے لئے اس میں لائحہ عمل یہ ہے کہ اپنے چہرے کو یکسوئی کے ساتھ دین قیم کی طرف متوجہ رکھیں۔وہ دین جو ہمیں محمد رسول اللہﷺ کے توسط سے عطا ہوا ہے۔ابھی تو ہمیں وارننگ کے طور پر مختلف آفات کے جھٹکے دئیے جارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی جانب سے آخری فیصلہ بھی آسکتا ہے جسے کوئی لوٹانے والا نہیں ہوگا۔اسپین میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوچکا ہے وہ کچھ زیادہ پرانا واقعہ نہیں۔وہاں اسلام اور مسلمانوں کا نام ہی مٹادیاگیا۔ہم پر اللہ کا اتنا بڑا انعام ہولیکن ہم نے اس کی جو ناقدری اور ناشکری کی ہے،، اس کا وبال تو ہمیں بھگتنا ہی ہے۔اس سے نکلنے کا راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے رخ کویکسوئی کے ساتھ دین قیم کی طرف کرلیں۔

تازہ ترین خبریں