09:37 am
آپ کو یہ حق کس نے دیا؟

آپ کو یہ حق کس نے دیا؟

09:37 am

وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو اگر مزدور پر وزیر ،مشیر کو ترجیح دینے کا کسی نے حق اور اختیار دیا ہے توٹھیک، ورنہ یہ سب ملک کے 22کروڑ عوام کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے۔ جو پنجاب اسمبلی نے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں 133فی صدیک مشت اضافہ کرکے کیا ۔ مفاد عامہ کے لئے کسی قانون کو منظور کرنے میں سال اور مہینے لگ جاتے ہیں۔ مگر اس قانون سازی میں کمال کی برق رفتاری اور عجلت دیکھنے میں آئی۔ 24گھنٹے سے بھی کم وقت میں ایوان سے بل منظور کر الینا ریکارڈ ہے۔ وزیراعلیٰ سردار عثمان احمد خان بزدار اب 4لاکھ 25ہزارماہانہ تنخواہ وصول کریں گے۔ وہ وزیراعظم عمران خان سے دوگنا تنخواہ لیں گے۔ وزیراعظم کی کل تنخواہ ان سے کم ہے۔
 
 پنجاب کے موجودہ وزیراعلیٰ سمیت تمام سابق صوبائی وزرئاے اعلیٰ کو لاہور میں تا حیات گھر ملے گا۔ اس میں یہ شرط عائد کی گئی کہ صرف وہ وزرائے اعلیٰ اس قانون سازی سے مستفید ہو سکیں گے جن کے لاہور میں اپنے گھر نہ ہوں۔پہلے وزیراعلیٰ کو سرکاری رہائش عہدے کے اختتام تک میسر تھی۔ یہی نہیں پنجاب کے سابق اور موجودہ ارکان اسمبلی کو تا حیات مفت علاج کی سہولیت اب سے دستیاب ہو گی۔ 
یوں اسمبلی سے کسی قانون سازی کے لئے لا تعداد قانونی سقم اور پیچیدگیاں تلاش کی جاتی ہیں۔ بل کمیٹیوں اور ذیلی کمیٹیوں کو جائزوں کے لئے دیئے جاتے ہیں۔ جو طویل بحث و مباحثوں سے عرصہ دراز لگا دیتی ہیں۔ کبھی یہ بل کئی حجتوں کے ساتھ تاویلیں لگا کر واپس ہوتے ہیں کبھی یہ ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیئے جاتے ہیں۔ یا کبھی پیش کرنے والے ممبر کو بل واپس لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ لیکن جب وزیر اعلیٰ ، سپیکر، ڈپٹی سپیکر، وزیر مشیر، کمیٹیوں کے چیئر میں، ارکان کا یہ مجموعی مفاد ہو تو اس میں مزید دیر کیسے لگ سکتی ہے۔ اسمبلیاں عوامی مفاد میں کام کرتی ہیں۔ سیاست کو یہ سب عبادت کا درجہ دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سیاستدان خدمت خلق کرتے ہیں۔ اس عوامی خدمت کے صلے میں عوامی ٹیکس پر چلنے والے خزانے سے لاکھوں روپے کی تنخواہ اور مراعات کی بھر مار سر پلس ہے۔ پی ٹی آئی حکومت خالی خزانے کا رونا روتی ہے۔ عوام پر آئے روز ٹیکسوں پر ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔ لوگ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ عام آدمی کی قوت خرید بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ جس حساب سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اس حساب سے لوگوں کی آمدن کم ہو رہی ہے۔ جس ملک پر قرضوں کا بوجھ ہو۔ جی ڈی پی کم ہو رہی ہو، اس ملک کو چلانے والے عوام کے بجائے اپنے مفادکے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ عوام کے نام پر عوام کی دولت پر ہاتھ صاف کر رہے ہیں۔ 
پنجاب اسمبلی میں کل 371ارکان ہیں۔ ان میں سے وزیراعلیٰ ، سپیکر ،ڈپٹی سپیکر اور وزراء کی تعداد تقریباً 37ہے۔ کمیٹیوں کے چیئرمینز کی تعداد 44ہے۔جنھیں تقریباً اڑھائی لاکھ روپے ماہانہ ملیں گے۔ جب تنخواہوں میں اضافے کا بل منظور ہوا۔ اس وقت ایوان میں کل 179ارکان موجود تھے۔ باقی غیر حاضر تھے۔ اپوزیشن کی غیر موجودگی میں اپنی تنخواہوں میں اضافے کا قانون اتفاق رائے سے منظور کرانا عمران خان کی پنجاب حکومت کا کارنامہ ہے۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان کی بنیادی تنخواہ 18ہزار سے بڑھا کر 80ہزار کی گئی، رہائش کے لئے رقم 29ہزار سے بڑھ کر 50ہزار کی گئی، روزانہ کا الائونس ایک ہزار سے بڑھا کر چار ہزار کیا گیا، یوٹیلیٹی ا لائونس 6ہزار سے 20ہزار کیا گیا، مہمان داری خرچہ 10ہزار سے بڑھا کر 20ہزار کر دیا گیا، ٹیلی فون کی مد میں 10ہزار ملیں گے۔ یہ سب ماہانہ تنخواہ اور مراعات ہیں۔ جو پنجاب اسمبلی کے قانون سازوں کو ملے گی۔ عمران خان وزیراعلیٰ بزدار کی اسی وجہ سے تعریفوں کے پل باندھ دیتے تھے۔ جو عوام کی خدمت سے پہلے اپنی خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔ 
یہ درست ہے کہ پنجاب صوبہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ اس کے ارکان دور دور سے منتخب ہو کر لاہور آتے ہیں۔ انہیں رہائش اور دیگر اخراجات کرنے ہیں۔ دیگر اربوں روپے کے فنڈز بھی انہیں ملتے ہیں۔ ان فنڈز کا کچھ حصہ کسی نہ کسی مد میں مبینہ طور پر ان کی تجوریوں میں منتقل ہوتا ہے۔ مگر جس طرح پنجاب کے حکمرانوں نے چابکدستی سے کام کیا اور اپنی تنخواہ اور مراعات میں 133گنا اضافہ کر دیا، اس حرکت نے عوامی نمائندگی کا شاید حق ادا کیا ہو، مگر عوامی نمائندگی کے یہ سب دعوے خاک میں مل گئے ہیں۔ کیوں کہ یہ عوام کے نام پر اور عوام کے لئے ہوا ہے۔ یہ سراسر دھوکہ اور عوام سے فراڈ کے زمرے میں آنا چاہیے۔ پھر سیاستدان اور ملازم میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم خادم ہیں۔ خدمت رضاکارانہ ہو تی ہے۔ خدمت کا صلہ بھی کئی سو گنا زیادہ وصول کیا جا رہا ہے۔ یہ سیاستدان جو منتخب ہو کر ایوانوں میں آتے ہیں، اگر انہیں تنخواہ لینی ہے تو ملک میں ایک مزدور کی جو تنخواہ ہے، ، وہ وصول کرنے کے یہ حق دار ہو سکتے ہیں۔مگر مزدور کی ایک سال کی تنخواہ یا مزدوری ایک دن میں کیسے ہڑپ کر سکتے ہیں۔ عوام کے نام پر قانون سازی کرنے والے اپنے مفادت کو عوامی مفادات پر کیسے ترجیح دے سکتے ہیں۔ جب کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے کافی مال و دولت سے نوازا ہے۔ جب تک کسی کے پاس مال نہ ہو وہ الیکشن لڑ ہی نہیں سکتا۔ دوسرے لفظوں میں یہ سب سرمایہ کاری ہے۔ الیکشن اخراجات عوام کی جیبوں سے وصول کئے جاتے ہیں۔ وزیراعظم، وزیرا علیٰ یا کسی وزیر مشیر ، سپیکر کا مشاہرہ مزدور کے برابر ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں تو یہ سب ملک میں طبقہ بندی کے فروغ کے لئے عیاری و مکاری کہلایا جا سکتا ہے۔

تازہ ترین خبریں