09:27 am
عوام اور عوامی نمائندے

عوام اور عوامی نمائندے

09:27 am

یہ خبریں محض چند روز کی ہیں جبکہ الیکٹرانک میڈیا تو دن رات نت نئی خبریں دے رہا ہوتا ہے ۔ اور اخبارات میں بھی مختلف آرا سے عوام مستفید ہوتے رہتے ہیں ۔ پنجاب اسمبلی نے حالیہ ٹرم کا واہد بل ہے جو مکمل اتفاق رائے سے محض دو تین دنوں میں منظور کیا ہے جبکہ عوامی مسائل سے متعلقہ درجنوں بل ابھی تک قائمہ کمیٹیوں کی نظر عنایت کے منتظر ہیں کہ کب ان پر گفتگو ہو۔ حالیہ منظور شدہ بل بھی محض چند روز کی تاخیر سے خاموشی کے ساتھ نافذ ہو جائیگا ۔اور اس پر شاید میڈیا میںبھی مزید گفتگو نہیں ہوگی ۔ کیونکہ یہ عوامی نمائندوں کے مفاد میں ہے ظاہر ہے اگر عوامی نمائندوں کی تشفی ہوگی تو عوام کی تشفی ہوگی یوں بھی مقننہ عوام کی خواہشات کی آئینہ دار ہوتی ہے سو یہ بھی عوام کی ہی خواہش تصور کی جانی چاہیئے کہ ان کے نمائندے مالی لحاظ سے بھی خوشحال رہیں ۔ شب وروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کا بھی یہی تقاضا ہے کہ اچھی حکومت کو عوام کے نمائندوں کا خیال رکھنا چاہیئے ۔ 
 پنجاب اسمبلی نے اپنے ممبران سپیکر اور وزیراعلی کی تنخواہوں میں اضافے کا جو بل اتفاق رائے سے منظور کیا تھا وزیراعظم عمران خان نے اس پر عملدرآمد روک دیا ہے ۔ وزیر خزانہ اسد عمر کہتے ہیں آنے والے دنوں میں مہنگائی تو ہوگی اور عوام کی چیخیں بھی سنائی دیں گی مگر کیا کریں مستقبل کی خوشحالی کے لیے معیشت کو منظم کرنا اور مثبت راہ پر لانے کے لیے یہ ضروری ہے ۔ نواز شریف کو روزانہ انجائنا کی تکلیف رہتی ہے مگر وہ ہسپتال جانے پر راضی نہین کیونکہ ان کے اپنے ساتھیوں کے خیال میں پاکستان میں کسی ہسپتال میں مناسب سہولیات نہیں جہاں ان کا علاج کیا جا سکے نواز شریف سے اظہار یکجہتی کے لیے بلاول بھٹو نے جیل میں ان سے تفصیلی ملاقات کی ۔حکومت کے مذاکرات آئی ایم ایف سے عنقریب ہونگے اخبار میں رپورٹس کے مطابق پنجاب کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ ریسرچ سنٹر کے بارے میں لیا گیا سابق چیف جسٹس صاحب کا سوموٹو ایکشن نمٹا دیا گیا ہے ۔
اسد عمر صاحب بھی ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ مہنگائی تو بڑھے گی اور عوام کی چیخیں بھی نکلیںگی کیونکہ جب تک آمدنی بڑھانے اور مزید روزگار کے مواقع نہیں پیدا ہونگے مہنگائی کا احساس بڑھتا ہی رہے گا۔ بچت اور بعض صورتوں میں ضروری اخراجات میں کمی کرنے سے تو معیشت بہتر نہیں ہوا کرتی ۔ اقتصادی پالیسیوں میں استحکام اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرکے ہی معیشت کا پہیہ آگے بڑھے گا ۔ ہر چھوٹے بڑے پراجیکٹ میں نیب کو کرپشن نظر آتی ہے مگر بدقسمتی سے جب یہی کیس عدالتوں میں جاتے ہیں تو کچھ ثابت نہیں ہو پاتا ۔ نواز شریف دور میں سیف الرحمن دہشت کی علامت تھے۔ بی بی اور زرداری کے خلاف کیس بنوائے گئے بیرون ملک تفتیشی ٹیمیں گئیں کروڑوں ڈالر خرچ کیے مگر کچھ نہ ہوا 10 سال جیل میں رہنے کے بعد زرداری اقتدار میں بھی آئے 5 سال صدر مملکت رہے اور اب پھر ان کے خلاف کیس بن رہے ہیں جو نہ جانے کس رخ جائیں۔ پھر مشرف دور میں نواز شریف کے خلاف کیس بنے سزائیں ہوئیں پھر نواز شریف واپس آئے وزیراعظم بنے اور شہباز وزیراعلٰی بنے اب پھر نواز شریف کے خلاف کیس بنے ۔ جے آئی ٹی بنی ایک جامع تفتیشی عمل کیا گیا مگر نہ جانے کیوں جو بتایا جا رہا تھا وہ ثابت نہ ہوا اور جو بظاہر نہیں دکھائی دے رہا تھا اس پر سزا بھی ہوئی ۔ شہباز کو 90 روز نیب نے مہمان رکھا۔ پھر کیس بنایا ۔ بدقسمتی سے عدالت سے بھی یہی پتہ چلا کہ نہ صاف پانی کیس میں کوئی کرپشن کا ثبوت ملا ہے نہ ہی کسی دوسرے پراجیکٹ میں ۔ شہباز بدستور لیڈر آف اپوزیشن بھی ہیں چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی بھی ہیں۔
اس سارے تناظر میں اگر دیکھاجائے کہ نواز شریف جیل میں رہنے پر بضد ہین تو دکھائی یوں دیتا ہے کہ وہ اپنا ووٹ بینک قائم رکھنا چاہتے ہیں ۔ احتجاج اور جلوس کبھی مسلم لیگ کا کلچر نہ تھا نہ ہے ۔ کلف والے سوٹ پہننے والے سڑکوں پر نکلنے سے ہمیشہ گریزاں رہے ۔ البتہ الیکشن میںوہ ضرور اپنی تعداد بتا دیتے ہیں اور شاید نواز شریف یہی چاہتے ہیں کہ جیل میں تمام طبی اور دیگر سہولتوں سے آراستہ گیسٹ ہائوس میں رہیں تاکہ ان کے ووٹر کے پاس یہ جواز رہے کہ ان کے لیڈر نے بڑی جوانمردی سے جیل کاٹی ۔ یہی سبق انہوں نے بلاول کو بھی دیا ہے کہ وقت کا انتطار کرو۔ اس سلسلے کافی حد تک ان کی دست گیری خود پی ٹی آئی کی حکومت کرر ہی ہے کہ آئے روز اشیائے صرف کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔میڈیا جو کبھی پی ٹی آئی کی شان میں قصیدے پڑھا کرتا تھا اب خود پریشانیوں سے دو چار ہے میڈیا مالکان بزنس نہ ہونے کا باتیں کرکے ورکرز کو بے روزگار کیے جا رہے ہین اب تو بڑے بڑے میڈیا ہائوسز بھی 30 سے چالیس فیصد تک ورکرز کو فارغ کر چکے ہیں سرمایہ کار اپنی صنعتیں دوسرے ملکوں میں لے جا رہے ہیں جہاں انہیںمنافع کے بہتر مواقع میسر ہوں بیورو کریسی نیب کے خوف سے کام کرنے سے گریزاں ہے اور یوں لوگوں کے جائز کام بھی رکے پڑے ہین۔ فنڈز کی عدم دستیابی کی بنا پر پی ایس ڈی پی میں بھی بڑی حد تک کمی کردی گئی ہے ۔ بالعموم پی ایس ڈی پی کو گروتھ انجن تصور کیا جاتا ہے کیونکہ بڑے پراجیکٹس شروع ہونے دیگر بہت سی وابستہ صنعتیں فروغ پاتی ہیں یوںغربت اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور یہ صورت حال کسی نہ کسی طرح سابقہ حکمرانوں کے حق میں جا رہی ہے آخر کوئی کب تک ساری صورت حال کی خرابی کا ذمہ دار سابقہ حکمرانوں کو ہی تسلیم کرتا رہے ۔ کوئی قدم تو آگے بڑھنے کی سبیل نظر آئے ۔ اور اب تو حج پر بھی ڈیڑھ لاکھ سے زائد کا خرچہ بڑھا دیا گیا اور ستم یہ کہ اسے جسٹی فائی کرنے کے لیے دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جو صاحب استطاعت نہیں وہ حج نہ کرے پھر کہا گیا کہ سبسڈی جو حج پر دی جاتی تھی وہ ختم کردی ہے حالانکہ حج پر کبھی سبسڈی تھی ہی نہیں۔
جناب عمران خان یقینا ایک محب وطن مخلص اور دلیر حکمران ہیں ۔ وہ اپنے ساتھیوں سمیت گزشتہ 22 سال سے جو دعا کرتے(باقی صفحہ 6بقیہ نمبر7)
 رہے اللہ نے قبولیت بخشی ۔ ہر تقریر سے پہلے وہ ایاک نعبد وایاک نسعتین پڑھتے ۔ اور یوں اللہ نے ان کی مدد کی اقتدار مل گیا مگر دعا تو ابھی آگے بھی ہے اھدنا الصراط المستقیم یوں دعا ابھی نامکمل ہے آدھی قبول ہوئی پی ٹی آئی کو دل کریہ دعا مکمل کرنا چاہیئے تاکہ انہیں رہنمائی بھی ملے اس راستے پر چلنے کی جس پر چل کر اللہ کا انعام ملتا ہے ۔ 
ریاست مدینہ کے والی آقائے دو جہاں تو سب کو ساتھ لے کر چلے تھے آپ سراپا محبت سراپا ایثار عفو ودرگذر کا نمونہ ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو ماڈل بنائیں۔ لوگوں میں آسانیاں بانٹیں اللہ ان کے لیے بھی آسانیاں فرمائیں گے۔ جس طرح نیب اور دیگر ادارے ڈر اور خوف کی فضا پیدا کرکے آہستہ آہستہ سیاسی مخالفین کے دلوں سے خوف بھی ختم کررہے ہین ۔ اس سے صورت حال بہتر تو ہو نہیں سکتی البتہ خراب ضرور ہو رہی ہے ۔
 

تازہ ترین خبریں