08:00 am
کس کا اسلام؟

کس کا اسلام؟

08:00 am

پاکستان کے حوالے سے یہ بات بار بار سامنے آتی رہتی ہے کہ جناب !کس کا اسلام آپ یہاں لانا چاہتے ہیں؟ مختلف مذہبی گروہ ایک دوسرے کو گمراہ ہی نہیں ، بعض تو ایک دوسرے کو کافر قرار دے چکے ہیں اور آپس میں جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اگرچہ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ چونکہ ہمارے ہاں حکمران طبقہ اپنے گھٹیا مفادات کو دوام دینے کے لئے یہ نہیں چاہتا کہ اسلام کی اصل حقیقت لوگوں پر آشکارا ہو لہٰذا بعض دانشور قسم کے لوگ اپنا فرض منصبی سمجھتے ہوئے یہ تاثر پھیلانے میں مصروف رہتے ہیں کہ اگر یہاں اسلام لانے کی کوشش کی گئی تو مسلمان ہمیشہ آپس میں لڑتے مرتے رہیں گے جس کے نتیجے میں ملکی ترقی اورنظم ونسق ٹھپ ہوکر رہ جائے گا۔لیکن بظاہر ایسے مخلص اور اسلام پسند حضرات کی بھی کمی نہیں جو بجا طور پر یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہاں اگر اسلام لایا گیا تو اس سے کیا مراد ہوگا؟ایسے حضرات کی خدمت میں سب سے پہلے تو یہ عرض ہے کہ ایک مسلمان کے پاس تو یہ اختیار سرے سے ہے ہی نہیں کہ وہ چاہے تو اسلام کا نظام قبول کرلے اور اگر حالات ایسے ہوں کہ اسلام خطرے کا باعث بن سکتا ہو تو وہ دوسرا کوئی موزوں نظام قبول کرلے۔مسلمان ہونے کا سیدھا سادھا مطلب یہ ہے کہ سوائے اسلام کے کسی دوسرے نظام کو قبول نہ کرے خواہ جان ہی کیوں نہ چلی جائے بلکہ اسلام کے قیام کے لئے مقدوربھر پوری زندگی کوشش کرتا رہے کیونکہ اسلام کے سوا ہر نظام باطل ہے مگر مسئلہ تو پھر وہی ہوا کہ کون سا اسلام؟اصل میں یہ بھی اپنے آپ کو دھوکہ دینے والی بات ہے کہ آدمی یہ کہہ کر مطمئن ہوجائے کہ چونکہ دینی راہنما خود ہی کسی ایک اسلام پر متفق نہیں لہٰذ ا میں کیا کرسکتا ہوں۔
 
 سوال یہ ہے کہ کیا ہر مسلمان کے لئے یہ لازم نہیں ہے کہ وہ دین کا حقیقی فہم حاصل کرے خاص کر پڑھے لکھے حضرات کے پاس اسلام کو نہ سمجھنے کا کیا جواز ہے؟اسلام میں کسی مخصوص مذہبی طبقے کا کوئی تصور نہیں اس لئے کہ اسلام مذہب نہیں دین ہے یعنی معاشرت، معیشت اورسیاست اسلام کے جزو لازم ہیںجس طرح کسی سیکولر ریاست میں ہر شہری برابر کے حقوق و فرائض کا حامل ہوتا ہے اسی طرح اسلام یا بالفاظ دیگر اسلامی ریاست میں ہر مسلمان برابر کا شہری ہوتا ہے‘نیز اسلام میں جس طرح پاپائیت یا ملائیت کا کوئی تصور نہیں اسی طرح اسلام میں نسلی یا پیدائشی مسلمان کا بھی کوئی تصور نہیں۔ایک اسلامی ریاست جو قوانین و ضوابط مرتب کرتی ہے، انہیں تسلیم کرنے اور ان پر عمل پیرا ہونے والا ہر شخص قانوناً مسلمان ہوگا(یہ طے کرنا اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بنیادی اساسات کیا ہیں جن کا اقرار کرنے سے کوئی غیر مسلم مسلمان ہوجائے گا اور انکار کرنے سے کوئی مسلمان غیر مسلم قرار پائے گا)۔
دوسری بات یہ ہے کہ مروجہ سیکولر نظام کو جب ہم اس بنا پر رد نہیں کرتے کہ اسے ماننے والی ہماری ہاں کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو غدار اور ملک دشمن کہتے نہیں تھکتیں اور کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ عملاً منسلک رہتے ہیں تو مذہبی جماعتوں کے اختلافات کو جواز بناکر اسلام سے کنارہ کشی اختیار کی ہمارے پاس کیا اخلاقی اور عقلی دلیل ہے۔جس طرح ملک میں موجودہ نظام کے تحت برے بھلے مختلف ادارے اپنا اپنا کام انجام دے رہے ہیں اسی طرح اسلامی نظام کے تحت بھی انجام دیتے رہیں گے۔دستور میں طے کردیں کہ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون سازی نہیں ہوگی اور اعلیٰ عدالتوں کو یہ اختیار حاصل ہو کہ وہ قرآن و سنت کے منافی کسی بھی قانون کو رد کرسکیں تو آپ عدالتوں میں جائیں اور ثابت کریں کہ فلاں قانون قرآن و سنت کے خلاف منظور ہوا ہے، اسلامی ریاست کے تقاضے پورے ہوجائیں گے۔
یہ یہاں یہ عرض کرنا بھی مناسب ہے کہ ایک مثالی اسلامی ریاست دیگر شے ہے۔اس کے لوازمات اور ہوں گے۔اس کے لئے معتد بہ تعداد میں ایسے لوگ ہونے چاہئیں جن کے پیش نظر دنیوی مفادات سے زیادہ رضائے الٰہی کا حصول اور اپنی نجات اخروی ہو اور وہ اسلام کی خاطر ہمہ وقت اپنا تن ، من اور دھن قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔یہ سمجھنا کہ اسلامی ریاست کا مطلب مذہبی طبقے کی حکومت، علماء کے ذریعے قانون سازی یا علماء کا قاضی مقرر کیا جانا ہے ،درست نہیں۔ممکن ہے اس پر یہ اعتراض وارد ہو کہ یہ سب کچھ جوں کا توں برقراررکھ کر صرف دستور میں قرآن و سنت کی بالا دستی کا اہتمام کرنے سے عملاً کون سی مثبت تبدیلی واقع ہوجائے گی۔
درست ہے کہ کوئی فوری تبدیلی رونما نہیں ہوگی لیکن تبدیلی کے لئے راہ بہرحال ہموار ہوجائے گی اور اجتماعی سطح پر ہماری دینی ذمہ داری بھی یہی ہے۔اس سے آگے افراد کا معاملہ ہے اور اس کا حساب کتاب آخرت میں ہوگا۔خلافت راشدہ کے بعد کتنی اسلامی ریاستیں ایسی ہوں گی جنہیں مثالی قرار دیا جاسکتا ہے لیکن انہیں کافر حکومتیں بھی نہیں کہہ سکتے جبکہ پاکستان کا معاملہ ہر لحاظ سے انوکھا ہے۔ہمارا آئین بنیادی طور پر سیکولر آئین ہے لیکن اس میں قرارداد مقاصد بھی شامل ہے۔ایک طرف محدود اختیارات کی حامل وفاقی شرعی عدالت ہے اور اس کے مقابل اعلیٰ ترین ملکی عدالت بھی ہے ،حدود بھی نافذ ہیں اور سود بھی رائج ہے۔اسلام کے ساتھ ہمارا یہ طرز عمل کفر اور شرک سے بدتر ہے۔
جہاں تک دہشتگردی اور لاقانونیت کے مسئلے کا تعلق ہے ،یہ سراسر حکومتی معاملہ ہے ۔حکومت بدعنوان اور نااہل ہوگی تو لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کریں گے ، خواہ وہ اسلامی حکومت ہو یا سیکولر ، اسے اسلام کے ساتھ مخصوص کرنا پرلے درجے کی بددیانتی ہی نہیں، حماقت بھی ہے۔
اس قسم کے سوالات ماضی میں بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں اور ان کا جواب مختلف مکاتب فکر کے 31علماء نے 22نکات پر مشتمل متفقہ نکات کی صورت میں اس وقت کی حکومت کو پیش کردیا تھا جو شائد کہیں سرد خانے میں پڑ ا ہو۔مسئلہ یہ ہے کہ جب ہمارے حکمرانوں کی یہ نیت ہی نہیں کہ وہ یہاں اسلامی نظام نافذ کریں تو اس معاملے میں پیشرفت کیوں کر ہوسکتی ہے۔بہرحال یہ مملکت خداداد ہے جس پر اللہ کی رحمت کا سایہ ہے ۔اسی کا کرم ہے کہ ملک قائم ہے۔ان شاء اللہ، اس مملکت کی منزل وہی کبھی نہ کبھی سر کروائے گا۔ہمیں اللہ کی ذات سے اچھی امیدیں وابستہ رکھنی چاہئے اس کے باوجود کہ مستقبل قریب میں امید کی کرن ہنوز نظر نہیں آتی۔

تازہ ترین خبریں