09:35 am
ریگولیٹر اور مفادات کا تصادم 

ریگولیٹر اور مفادات کا تصادم 

09:35 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
پاکستان کی تمام 18ریگولیٹر باڈیز حکومت کے ماتحت ہیں اور ان میں تعیناتی اور برطرفی کا اختیار بھی حکومت کے پاس ہے۔ ہمارے ہاں ریگولیٹری ادارے حکومت کے آگے بے بس نظر آتے ہیں اور اپنے آئینی اختیارات سے بھی دست بردار ہوچکے ہیں۔ دنیا کے برعکس پاکستان میں ریگولیٹری ادارے اپنے غلط کاموں کے باعث خبروں میں آتے ہیں۔ کسی بھی شعبے یا صنعت سے متعلق فرد ان اداروں میں تعینات ہوسکتا ہے۔ کوئی بھی ریگولیٹر کسی ایسے شعبے یا صنعت کی نگرانی یا ضابطہ بندی کیسے کرسکتا ہے، جس سے وہ خود منسلک ہو؟ لیکن ہمارے ہاں یہ روا رکھا گیا ہے۔ کسی بھی ریگولٹر ادارے کے سربراہان کی تعیناتی شفافیت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ آزادنہ فیصلوں اور کارکردگی کے لیے کونفلیکٹ آف انٹرسٹ یا مفادات کے تصادم کے اصول پر واضح انداز میں عمل ہونا چاہیے۔ پاکستان میں کسی ریگولیٹری ادارے سے وابستہ شخص کسی دوسرے کمرشل ادارے میں کام کرسکتا ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا۔
 
 ایسی صورت میں فیصلہ سازی کسی ذاتی، معاشی یا دیگر مفادات سے اثر انداز ہوسکتی ہے اور اسے خارج از امکان بھی نہیں کہا جاسکتا، یہیں سے مفادات کے تصادم کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ 
بیک وقت دو عہدوں پر کام کرنے اور ایک عہدے سے اپنی ریگولیٹر کی حیثیت میں کہیں زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے ریگولیٹر کی غیر جانب داری اور شفافیت کا تاثر قائم نہیں ہوپاتا۔ شفافیت کے لیے افواج پاکستان اور سرکاری ملازمین کی طرح ریگولیٹرز کو بھی پابند بنانے کی ضرورت ہے کہ جس طرح ان شعبوں میں ملازمت سے سبکدوشی کے بعد کم از کم دو برس تک وہ کوئی دوسرا سرکاری منصب نہیں لے سکتے، ریگولیٹرز کے لیے بھی اسی طرز پر ضابطے بنائے جائیں۔اس میں بنیادی ترین بات یہ ہے کہ کسی بھی ریگولیٹر کو سبکدوشی کے پانچ برس تک کسی ایسے ادارے سے منسلک ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، جس کی نگرانی ان کے ذمے رہی ہو۔ یہ تشویش کی بات ہے کہ ریگولیٹری اتھارٹیز کے کئی ممبران کی تقرریاں کئی مواقع پر عدالت میں چیلنج ہوچکی ہیں۔ 
مفادات کا یہ تصادم کسی خاص صنعت کو مدد فراہم کرنے کے لیے ضوابط بنانے، کسی خاص مفاداتی گروہ یا فرد کی معاونت، کسی ضابطے کے نفاذ میں تاخیر یا پس و پیش یا زیر اختیار کسی ادارے یا فرد سے خصوصی سلوک جیسی راہیں کھولتا ہے۔ یہاں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ریگولیٹری اداروں کے ایسے افراد جو اپنے ہی ادارے کے ماتحت آنے والے کسی اور ادارے سے وابستہ رہے ہوں، رعایت دیتے ہیں۔ اس کے لیے احتساب اور جوابدہی کا کڑا انتظام ہونا چاہیے تاکہ کوئی بھی ذمے دار اس بدعنوانی کا مرتکب نہ ہوسکے۔ 
افواج پاکستان کے ضوابط کے مطابق سبکدوشی کے دوبرس کے اندر نجی شعبے میں ملازمت کے لیے خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے۔ اب اس پر غور کیجئے کہ غیر ملکی ٹیلی کوز سابق انٹیلی جنس حکام کو ملازمت پر رکھ رہی ہے، یہ سابقہ اداروں پر سمجھوتا ہے۔ سوچئے کہ پاکستان میں سب سے بڑی ٹیلی کوم کمپنی کی مالک  نے کیوں 850ملین ڈالر ادا کیے۔ اسی طرح پاکستان کی دوسری بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کی کمپنی کو ناروے کی حکومت نے ضابطے کی خلاف ورزی پر جرمانہ کیا۔ دنیا میں نفاذ قانون کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے واشنگٹن میں قائم تنظیم ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کے جاری کردہ رول آف لا انڈیکس رپورٹ 2019ء کے مطابق پاکستان میں ریگولیٹری نظام کی ناقص صورت حال کی بنا پر اسے 126ممالک میں سے 116ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ یہ حکومت کے لیے گہری تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ ہمارے ریگولیٹری اداروں کی کارکردگی کسی صورت اطمینان بخش نہیں، یہ ضوابط کی تشکیل و تعمیل کے بجائے کئی تنازعات اور مالی گھپلوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ 
ضابطہ بندی کو مؤثر بنا کر ہی ملک میں اچھی حکومت کاری(گورننس) اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے زیادہ تر ریگولیٹرز اپنی ذمے داریاں قابل اعتماد انداز میں ادا کرنے کے اہل ہی نہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومتوں کو بھی ان اداروں کی صلاحیت کار اور کارکردگی بہتر بنانے میں دلچسپی نہیں۔ ان اداروں میں موجود کرپٹ عناصر کی جگہ دیانت دار اور پیشہ ورانہ ماہرین کا تقرر ہونا چاہیے۔ (فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں) 

تازہ ترین خبریں