07:59 am
بھارت کی عبرتناک شکست

بھارت کی عبرتناک شکست

07:59 am

او آئی سی آرگنائزیشن آف اسلامی کانفرنس نے جب بھارت کو اپنے اجلاس میں بلایا ۔تو بھارت خوشی سے پھولے نہ سمایا ۔پوری دنیا میں بھارت کی سفارتی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹا گیا اور اسے پاکستان کے خلاف اہم سمجھا گیا ۔ لیکن شومئی قسمت کہ‘ بھارت کو اسلامی ممالک کی کانفرنس میں نہ صرف عبرت ناک شکست ہوئی بلکہ ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے بھارت کو ایک قابض اور دہشت گرد ریاست قرار دیا گیا ۔مقبوضہ جموں وکشمیر کے نہتے اور مظلوم مسلمانوں کے قتل عام کا ذکر کرتے ہوئے بھارت کو ایک غیر ملکی قابض طاقت بھی قرار دیاجو اپنے مقبوضہ علاقے میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیا ں کرتے ہوئے انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کی مجرم ہے ۔ 
 
پاکستان کے خلاف سفارتی کامیابیوں کے ڈھنڈورا پیٹنے والے بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج جب یہ لیبل حاصل کرکے واپس اپنے ملک آئی تو اسے شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ۔مودی حکومت سکتے میں آگئی کہ پاکستان کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے باوجود کشمیریوں کے حق میں اس قرارداد کا متفقہ طور پر پاس ہونا اور اسلامی تنظیموں کو وہاں کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنے کی اپیل کرنا ۔کشمیریوں کی بہت بڑی بین الاقوامی سفارتی کامیابی ہے ۔اس سفارتی شکست پر بھارت کے انتہا پسندوں کو سانپ سونگھ گیا اور اپوزیشن پارٹیوں نے اسے حکومت نہیں بلکہ بھارت کی بین الاقوامی سفارتی ناکامی قرار دیا ۔ کانگریس کے لیڈر نے بھارتی حکومت کی شکست کا ذکر ان الفاظ میںبے نقاب کیا کہ سشما سوراج دہشتگردی کا ماتھے پر داغ لگوا کر آ گئی ہیں اقوام متحدہ کی کشمیر میں بھارتی مظالم کی رپورٹ کے چند ماہ بعد اسلامی تنظیم کی قرارداد بھارتیوں کو بے نقاب کرنے کیلئے ایک تازیانہ ہے ۔ بین الاقوامی برادری بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈا کے گھن چکر سے نکل رہی ہے ۔ وہ جان چکی ہے کہ پلوامہ کا سانحہ بھارتی حکمرانوں کے بھیانک کردار کا ایک مکروہ ڈرامہ ہے ۔ 
سانحہ ،گجرات، مدینہ مسجد ،چھٹی سنگھ پور ہ اور سمجھوتہ ایکسپریس کا دھماکہ ،ممبئی حملہ ،بھارتیوں کے مشہور بین الاقوامی ڈرامے ہیں ۔جنہیں کرکرے جیسے باضمیر اور دیانتدار افسرنے بے نقاب کیا۔ بی جے پی کے امیت شاہ نے مودی کی الیکشن میں کامیابی کیلئے اپنے تین سو سے زائد فوجیوں کی زندگی سے کھیلنے کا بھیانک کردار ادا کیا ۔اس کے باوجود مودی انتہائی ڈھٹائی سے کشمیریوں کے بغیر کشمیر کی بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پلوامہ حملہ پاکستان نے کروایا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس حملے پر جتنے بھی پاکستان مخالف بیان آئے غیر کشمیریوں کی طر ف سے آئے کسی کشمیری نے پاکستان کو اس حملے کے لیے مورد الزام نہیںٹھہرایا وہ اسے کشمیریوں کاجذبہء حریت اور اپنے ایک بہادر نوجوان کی بہادری اور جرأت ہی سمجھ رہے ہیں اور جب وہ خود اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں اور یہ اعتراف کرتے ہوئے بھارتی فوج اور بھارتی سرکار کے مظالم کی داستانیں بھی دہرا رہے ہیں تو پھر تو بھارت کو مان لینا چاہئے کہ اصل مجرم وہ خود ہے بلکہ اُسے ایسے کئی دوسرے واقعات کے لئے بھی تیا رہنا چاہئے کیونکہ آزادی کی خواہش کسی زندہ انسان کو کامیابی حاصل ہونے تک دم نہیں لینے دیتی اور بھارت کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک کشمیر آزادنہیں ہوگا آخری کشمیری بھی اس کے لئے مسائل پیداکرتا رہے گا۔ لہٰذا اُس کے لئے بہتر یہی ہے کہ اپنی فوج کشمیر سے واپس بلالے اور انہیں وہ حق خود ارادیت دے جس کے لئے اُس نے اقوام متحدہ کی استصواب رائے کی قرارداد پر دستخط کئے ہیں۔ اس کا یہ عمل نہ صرف اس کے مسائل کے حل میںمددگار ہوگا بلکہ پورے خطے میں امن کا باعث بنے گا۔کشمیر جنت بے نظیر میں آٹھ لاکھ سے زائد فوجیوں کی بربریت اورنسل کشی کے باوجود کشمیری قوم کا جذبہ حریت بے مثال اور جذبہ قربانی لازوال ہے ۔ان کا موت کا خوف ختم ہوچکا ہے ۔قابض فوج بدحواس ہو چکی ہے ۔
میںاو آئی سی کی قرار داد کا حصہ درج کر رہا ہوں جس میں شدید الفاظ میں بھارت پر تنقید کی گئی ۔  وہ کہتے ہیں ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی دہشتگردی کی موجودہ لہر جس میں صرف ماہ نومبر میں 48کشمیریوں کو شہید کیا گیا ۔ 2018ء مقبوضہ جموں وکشمیر کی تاریخ کا خونی ترین سال بن گیا ہے ۔ کئی دہائیوں کے بعد ایسا ہوا کہ ایک سال میں بھارتی فوج نے 450سے زائد کشمیری شہید کئے ۔
   ہم بھارتی وزیر اعظم سے پوچھتے ہیں ۔ ہم بھارتی وزیر خارجہ سے بھی پوچھتے ہیں ۔کیا یہ تمہاری سفارتی کامیابی ہے کہ اسلامی تنظیم کانفرنس نے بھارت کو ایک دہشت گرد ریاست قراردیا اور یہ کہ بھارت کشمیر میں ایک قابض ملک اور دہشت گرد ہے ۔ ریاست کا لیبل حاصل کیا ۔کیا یہ تمہاری عظیم سفارتی کامیابی ہے ۔؟

تازہ ترین خبریں