09:40 am
تنخواہوں میں بھاری اضافہ، جشن اور شام غریباں!

تنخواہوں میں بھاری اضافہ، جشن اور شام غریباں!

09:40 am

٭پنجاب اسمبلی: ارکان کی تنخواہوں میں اضافہ ٹھپ، وزیراعلیٰ کو تاحیات مکان کا تحفہ واپس، وزراء کا یو ٹرن!O ’’میرانام جے آئی ٹی کی فہرست سے کیوں نہیں نکالا؟‘‘ بلاول زرداریO علمی ادبی، ثقافتی اداروں میں خزانے کی وسیع لوٹ مار O نیوزی لینڈ: کرائسٹ چرچ شہر کی دو مساجد میں جمعہ کی نماز پر فائرنگ، 49 جاں بحق، متعدد زخمی O عرب امارات کا ادھار تیل دینے سے انکار O بھارت میں چین کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم ۔
 
٭قارئین کرام! مجھے پنجاب کے سادہ مزاج وزیراعلیٰ کے ساتھ ہمدردی سی ہو رہی ہے۔ صبح کے وقت لاہور میں تاحیات کئی کنال پر مشتمل شاندار محل نما گھر ہاتھ آیا، شام سے پہلے ہاتھ سے نکل گیا! کیسی ان ہونی، ہو گئی! وزیراعظم عمران خان نے بتایا تھا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نہائت سادہ مزاج ہیں، سادہ زندگی گزارتے ہیں، ان کا ڈی جی خان کی ایک پسماندہ بستی میں گھر ہے جس میں بجلی بھی نہیں ہے! گزشتہ روز وزیراعلیٰ کی منظوری سے اسمبلی میں پیش ہونے والے تنخواہوں میں غیر معمولی اضافہ کے بِل پر حکومت اور اپوزیشن کے ایک دوسرے کے جانی دشمن ارکان وفور مسرت سے اچھلتے کودتے جشن منانے لگے، ایک دوسرے سے اس طرح جپھیاں ڈالیں، اور آپس میں گھل مل گئے، جیسے پانی میں پتاسہ گھل جاتا ہے۔ اس بل کی تفصیلات چھپ چکی ہیں۔ اس میں تنخواہوں میں سوا سو فیصد اضافہ کے علاوہ دو باتیں خاص طور پر ابھریں کہ ہر وزیراعلیٰ کو لاہور میں تاحیات اعلیٰ درجے کا گھر دیا جائے گااور یہ کہ تمام سابق ارکان اسمبلی اور ان کے اہل خانہ کو تاحیات مفت اعلیٰ علاج کی سہولت ملے گی! ظاہر ہے لاہور میں مفت اعلیٰ درجے کا گھر ملنے کی خبر پروزیراعلیٰ صاحب کے گھر میں بے پناہ خوشیوں کا میلہ شروع ہو گیا ہو گا! مگر چرخِ گردوں کو نہ جانے کیوں دم بھر کی یہ خوشیاں راس نہ آئیں! میڈیا میں شور مچا تووزیراعظم عمران خان نے ڈانٹ دیا کہ کیسا گھر؟ تنخواہوں میں کیسا اضافہ؟ یہ نہیں ہو گا! معیشت کی بدحالی آخری حدوں کو چُھو رہی ہے اور تم لوگ خزانے کو اندھا دھند بانٹنے لگے ہو! وزیراعظم نے گورنر کو بل پر دستخط کرنے سے منع کر دیا اور صاف صاف کہہ دیا کہ وزیراعلیٰ کو کوئی گھر نہیں ملے گا اور یہ کہ تنخواہوں وغیرہ کا بل وزیراعظم کو دکھا کر دوبارہ اسمبلی میں پیش کیا جائے! سو صبح شروع ہونے والا بیساکھی میلہ چند ہی گھنٹوں شام غریباں میں تبدیل ہو گیا۔ افسوس!صد افسوس! ایک پرانا شعر یاد آ گیا کہ ’’پھول تو دو دن بہار جانفزا دکھلا گئے، حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بِن کھلے مرجھا گئے!‘‘
٭ایک قانونی مسئلہ ابھر آیا ہے کہ یہ بل دوبارہ اسمبلی میں کیوں آئے گا؟ اسے ختم کیوں نہیں کیا جا رہا؟ آئین کے مطابق اسمبلی عام قانونی بل منظور کر کے حتمی منظوری کے لئے گورنر کو بھیجتی ہے، گورنر اسے منظور کر سکتا ہے یا اسے نظر ثانی کے لئے اسمبلی کو واپس بھیج سکتا ہے۔ اسمبلی اسے دوبارہ منظور کر لے تو گورنر دس دن کے اندر اس پر منظوری کے دستخط کرے گا۔ وہ ایسا نہ کرے تو یہ بل خود بخود منظور تصور کیا جائے گا اور نافذ ہو جائے گا۔ تاہم بجٹ اور دوسرے مالیاتی بلوں کا معاملہ مختلف ہے۔ گورنر دس دن تک اس کی منظوری روک سکتا ہے، لیکن آئین اس بارے میں خاموش ہے کہ دس دنوں میں منظور نہ ہونے کی صورت میں کیا کارروائی ہو سکتی ہے؟ اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اسمبلی خود ہی اس بل کی جگہ نیا ترمیمی بل لے آئے جس سے پہلا بل غیر موثر ہو جائے گی۔ گورنر آئینی طور پر بجٹ یا کسی مالیاتی بل کو اسمبلی میں واپس نہیں بھیج سکتا۔ موجودہ صورت حال پیچیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ یہ بل ختم، واپس یا منسوخ نہیں ہو سکتا تاہم وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ایک بات طے ہو گئی ہے کہ کسی وزیراعلیٰ کو عمر بھر کے لئے مفت سرکاری گھر نہیں ملے گا نہ ہی سابق ارکان اسمبلی کو تاحیات مفت علاج کی سہولتیں مل سکیں گی۔ ایسے موقع پر دُکھی لوگ ایک دوسرے کو دلاسہ دینے کے لئے ایک شعر پڑھا کرتے ہیں کہ’’آ عندلیب (بُلبُل) مل کے کریں آہ و زاریاں! تو ہائے گل پُکار، میں چِلّائوں ہائے دل!‘‘ بے چارے بے حد غریب، بے سہارا ارکان اسمبلی!!
٭بلاول زرداری نے پھر اسمبلی کے اندر پریس کانفرنس میں تین وفاقی وزراء شیخ رشید، شہریار آفریدی اور اسد عمر کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ الزام یہ کہ ان وزراء کے ’دہشت گرد‘ تنظیموں کے ساتھ رابطے رہے ہیں! اس پر وزیر ریلوے شیخ رشید نے فوری ردعمل ظاہر کیا ہے۔ بلاتبصرہ پڑھئے ’’بلاول پاکستان کے خلاف بھارت کی زبان بول رہا ہے، وہ بھارتی میڈیا کا ایجنٹ ہے‘‘
٭میاں نوازشریف کا ایک بیانیہ ایک عرصے تک میڈیا کا موضع بنا رہا کہ ’’مجھے وزیراعظم ہائوس سے کیوں نکالا؟‘‘ بلاول نے پریس کانفرنس میں بہت سی تلخ باتوں اور حکومت کو دھمکیوں کے بعد اپنے رنج و غم اور شدید غصے کو ایک جملے میں سمیٹ دیا کہ ’’مجھے سپریم کورٹ کی مقرر کردہ جے آئی ٹی کی فہرست سے کیوں نہیں نکالا؟‘‘ بلاول کو کیا پریشانی دکھائی دے رہی ہے؟ قارئین سب کچھ جانتے ہیں۔ میں صرف اتنا پوچھنا چاہتا ہوں کہ برخوردار، وہ وصیت کہاں ہے جس کی صرف چند سطروں کی رونمائی پر آپ کے والد پیپلزپارٹی کے مالک بن گئے؟ اور یہ کہ آپ اور والد صاحب بار بار دبئی کیا کرنے جاتے ہو، وہاں کیا کرتے ہو؟
٭نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد میں جمعہ کی نماز پرفائرنگ ہوئی۔ 49 افراد شہید متعددشدید زخمی ہو گئے۔ ایک مسجد میں وہاں کرکٹ میچ کھیلنے کے لئے جانے والی بنگلہ دیش کی ٹیم بھی موجود تھی۔ اس کے کھلاڑیوں نے بھاگ کر جان بچائی۔ اس واقعہ کے بعد کرکٹ کے باقی میچ منسوخ کر دیئے گئے۔ شہر میں کرفیو نافذ کر کے تمام تعلیمی ادارے اور دفاتر اور مارکیٹیں بند کر دی گئیں۔ نیوزی لینڈ کا شمار دنیا کے انتہائی پُرامن ممالک میں ہوتا ہے۔جہاں کبھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوا مگر یہ ملک بھی محفوظ نہ رہا! ابتدائی خبروں کے مطابق اس واقعہ میں تمام پاکستانی محفوظ رہے ہیں۔ کرائسٹ چرچ میں تقریباً 300 پاکستانی رہتے ہیں۔
٭گزشتہ کالم میں اُردو سائنس بورڈ لاہور اوراُردو لغت بورڈ کراچی کو اسلام آباد کے ادارے ادارہ فروغ قومی زبان (سابق مقتدرہ قومی زبان) میںضم کرنے کے بارے میں میرا اعتراض شائع ہوا ہے کہ دو چلتے اداروں کو ایک ناکارہ ادارے میں ضَم کر کے انہیں بھی ناکارہ کیا جا رہا ہے۔ اس پر بین الاقوامی سطح پر معروف سینئر استاد، متعدد علمی و ادبی کتابوں کے ادیب و دانش ور مرزا حامد بیگ نے بتایا ہے کہ ان متعدد اداروں پر سابق سیاسی وزیر عرفان صدیقی نے اپنے چہیتے مدح سرائوں کو لاکھوں روپے ماہوار پر ملازم رکھ لیاتھا۔ سائنس بورڈ، لغت بورڈ اور دوسرے اداروں کے چیئرمینوں کو فی کس ساڑھے پانچ لاکھ روپے اور فروغ قومی زبان کے ہر دور کے منظور نظر ڈائریکٹر جنرل (افتخار عارف) کو ساڑھے سات لاکھ روپے ماہوار دیئے جا رہے ہیں اور کام؟؟ اسی دور میں سرکاری ٹیلی ویژن کے بڑے عہدوں پر 20,20 لاکھ روپے ماہوار پر حکومت کے قصیدہ گو چوبدار بھرتی کر لئے گئے! مرزا حامد بیگ کے مطابق ان لوگوں کو گھر بھیجا جا رہا ہے تو اس کی حمائت کی جانی چاہئے۔
٭پنجاب اسمبلی کے کروڑ پتی ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری نے کہا ہے کہ ارکان اسمبلی موجودہ 83 ہزار روپے کی تنخواہ پرلاہور میں نہیں رہ سکتے! میں تائید کرتا ہوں کہ لاہور کے فائیو سٹار ہوٹلوں میں چائے کی دوپیالیاں 300 روپے میں، ایک وقت کا کھانا کم از کم دوہزار روپے میں، سکنجبین کا ایک گلاس 200 روپے میں (بازار میں 20 روپے میں) میں ملتا ہے۔ ظاہر ہے کیسے گزارا ہو سکتا ہے؟

تازہ ترین خبریں