09:37 am
میثاق جمہوریت کی بازگشت

میثاق جمہوریت کی بازگشت

09:37 am

وقت کیساتھ اپنے آپ کو تبدیل کرنا ایک اچھی صفت کہی جا سکتی ہے اور شاید یہی فطرت کو مطلوب ہے۔ اقبال نے اس کو موضوع سخن بنایا تو فرمایا
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
انسانی فطرت میں یکسانیت نہیں ہے چنانچہ تادیر قائم ودائم وہی رہتا ہے جو اپنے آپ کو بدلتا ہے۔ یوں تو ہماری بزم سیاست کی مثال ٹھہرے ہوئے پانی کی ہے مگر ایک دستاویز نے تھوڑے عرصے کیلئے لہروں میں تلاطم پیدا کیا، اہل سیاست نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کا اعلان کیا تو اسے خوش آ ئند سمجھا گیا مگر جب عمل کرنے کا مرحلہ آیا تو احساس ہوا کہ میثاق جمہوریت حقیقی تبدیلی کی دستاویز نہیں ہے، بلکہ شقوں کا مطالعہ کریں تو آپ کو احساس ہوگا کہ یہ عہدنو کا چارٹر ہے لیکن چند نمائشی اقدامات اس دستاویز سے حاصل ہونے والا کل اثاثہ ہیں۔ اقبالؒ یاد آتے ہیں
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایمان کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
جن کا خمیر موقع پرستی سے اٹھا ان سے قوم نے تبدیلی کی آس لگائی جو بالآخر مایوسی پر اختتام پذیر ہوئی انداز بدلا مگر خوئے ستم گر نہ بدلی۔ قوم کو بے وقوف بنانے کیلئے پرانے حربے آزمائے گئے۔ دوچار ظاہری شقوں پر عملدرآمد کیا گیا مگر جو اس دستاویز کی اصل روح تھی وہ ان اقدامات سے غائب رہی۔ دو جماعتوں کے مابین ہونیوالے اس معاہدے پر لگنے والا الزام سچ ثابت ہوا کہ اپنی باریاں لگانے کے علاوہ میثاق جمہوریت کا حاصل وصول قوم کیلئے کچھ نہ تھا۔ 
آج ایک بار پھر اس معاہدے کی بازگشت ہے۔ بلاول بھٹو اور میاں نواز شریف کی ملاقات کے بعد قوم کو ایک بار پھر الجھایا جا رہا ہے۔ تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ جیسے بہت بڑے جمہوریت پرست ایک بار پھر قوم کے غم میں مبتلا ہیں اور ایک نئی جدوجہد کیلئے اتفاق ہو رہا ہے۔ ایک سوال ذہن میں آتا ہے اور یہ سوال میثاق جمہوریت کے تناظر میں اس لئے بھی بنتا ہے چونکہ قوم اپنے ان غمخواروں کا دس سالہ عہد بھگت چکی ہے جس میں ان کے اپنے قول کے مطابق میثاق جمہوریت پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ سوال یہ ہے کہ اب آپ کے ذہن میں ایسا کیا ہے جو آپ جمہوریت کے نام پر قوم کے سامنے پیش کرنا چاہ رہے ہیں اور جو دونوں جماعتیں اپنے اپنے پانچ سالہ دور میں نہیں کرسکی ہیں؟ 
حقیقت یہ ہے کہ قوم کی غمخواری محض ڈھونگ اور دکھاوا ہے، دراصل ان لوگوں کے دو چہرے ہیں ایک جب یہ حکومت میں ہوتے ہیں اور دوسرا جب یہ اقتدار سے باہر ہوتے ہیں۔ اقتدار کا حصول انہیں عزیز ہے اور اس تک پہنچنے کے تمام راستے بھی انہیں معلوم ہیں۔ یہ ایکٹنگ کر لیتے ہیں انہیں جمہوریت کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فن آتا ہے اور انہیں اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے بیرونی قوتوں کا سہارا لینے کا ہنر بھی معلوم ہے۔ موجودہ وقت میں ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں ایک جمہوری حکومت برسراقتدار ہے چنانچہ ان کو اپنا مقدمہ پیش کرنے میں رکاوٹ اور مشکل پیش آرہی ہے۔ انہوں نے پھر بھی سلیکٹڈ وزیراعظم کی گردان کی ہے تاکہ ثابت کر سکیں کہ یہ لڑائی جمہوریت نوازوں اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین ہے مگر بناوٹ کے اصولوں سے کیا کبھی سچائی چھپ سکی ہے۔
ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لینے کے فن میں ماہر ان پیشہ ور سیاستدانوں سے پوچھا جانا چاہئے کہ جمہوریت جن اصولوں پر کاربند رہ کر مضبوط ہوتی ہے ان سے آپ نے اپنے ادوار میں گریز کیوں کیا۔ اگرچہ آپ ان کو میثاق جمہوریت میں طے کرچکے تھے۔ انٹرا پارٹی جمہوریت کا اصول آپ نے اپنے پاوں تلے روند ڈالا حالانکہ میثاق جمہوریت میں آپ نے اس اصول کیساتھ اپنی مضبوط کمٹمنٹ کا اظہار کیا تھا۔ آج اس اصول سے صرف نظر کرنے کی وجہ سے آپ کی جماعتیں سیاسی جماعتیں کم اور مافیا جیسی زیادہ دکھائی دیتی ہیں۔ جماعت کی صدارت کیلئے کسی دوسرے شخص کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا اختیار دینے کے بھی آپ روادار نہیں ہیں۔ مسلم لیگ(ن) فیڈرل کیپٹل کے جنرل سیکرٹری جو بلحاظ عہدہ صوبائی تنظیم کے جنرل سیکرٹری کے برابر مرتبہ کے حامل ہیں پچھلے سال یہ مقدمہ لیکر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس گئے ہیں اور ان کا مقدمہ تاحال الیکشن کمیشن میں زیرسماعت ہے۔
 پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے آئین کی اوورہالنگ کے نام پر اٹھارہویں آئینی ترمیم پاس کرتے وقت آئین سے آرٹیکل17(4) نکال دیا گیا۔ جمہوریت اختیارات کی لامرکزیت کی بات کرتی ہے اور نچلی سطح پر عوام کو بااختیار بنانے کا نام ہے مگر دونوں جماعتوں نے لوکل گورنمنٹ الیکشنز سے گریز کی پالیسی اختیار کی اور سپریم کورٹ کے مجبور کرنے پر بادل نخواستہ انتخابات کرائے گئے۔ پنجاب میں اقتدار سنبھالنے کے سات سال بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوا جبکہ میثاق جمہوریت میں انہوں نے طے کیا تھا کہ عام انتخابات کے تین ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے۔ یہ ہے ان کا کچا چھٹا اور ان کا اصل چہرہ، آج پھر یہ عوام کو بے وقوف بنانے کا مشن لے کر نکلے ہیں اور ایک بار پھر میثاق جمہوریت کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ دوغلے پن کے حامل ان سیاسی حضرات کا وعظ کچھ اور ہے اور عمل کچھ اور۔ چنانچہ اب لگتا نہیں کہ تازہ سیاسی واردات کامیاب ہوسکے۔ لوگ ان کی حقیقت سے آگاہ ہیں اور ان کا استدلال یقینا ًاقبال کے اس شعر کی مانند ہوگا۔
یہ گھڑی محشر کی ہے‘ تو عرصہ محشر میں ہے
پیش کر غافل‘ عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

تازہ ترین خبریں